"والدین”
طیبہ عباس(ظفروال)
والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت بلکہ بے بدل نعمت ہے اس نعمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی قدر کی جائے اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جائے۔ ماں ایک پھول جس کی خوشبو کبھی بھی کم نہیں ہوتی بلکہ دن بدن نکھرتی ہے ماں کیسا حسین رشتہ ہے ۔ماں اس ثمر اور درخت کو کہتے ہیں جس کا پھل کبھی کڑوا نہ ہو جس کا پھول کبھی مرجھائے نہ وہ پھول جو سدا خوشبو سے معطر اور منور رہے۔ ماں کی شان، آداب احترام اور عظمت کو بیان کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔ماں کے بعد باپ ہی کی شخصیت ہے جو اولاد کی حفاظت اور پرورش میں اثر انداز ہوتی ہے، اس کو تعلیم و تربیت دینے میں اور اس کو ہر طرح سے نکھارنے میں باپ کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے، اس کے خون پسینے کمائی اولاد کے لیے صرف ہوتی ہے، اسی طرح اولاد کے غم اور ان کی خوشی کو محسوس باپ ہی کرتا ہے۔ ماں کے بعد باپ بھی اپنی زندگی کا انمول حصہ اولاد کی نذر کردیتا ہے۔۔والدین کے اولاد پر بہت احسانات ہوتے ہیں کہ وہ پوری زندگی بھی ان کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتا۔والدین اولاد کے آرام وسکون کے لیے اپنے دن رات کا چین اور آرام و سکون قربان کر دینے ہیں۔خود تکلیف اٹھاتے ہیں اور اپنی اولاد کو تکالیف سے بچاتے ہیں۔والدین کی محبت بے غرص اور بے لوث ہوتی ہے ۔والدین ہمارا قیمتی اثاثہ ہے جن کے بغیر ہم نامکمل ہوتے ہیں ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا کہ مجھ پر خدمت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق بے کس کا ہے؟ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری ماں، پھر میں کہتا ہوں تمہاری ماں، پھر میں کہتا ہوں تمہاری ماں، اس کے بعد تمہارے باپ کا حق ہے، اس کے بعد جو تمہارے قریبی رشتہ دار ہوں پھر جو ان کے بعد قریبی رشتہ دار ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کا سایہ ہم پر قائم رکھے۔ اور انہیں لمبی عمر عطا کرے آمین۔اور جو سلامت نہیں انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
Comments are closed.