افسانہ محبت

کومل ناز (دریا ننگل)
سیاہ رات، گہرے بادل، آنکھوں میں نمی لیے وہ معصوم سی کلی پاکیزہ ایک گڑیا کی طرح خوبصورت آسمان کو دیکھ رہی تھی۔جیسے وہ کچھ کہنے کی کوشش کر رہی ہو۔ جیسے اپنے الفاظ سنا رہی ہو۔ رات کو تنہا آسمان کی طرف دیکھ کے باتیں کرنا اس کا معمول تھا۔ عجیب ہے نا یہ دنیا؟ پاکیزہ خود سے سوال کرنے لگی؟ کتنا خوبصورت احساس ہے نا محبت؟ کسی کی فکر، چاہت، خود سے بڑھ کر محبت، احترام۔ کیا کچھ بنا دیتی ہے نا یہ محبت۔ ایک انسان اپنی انا کو خیر باد کہہ دیتا ہے اس محبت کے لیے۔ ہلکی ہلکی ہوا میں اس کے خوبصورت بال لہلہا رہے تھے۔ اس کے چہرے پر الگ سی مسکان نمودار ہوئی۔
بلاوجہ میرا اسے سوچنا، اس کا نام سنتے ہی مسکرا دینا، کبھی جو وہ پاس آئے تو دل کا بے قابو ہو کر دھڑکنا، اسے اپنا صرف اپنا سوچ کر زندگی کی ہر شام کو خوشگوار بنانا اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے ہر لمحے کو زندگی کے حسین لمحات میں شمار کرنا، بس اتنی سی ہے محبت اس سے۔ہر شام سُلگتی آنکھوں کے ساتھ ساتھ اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات کو یاد کر کے کیا فائدہ پاکیزہ؟ ایسا لگتا ہے کہ اس دنیا میں محبت کے بدلے صرف ہجر ہی نصیب میں لکھ دیا جاتا۔ کب تک آسمان سے باتیں کرنا اور اپنی اس ادھوری محبت کو ایک کامل محبت کا گمان رکھوں گی؟ محبتیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔ لیکن محبت تو محبت ہے چاہے مقدر میں ہجر لکھا جائے یا محبت مل جائے۔کبھی فرصت ملی تو اسے اس کا ہر وعدو یاد دلاؤں گی۔ اور پوچھوں گی کہ یہ وعدہ کیوں کیا تھا میرے ساتھ جب اسے نبھانے کی سکت نہیں تھی تم میں؟ یہ قسم کیوں کھائیں تھیں جب انہیں پورا کرنے کی ہمت نہیں تھی؟ لیکن کیسے پوچھوں گی؟ محبوب تو محبوب ہے اس کے سامنے جاتے ہی میں جو خود کو بھول جاتی ہوں اس سے یہ گلے کیسے کر پاؤں گی۔ بہت شکایات ہیں بہت ان کہی باتیں ہیں جو شاید ہی میں اس سے کر سکوں۔ ملاقات جب ہو تو خود کو سنبھالنے میں ہی سارا وقت گزر جاتا۔ وہ زمین کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔ آہ وہ اور اس کی یادیں کبھی جو سوچنے بیٹھوں تو وقت کا پتا ہی نہیں چلتا۔ اندھیرا چھانے لگا۔ اس نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس بھری۔ اور پھر لبوں پر میٹھی سی مسکراہٹ لیے محبت کو دل میں چھپائے ہوئے وہ چل دی۔

Comments are closed.