نکاح سے پہلے منگیتر سے فون پر بات کرنا شریعت کی نگاہ میں

 

 

تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

 

منگنی نکاح کا وعدہ ہے، نکاح نہیں ہے، منگنی کرنے کے بعد منگیتر بھی دیگر اجنبی لڑکیوں کی طرح نامحرم ہوتی ہے، اور نامحرم لڑکی سے تعلقات رکھنا، ملنا جلنا، اور ہنسی مذاق یا بغیر ضرورت بات چیت کرنا جائز نہیں ہے، اور میسج پر تعلقات رکھنے کا بھی یہی حکم ہے، نکاح سے قبل لڑکا لڑکی کا آپس میں اختلاط کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔ نکاح سے پہلے لڑکا اپنی منگیتر کے لئے غیر محرم ہی رہتا ہے اور غیر محرم سے خلوت و تنہائی اختیار کرنا میل جول بڑھانا سراسر حرام ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”و من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلا یخلون بامرۃ لیس معھا ذو محرم منھا فان ثالثھما الشیطان“ جو شخص اللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے جس کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو، کیوں کہ (ایسی صورت میں) دونوں کا تیسرا (ساتھی) شیطان ہوتا ہے۔“

ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ منگنی ایک طویل زمانہ تک چلتی رہتی ہے اور مرد و زن منگنی کے بعد ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہتے ہیں اور اس میں کسی قسم کی قباحت محسوس نہیں کرتے، بلکہ ان کے خاندان والے بھی اس کو عار نہیں سمجھتے، حالانکہ شرعاً یہ بالکل ناجائز ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی منگیتر سے موبائل وغیرہ پر میاں بیوی والی باتیں کرتا ہے تو قطعاً حرام ونا جائز ہوگا- (فتاوی رحیمیہ: 151، جلد 8 ) (تنویر الابصار مع الدروالرد، کتاب النکاح: 4/ 68،69 مکتبہ زکریا دیوبند)

شریعت کا حکم ہے کہ جب جوڑ کا خاوند مل جائے تو نکاح میں جلدی کرنے کا حکم ہے ارشاد نبوی ہے: ”و تزویج البکرہ اذا ادرکت“ اگر گھر میں جوان بچی موجود ہے اور اس کے لئے مناسب رشتہ بھی موجود ہے تو اس کے نکاح میں جلدی کرو اور اسے مؤخر نہیں کرو؛ کیوں کہ بسا اوقات نکاح اور ازدواجی بندھن سے پہلے ہی غیراخلاقی اور غیرقانونی روابط پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں یا تو وہ ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں یا ایک دوسرے میں ان کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔ اس عدم دلچسپی کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان کوئی رشتہ پنپ نہ پائے گا۔ ایسے کئی واقعات سماج میں ہو رہے ہیں۔ ہر حالت میں عورت کا ہی نقصان ہوتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے شادی یا عقد نہ ہوسکا تب بھی لڑکی ہی زیادہ نقصان کا سامنا کرتی ہے۔ اس پر ہمیشہ کے لئے لڑکوں کے ساتھ گلی گلی گھومنے پھرنے والی اور بدچلن کا ٹھپہ لگ جاتا ہے۔

شریعت مطہرہ کا بھی یہی حکم ہے کہ جب تمہارے پاس وہ شخص رشتہ بھیجے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو تم اس کے ساتھ لڑکی کا نکاح کر دو، اگر تم ایسا نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پھیلے گا۔

ایسی کسی بھی صورتِ حال سے بچنے کے لیے شریعت نے حکم دیا ہے کہ نکاح میں جلدی کی جائے۔ (سنن ترمذی: رقم 1084)

Comments are closed.