لوگ کیا کہیں گے

شفاجبین (سیالکوٹ)

 

ہماری زندگی میں بہت سے جملے ایسے ہوتے ہیں جو کہے نہیں جاتے جتاۓ جاتے ہیں بار بار ذہن کی چوکھٹ پر کھٹکھٹاۓ جاتے ہیں انہی میں سے ایک سخت ترین جملہ جس نے بہت سی زندگیاں بھی تباہ کی ہیں۔ اس جملے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر طرف دکھاوا ہی دکھاوا نظر آناشروع ہوگیا ہے اگر پوچھ لیں آپ ایسا کیوں کریں گے تو سننے میں آۓ گا اگر ایسا نہ کیا تو ”لوگ کیا کہیں گے“۔ ایک عورت نے شادی بیاہ میں ہزاروں روپے اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کررہی ہے اسے کہا جاۓ کہ فضول خرچی کیوںکر رہی ہو تو جواب آۓ گا اگر خرچہ نہ کیا تو ”لوگ کیا کہیں گے“۔

اور یہ ”لوگ“ آخر کون ہیں کیا کوٸی دوسری مخلوق ہے جو آکر ہمیں تنگ کرتی ہے اپنی مرضی سے جینے نہیں دیتی نہیں۔۔۔۔۔ یہ لوگ ہم ہی ہیں اگر ہماری نظر میں ”دوسرے“ لوگ ہیں تو دوسروں کی نظر میں ”ہم“ لوگ ہیں۔ اور یہی لوگ پریشانی کی انتہا تک پہنچا دیتے ہیں کچھ لوگ تو سہہ جاتے ہیں اور کچھ تو سہہ ہی نہیں پاتے اور اپنے دل و دماغ کے ساتھ تنہاٸی میں چلے جاتے ہیں۔ ڈیپریشن، اینگزاٸٹی ، اکیلا پن ان تمام ذہنی بیماریوں کی وجہ کون ہے صرف اور صرف یہ ”لوگ“ ۔

اور لوگ تو کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوتے اگر آپ خوش مزج ہیں تو کہیں گے کہ کیا ہر وقت کھی کھی لگاۓ رکھتی ہے سننے میں آۓ گا کہ فلاں کی بیٹی کو سواۓ دانت نکالنے کے آتا ہی کیا ہے۔ اور اگر آپ دکھی ہیں یا چپ بیٹھے ہیں یا آپ کی عادت ہی ایسی ہے کہ آپ سب کے ساتھ جلد گھلتے ملتے نہیں تو سننے میں آۓ گا کہ ”مغرور ہے“ اگر آپ برقعہ نقاب میں ہیں تو پھر ”پردے کی بوبو“ اگر آپ فیشن ایبل لباس میں ہیں تو ”بےشرم ، بے حیا“ ۔ اس طرح کی ہزاروں باتیں ہیں جن سے یہی ”لوگ“ کبھی خوش نہیں ہوتے۔ تو کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہمیں اس بات کی پرواہ بالکل نہیں ہونی چاہیے کہ ”لوگ کیا کہیں گے“

ہمیں اگر پرواہ کرنی ہے تو اس چیز کی کہ ”اللہ کیا کہے گا“ ہم اگر دنیا کی یا لوگوں کی پرواہ چھوڑ کر صرف اس چیز پر غور کریں گے کہ اللہ کو کیا پسند ہے ہمارے اللہ نے ہمیں قرآن میں جیسا بننے کا حکم دیا ہے ہمیں ویسا بننا ہے۔ ہماری پہلی ترجیح ”اللہ“ کی ذات ہونی چاہیے لوگ نہیں۔ ہمیں اپنے اعمال کو اس طرح بنانا ہے کہ جب ہمارا اعمال نامہ کھولا جاۓ تو ہم اپنے اللہ کے سامنے سرخرو رہیں۔ تب ہمیں کوٸی پریشانی نہ ہو کہ ”لوگ کیا کہیں گے“ لوگوں کا تو کام ہے صرف کہنا اور کرنا کچھ نہیں۔ بس ہمیں اپنی ذات سے شروع کرنا ہے خود یہ پرواہ چھوڑنی ہے کہ وہ کیسا ہے کیوں ہے ایسا کیوں کر رہا ہے آپ بھی تو دوسروں کے لیے ”لوگ “ ہیں نہ ۔ اگر ہر انسان خود اپنے آپ کو صرف اپنی ذات کی درستگی اور اپنے خاندان تک محدود رکھے تو اس جملے سے نجات مل سکتی ہے جو ہر وقت کانوں میں گھونجتا ہے کہ ”لوگ کیا کہیں گے“ قیامت کے روز یہ لوگ نفسا نفسی کے عالم میں ہونگے تو ہمیں اسی آخرت کی فکر کرنی ہے دنیا کی نہیں۔

Comments are closed.