انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے
از قلم: زبیر ملک( ٹھل حمزہ، پنجاب پاکستان)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس دنیا میں بیجھا۔ اس کی تعظیم و تکریم کے مرتبے کو واضح کرنے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ اِس انسان کو باقی تمام مخلوقات پر برتری فقط دو چیزوں کی وجہ سے دی گئی ہے، عقل اور علم۔ اور پھر جس دنیا میں انسان کو بیجھا گیا وہاں دو طرح کے معاشرے روز اوّل سے جنم لیے ہوئے ہیں۔ ایک وہ معاشرہ جہاں عدل و انصاف کا نظام قائم ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ جہاں ظلم اور بربریت نے عروج پایا ہے۔ اور پھر یہ تو بلا شبہ عیاں ہے کہ کسی بھی معاشرے یا قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اخلاقی اقدار کے ساتھ امیر و غریب کے لیے یکساں قانون نا صرف بنایا جائے بلکہ بوقت ضرورت فوراً عمل میں بھی لایا جائے۔ ورنہ تباہی مع ذلت مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔ تو لازم ہے کہ عدل کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔
"وہ قوم کبھی زوال کا شکار نہیں ہوتی جس کی اوّلین ترجیح انصاف کی فوری فراہمی ہو۔”
(زبیر ملک)
انسان کو اعلیٰ ہی اس لیے بنایا گیا ہے کہ وہ علم و عقل کے عوض حاصل شدہ برتری کو اپنی تمام تر صلاحیتوں سے بروئے کار لاتے ہوئے دوسرے تمام انسانوں سے یکساں سلوک اور رواداری کے علمبردار ہونے کا عملی مظاہرہ پیش کرے۔ یہی چیز ایک انسان اور جانور میں تمیز کرتی ہے۔ اب انسانی معاشرے میں انصاف بھی دو طرح کا ہوتا ہے، ذاتی سطح پر اور اجتماعی سطح پر۔ اگر مطلوبہ عنوان کو مد نظر رکھا جائے تو اجتماعی سطح پر انصاف کی فراہمی پر زور دینے کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے اور یہی ترجیح ہے۔ جب بات اجتماعی سطح کی ہو تو ہمارے پاس بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں قومیں فقط عدل کے فقدان سے تنزلی کا شکار ہوئیں۔ اُس سے سبق سیکھنے کی بجائے افسوس کا یہ عالم ہے کہ عصر حاضر کا یہ ظالم معاشرہ لاچار، بے بس و بے سہارا لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ یہ ناکامی فقط فراہمی انصاف میں تاخیر کے باعث ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا نام نہاد، کھوکھلا عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بدعنوان وکلاء و جج صاحبان ہیں جو اپنے فرائض سے غافل ہوئے بیٹھے ہیں۔
اندھا بنا بیٹھا ہے اب وقت کا قاضی
کوئی جا کے دکھائے اُسے آئینہ ماضی
(زبیر ملک)
انصاف میں یہ تاخیر انصاف سے انکار نہیں تو اور کیا ہے کہ طاقتور کو گھناؤنے جرائم میں عینی شواھد موجود ہونے کے باوجود بھی رہائی مل جاتی ہے۔ لیکن غریب کے معاملے میں سنوائی کی تاریخ بھی عدالت سے سالوں بعد ملتی ہے جب وہ اس جہانِ فانی سے بھی کوچ کر چکا ہوتا ہے۔ درحقیقت موجودہ عدالتی نظام ایک ناسور ہے جس نے انسانی معاشرے کو حیوانی معاشرے سے بھی بدتر بنا دیا ہے۔ یہ بے رحم دنیا کے اس بے رحم قانون نے مظلوم کی آہ و پکار کو بھی اِس حیوانیت سے دفن کیا ہے کہ عدالتوں کے قاضی اُن کی فریاد سننے سے بہرے ہو چکے ہیں۔ جہاں انصاف میں تاخیر اس قدر بڑھ جائے کہ ایک عام آدمی کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے اور وہیں ظالم اور منکرین عدل سر عام دندناتے پھریں، تو ایسے معاشرے پر، ایسی قوم پر حیف ہی کیا جا سکتا ہے۔
"انصاف کے دوہرے معیار کا قیام نہ صرف عدل سے انکار ہے بلکہ ظلم و زیادتی کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے”
(زبیر ملک)
Comments are closed.