لڑکیوں کو جہیز نہیں وراثت دیجیے۔
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
اسلام میں خواتین کی عزت و منزلت کا عالم یہ ہے کہ اسے زندگی کے کسی درجہ میں مرد سے کمتر، سماج سے دور نہیں سمجھا گیا، زمانہ جاہلیت میں عورت کا کیا مقام تھا، صرف یہ کہ وہ ایک سامان بن کر رہ گئی تھی، اگر اس کے شوہر کا انتقال ہوجاتا تو اسے گھریلو اشیاء کی طرح تقسیم کرلیا جاتا تھا، جاہلی دنیا کی رسوم اور ان کی حیثیت پڑھنے اور جاننے والے فطرت سے قریب لوگ خون کے آنسو روتے ہیں، اسلام ہی نے انہیں ایک جان، مستقل حیات اور انسانی دنیا کا سب سے اہم کردار قرار دیا، اسے فرش سے اٹھا کر عرش تک پہنچا دیا؛ بالخصوص ناجائز رسم و رواج پر قدغن لگا کر اسے خاندانی نظام اور وراثت میں حصہ دیا، اسے کسی کی رہین منت نہیں بنایا بلکہ ایک مستقل ذات قرار دیا، اس کی معاشی ضرورتوں کا خیال رکھا اور اس کی کفالت اس طور پر مقرر کی کہ زندگی کے کسی لمحے میں بھی وہ معذور نہیں ہوسکتی، ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے میدان تجارت سے روکا بلکہ جائز حدود میں رہتے ہوئے اسے امپائر کھڑا کرنے کی بھی اجازت دی؛ یہی وجہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک بڑی تجارتی امپائر کی مالیت رکھتی تھیں، ان کا سامانِ تجارت جب مکہ میں داخل ہوتا تھا تو لوگوں کا تانتا لگ جاتا تھا اور ایک بازار سَج جاتا تھا، اس سے بڑی بات کیا ہوگی کہ قرآن مجید میں ایک مستقل سورہ کا نام ”نساء“ خواتین پر ہے، مزید یہ کہ جن مسائل میں اسلام نے سب سے زیادہ کھول کھول کر بات کی ہے ان میں مسائل وراثت بھی ہے؛ تاکہ کوئی بھی ان کے حقوق میں اجتہادی نشتر نہ لگا سکے، یہ تمام احکام قرآن مجید کی چوتھی سورہ النساء کی آیات ٧ تا ١٤/اور ١٧٦/ میں مذکور ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:” مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔“ (النساء:٧)
غور کرنے کی بات ہے کہ قانون وراثت میں مردوں کا بیان خواتین کے ذیل میں ہے، ظاہر ہے کہ وہ صنف نازک ہیں اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش زیادہ کی جاتی ہے، وارثین میں تین خواتین ایسی ہیں جو کسی بھی حال میں بالکلیہ میراث سے محروم نہیں ہوتیں اور نہ کوئی کبھی بھی کرسکتا ہے۔ وہ ہیں ماں، بیوی اور بیٹی۔ اس کے علاوہ مختلف صورتوں میں پوتی، حقیقی بہن، باپ شریک بہن، ماں شریک بہن اور دوسری خواتین بھی حصہ پاتی ہیں؛ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ تقسیمِ میراث کے متعدد حالات ایسے ہیں جن میں عورت کا حصہ مرد کے برابر ہوتا ہے اور ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ مثلاً میت کے وارثین میں اگر اس کی اولاد بھی ہو اور والدین بھی تو ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ (النساء :١١)
افسوس کی بات ہے کہ آج مسلم سماج میں وراثت کا وہی حال ہے جو کبھی زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا، اب خواتین کا حق لوگ یوں ہی مار جاتے ہیں اور کوئی اُف تک نہیں کرتا، خاص طور پر عام مسلم گھروں میں لڑکیوں کا حق لوگ بھول ہی چکے ہیں، شادی بیاہ میں ناجائز رسوم اور جہیز کی لعنت میں اس قدر مگن ہوچکے ہیں کہ ساری رقوم ان میں ہی خرچ کردینے کو مردانگی اور حق سمجھتے ہیں، ہندوانہ سوچ کا یہ عالم ہے کہ مسلمان گویا کَنِّیا دَان پر یقین رکھتے ہیں؛ کہ لڑکیاں اگر ایک بار شادی کر کے گھر کی دہلیز عبور کر گئیں تو دوبارہ ان کی لاش ہی وہاں سے نکلنی ہے، اس سوچ نے مسلم سماج کو کھوکھلا اور مردہ کردیا ہے، ان کا وہ امتیاز گم کردیا ہے جس سے وہ دیگر مذاہب اور ملت پر فوقیت رکھتے تھے، اب خواتین ان کے نزدیک بھی ایک بوجھ بن کر رہ گئی ہیں، تو وہیں ایک طبقہ مسلمانوں کے نظام وراثت پر حملہ آور ہو کر یہ کہتا ہے کہ اس نے خواتین کو مردوں سے کم سمجھا ہے اسی لئے انہیں مرد کے مقابلہ میں نصف حصہ دیا، چناں چہ اب دنیاوی قوانین نے مساوات کا اعلان کردیا ہے، عجب افراط و تفریط کا سامان ہے، فطرت سے دوری اور ہٹ دھرمی کی بات ہے، سماج میں مرد اور خواتین کی حیثیت اور ان پر معاشی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے والی بات ہے، اس سلسلہ میں مخدومی مولانا ڈاکٹر رضی الاسلام صاحب ندوی مدظلہ کی بڑی متوازی تحریر سوشل میڈیا پر موجود ہے، یہاں ایک قیمتی اقتباس پیش خدمت ہے، آپ رقم طراز ہیں: "انسانوں کے بنائے ہوئے قانون اعتدال، توازن اور فطری تقاضوں کی رعایت سے محروم ہوتے ہیں اور ان میں بڑی افراط و تفریط پائی جاتی ہے اس کا مظہر یہ ہے کہ کہاں تو پہلے عورت وراثت سے محروم تھی اور کہاں اب اسے مرد کے برابر کا حق دار بنا دیا گیا ہے اور چوں کہ اسلام میں تقسیمِ وراثت کی چند مخصوص حالتوں میں عورت کاحصہ مرد کا نصف ہوتا ہے، اس لیے اس پر اعتراض کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے اور اس کا حصہ مرد سے کم متعین کر کے اس کی حق تلفی کی ہے۔ حالاں کہ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وراثت کی بعض صورتوں میں عورت کا حصہ مرد سے کم ہونے کا سبب نظامِ معاشرت میں دونوں کی مخصوص پوزیشن ہے۔ اسلامی نظام معاشرت میں کمانے، گھر کا خرچ چلانے اور ماتحت افراد کی مالی کفالت کرنے کی ذمہ داری مرد پر عائد کی گئی ہے، جب کہ عورت کو معاشی جدّ و جہد سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ بچپن میں اس کی کفالت باپ کے ذمے ہے، جوانی میں شادی کے بعد شوہر کے ذمّے اور بڑھاپے میں اولاد کے ذمے۔ وہ جس قدر مال کی مالک بنتی ہے سب اس کے پاس محفوظ رہتا ہے، دوسروں پر خرچ کرنا اس کی ذمہ داری نہیں؛ لیکن مرد جو کچھ مال حاصل کرتا ہے اسے زیرِ کفالت افراد پر خرچ کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اس بنا پر یہ بات قرینِ انصاف ہے کہ مرد کا حصہ عورت کا دوگنا رکھا گیا ہے۔ اگر دونوں کا حصہ برابر کردیا جاتا تو یہ مرد کے ساتھ ناانصافی ہوتی؛ یہی وجہ ہے کہ جن صورتوں میں مرد کی معاشی ذمہ داریاں کم یا ختم ہوجاتی ہیں ان میں تقسیم میراث کے معاملے میں عورت اور مرد کے درمیان فرق نہیں کیا گیا ہے۔ مثلاً میت کی اولاد ہو اور اس کے ماں باپ بھی ہوں تو میراث میں ماں اور باپ ہر ایک کا چھٹا حصہ مقرر کیا گیا ہے؛ اس لیے کہ جس شخص کی اولاد بھی صاحبِ اولاد ہو اس کی معاشی ذمہ داری بڑی حد تک کم یا بالکل ختم ہوجاتی ہیں، اس کی حیثیت بالعموم اپنے پوتوں پوتیوں کے سرپرست کی ہوتی ہے ، لیکن اگر میّت کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کا باپ صاحبِ اولاد ہو (یعنی میّت کے بھائی بہن ہوں) تو اس صورت میں اس (یعنی میّت کے باپ) کی معاشی ذمہ داری ہوسکتی ہے۔ اسی وجہ سے باپ کا حصہ ماں سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ (ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دو تہائی ملتا ہے)۔“
Comments are closed.