نکاح کے سلسلے میں بعض قضاۃ کامشترکہ اعلامیہ اورچند قابل توجہ نکات

 

تحریر: ڈاکٹر سید عروج احمد، کھاچرود

 

اسلام دینِ فطرت ہے جو انسانی فطرت کے تقاضوں کی مکمل رعایت کرتے ہوئے نبوی طریقے سے عمل کرنے کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ نکاح بھی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ سنت ہے۔ جس کو ہمارے آقاؐ نے اپنی احادیث وعمل جس میں اپنی ازواج و بنات اور صحابہ کرام کے عقد نکاح کے ذریعہ امت کو بتلایا اور کرکے دکھایا ہے۔

ہر مسلمان کا اس پر ایمان ویقین ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے بہتر کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہوسکتا ہے۔

تفصیل سے قطع نظر یہ کہ کچھ مقامات کے قُضاۃ اور علماء کرام نے نکاح کے تعلق سے ایک فرمان جاری کیا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف مقامات سے جاری ہونے والے تمام گشتی اعلامیہ قریب قریب یکساں ہیں۔اور وہ سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں۔ اور عوام کی طرف سے ان کی خوب داد و تحسین بھی ہورہی ہے۔ خدا کرے کہ یہ اعلامیہ خود نمائی و ذاتی تشہیر و نمائش کے بجائے امت کی اصلاح کا ذریعہ ثابت ہوں۔ کیوں کہ سرسری نظر میں اس اعلامیہ میں غیر دانستہ یا دانستہ طور پر لڑکی والوں کے بوجھ کو کم کرنے کی ادنی کوشش بھی نظر نہیں آتی ہے۔ جب کہ شریعت محمدی علی رؤوس الاشہاد یہ اعلان کرتی ہے کہ۔۔۔ہم نے نکاح کو آسان بنایا اور شادی کے سلسلے میں لڑکی والوں پر بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ *ذرا سوچیے۔۔۔!*

کیا صرف بینڈ، باجے، ڈھول، تماشے اور ناچ، گانے ہی غیر شرعی ہیں؟ یا ان ساری خرافات کی ماں بارات (دولہا کا حملہ آور قافلہ) بھی؟

”بارات یا دولہا کی حملہ آور فوج“ مذکورہ بالا تمام مفاسد اپنے ساتھ لے کر آتی ہے۔ اور جب تک بارات رہتی ہے، لڑکی والے سہمے سہمے سے رہتے ہیں۔

اس ظالمانہ قافلے کا جواز شریعت کے کس مصدر وماخذ میں ملتا ہے؟

جس پر اعلامیہ میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

افسوس ہے کہ شادی و بیاہ کے سلسلے میں ہمارے ذمہ دار وتعلیم یافتہ طبقے کی نظر اتنے عریاں فساد و بگاڑ کی طرف نہیں گئی۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے واعظانہ وخیر خواہانہ اسلوب کے بجائے تحکمانہ بلکہ معاف کیا جائے معاندانہ انداز کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ کیا قوم اتنی باغی ہوچکی ہے کہ اس قسم کا انداز تکلم اختیار کیا جائے؟

اگربالفرض قوم اطاعت کی روش اختیارکرلے۔ تو اس اعلامیہ سے صرف اتنا فائدہ ہوگا کہ لڑکے والوں کا بوجھ کم ہوگا۔ جب کہ بارات وجہیز پر پابندی لگانے سے یہ ساری شیطانی خرافات تو رُکیں گی ہی۔ لڑکی والوں کےاوپر لادا ہوا ناجائز بوجھ بھی ختم یا کم ہوجائے گا۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ شادی کے سلسلے میں شریعت نے لڑکی یا لڑکی کے اَولیا پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں ڈالا ہے۔

نیز ہمارے معاشرے میں ”جہیز“ کا نفوذ جس قدر گہرائی تک قائم ہوچکا ہے۔ اس کی وجہ سے امت کی بے شمار بیٹیاں اپنے ہاتھ پیلے ہونے کا انتظار کرتی ہوئی بڑھاپے کی دہلیز پر پہونچ چکی ہیں۔ اور عمر کے اس پڑاؤ میں انہیں امید کی کوئی روشنی نظر نہیں آتی ہے۔ لڑکے والے جہیز کو لاٹری یا جیتی ہوئی جنگ سے حاصل شدہ مالِ غنیمت سمجھتے ہیں۔ جب کہ جہیز کو جمع کرنے میں لڑکی کے والدین اور اَولیاء کو جوانی میں ہی بڑھاپا آجاتا ہے۔

کیا یہ جہیز اسلام کی نظرمیں پسندیدہ و مطلوب ہے؟ یا یہ کھلم کھلا لوٹ کی مہذب شکل ہے؟

اس لوٹ کے خلاف ہمارے ذمہ دار حضرات کیوں سکوت اختیار کیے ہوئے ہیں؟

عام طور پر ہماری شادیوں میں مختلف قسم کے مظالم لڑکی یا اس کے والدین و اولیاء ہی پر ہوتے ہیں اور انہیں بارات کی ظلم و زیادتی کے ہمرشتہ اعزاء واقربا اور دوست واحباب کو بھی دعوت طعام میں بلانا ہوتا ہے۔ اگر نہ بلائے اور نہ کھلائے تو لوگ کئی پیڑھیوں تک اسے مطعون کرتے رہتے ہیں۔ مجبور غیرت مند شخص اس طرح کے لعن وطعن سے محفوظ رہنے کے لیے سودی قرضہ لے کر یا اپنی لازمی اشیاء کو گروی رکھ کر بارات و دیگر واردین کے پیٹ میں کھانا بھرتا ہے۔

کاش کہ اس اعلامیہ میں اس نامناسب اور غیر شرعی دعوت پر بھی لکھا جاتا۔۔!

اور اپنے کاپی پیسٹ فرمان جاری کرنے سے قبل پیارے آقاﷺ کی پاکیزہ سیرت کے معاشرتی وعائلی پہلو پر بھی غورفرما لیا گیا ہوتا؟

اور اپنے فرمان میں سنت وشریعت کی جانب سے پائی جانے والی ممنوعات میں سے یہ بھی لکھاجاتا کہ:

 

1. جس شادی میں بارات ہوگی۔

 

2.لڑکی والوں کی طرف سے کھانے کی دعوت ہوگی۔

 

3.جہیز لیا یا دیا جائے گا۔

 

4.مہر (حسبِ حیثیت) ادا نہیں کی جائے گی۔ اور۔۔۔

 

5.نکاح مسجد میں نہیں ہوگا۔

 

اس شادی کا نکاح نہیں پڑھایا جائے گا۔

گر میری یہ تلخ نوائی ذاتی طور پر کسی اذیت کا باعث ہو تو برائے مہربانی اپنے دامن عفو میں مجھے جگہ عنایت فرمائیں۔

اللہ تعالی ہمیں اور پوری ملت کو راہ راست پر چلنے و قائم رہنے کی توفیق ارزانی عطا فرمائے۔ اور شریعت محمدی سے کامل محبت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

Comments are closed.