انمول رشتے”

اقراء اشرف(ظفروال)

والدین :
بہن بھائی:
دوستی

یہ تینوں رشتے انسان کی زندگی میں بہت اہمیت کے حامل ہیں ، ان میں سے ایک بھی بچھڑ جائے تو زندگی ویران سی لگتی ہے-
والدین وہ انمول رشتہ ہے جو ہر کسی کے پاس ہوتا ہے، یہ رشتہ ساری دنیا سے انمول رشتہ ہے، کڑی دھوپ میں ہماری چھاؤں کا سماں ہمارے والدین ہیں، اللہ پاک کسی سے اس عظیم رشتے کو الگ نہ کرے، اللہ یہ انمول رشتہ دے کے بھی آزماتا ہے اور لے کے بھی، اور جب وہ لے جاتا ہے تو پھر دیکھتا ہے کہ اس کے بندوں میں کتنا صبر ہے، والدین چیز ہی ایسی ہے کہ کوئی بھی اسے کھونا نہیں چاہتا، یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے بارے میں آپ(ص) نے فرمایا میں ” نماز میں بھی کھڑا ہوتا اور میری ماں مجھے پکارتی مجھے آواز دیتی تو نماز کے دوران ہی ان کی بات سنتا”-اتنی فضیلت ہے ماں باپ کی "سبحان اللہ”یہ وہ انمول رشتہ ہے جس نے ہمیں آج اس حال کو پہنچایا کہ ہم قلم پکڑ کے ان کی شان اقدس کے بارے میں لکھ سکیں ان کی عظمت کو بیاں کر سکیں ، والدین کے بارے میں لکھتے ہوئے ہمارے قلم کی سیاہی ختم ہو جائے, ہمارے ورق ختم ہو جائیں لیکن ان کی شان میں لکھنے والے الفاظ کبھی ختم نہیں ہوتے، یہ وہ رشتہ ہے جو اپنی اولاد کی تکلیف کو بن بتائے ہی سمجھ جاتے ہیں -اپنی اولاد کو ہر وہ چیز دیتے ہیں جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے ، اپنی اولاد کو سیدھے راستے پہ چلنے کی تلقین کرتے ہیں، صراط مستقیم کے رستے پہ چلنے کی ہدایات دیتے ہیں -"باپ وہ عظیم ہستی ہے جس کے پسینے کی ایک بوند کا بدلہ نہیں چکا سکتے ہم”-ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کی اک آہ! کا ہم ساری زندگی بھی بدلہ چکاتے رہیں تو نہیں چکا سکتے-
"میرے دل کی مسجد میں جب بھی تیری یادوں کی اذان ہوتی ہے اے ماں میں اپنے ہی آنسو سے وضو کر کے تیرے جینے کی دعا کرتی ہوں "-
قرآن پاک میں ارشاد ہے-
"رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا”
اے میرے پروردگار !ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی-(سورۃ بنی اسرائیل :24)

"ہے میرے سر پہ سایہ میرے والدین کا!!
تا حیات رہے یہ سایہ میرے والدین کا!!

بہن بھائی:
یہ ایک ایسا انمول رشتہ ہے جو دل,اور خون کا رشتہ ہوتا ہے، اچھے بہن بھائی ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں ، بھائی تو بہنوں کی جان ہوتے ہیں ,مان ہوتے ہیں، ان کے ہجر کا قیاس رلا دیتا ہے ایک دوسرے سے لڑنا ,جھگڑنا اور اتنا ہی پیار بھی کرنا یہی تو ہے بہن بھائی کا پیار، بھائی بہنوں پہ جان قربان کر دینے والے اور بہنیں بھائیوں پر ، بڑا بھائی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا اور چھوٹے جیسے پیارا کوئی نہیں ہوتا جو بہن سے ہر بات شئیر کرتا ہے چھوٹے بہن بھائی ایک دوسرے کے رازداں ہوتے ہیں-اللہ ہر کسی کو اس نعمت سے نوازے-آمین!!بہن بھائی کا ایسا انمول رشتہ ہے جو ہر کسی کو میسر ہوتا نہیں-یہ نعمت اور رحمت جس کے پاس ہو وہ کبھی بھی اس کو دکھ پہنچانے کی سوچ بھی نہیں سکتا ، بھائی اپنی بہنوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں بہنیں کبھی بھی اپنے بھائیوں کی دل آزاری نہیں کرتیں، ان میں سے ایک بھی رشتہ نہ ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا رک گئ ہو ہر چیز سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے جو بن کہے ایک دوسرے کی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں، بہنیں بھائیوں سے ہر فرمائش پوری کرواتی ہیں اور بھائی خوشی خوشی کر دیتے ہیں یہی تو بہن بھائی کا رشتہ ہے -ایسا انمول رشتہ جو جس کی خواہش ہر بھائی بہن کے لیے,اور بہن بھائی کے لیے کرتی ہے-اللہ پاک ہر کسی کو ایسے انمول رشتے دے-

"بھائی تو بہنوں کا مان ہوتے ہیں !
بھائی تو بہنوں کی جان ہوتے ہیں!

دوستی:
دوستی اک ایسا رشتہ ہے جو خون کا نہیں ,دل کا,احساس کا رشتہ ہوتا ہے-اچھے دوست کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے-ان کو کبھی بھی احساس کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی-یہ اک من چاہا رشتہ ہوتا ہے احساس سے بھر پور,محبت سے چور، یہ وہ رشتہ ہے جو بن کہے دل کی بات کو سمجھ جاتا ہے، ایک دوست کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھ کے جان جاتا ہے کہ یہ سونے کی وجہ سے لال ہیں یا کسی اور بات سے ،اسی احساس کے تحت جب دوست ,دوست کو گلے لگائے تو ہر وہ بات بھول جاتی ہے جو اسے دکھ دیتی ہے -اسی پل سکون میسر آ جاتا ہے دل کوجب دوست کے کندھے پہ سر رکھ کے سارے آنسو بہا ڈالو، یہ انمول رشتہ ایسا ہے جس سے ہم ہر طرح کی بات کر سکتے ہیں اپنے دل کا حال سنا دیتے ہیں اور پھر جب وہ ہم ٹوٹنے لگیں تو ہمیں ایسی ہمت دیتی ہیں کہ ہم خود پہ فخر محسوس کرتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں اتنا انمول رشتہ دیا، ہماری ہمت ,طاقت,رازداں, ہماری کامیابی کا راز ,ہمارا یہ انمول رشتہ ہوتا ہے-
"دوستی عطائے خداوندی ہے” برے دوستوں کی صحبتیں انسان کو برا بنا ڈالتی ہیں -ہر وہ کام برا کرنے کی تلقین کرتے ہیں جو ہمارے لیے حرام ہو-بری صحبتیں نشہ, چوری جیسے کاموں کی طرف راغب کرتی ہیں-
"آدمی اپنے دوست کے طریقے پر کار بند ہوتا ہے اس لیے دوستی سے پہلے دیکھ لینا چاہئیے کہ کس سے دوستی کی جا رہی ہے”(ابوداؤد)
اس لیے ہمیں چاہیے کہ اچھے دوست بنائیں-نیک دوستوں کی صحبت اختیار کریں تا کہ ہم زیادہ سے زیادہ نیکی کی طرف راغب ہوں –
آپ(ص)نے ارشاد فرمایا!!
"نیک ساتھی مشک بیچنے والے کی طرح اور برا ساتھی بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے”

وفادر دوست کسی کو ملتا نہیں
یہ گلاب ہر باغ میں کھلتا نہیں
تیری دوستی کے قابل تو نہیں تھی
لیکن تیرے جیسا دوست ملتا نہیں

Comments are closed.