جہیز کے سلسلے میں حیران کن انکشافات
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
اس وقت ملک بھر میں جہیز و تلک کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے، آسان نکاح کے موضوع پر علماء کرام اور انٹلیکچول افراد گفتگو کر رہے ہیں؛ بالخصوص مسلم پرسنل لا بورڈ بڑی حد تک متحرک نظر آرہا ہے، مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک بیماری جڑ پکڑتی گئی، معاشرے کو تباہ و برباد کرتی گئی، مسلم بچیوں کی زندگیوں کو بے چین کرتی گئی؛ مگر اجتماعی طور پر کوئی مضبوط تحریک کیوں نہیں چلائی گئی؟ نیز یہ جان کر حیرانی ہوتی ہے کہ جن علاقوں میں علماء کرام کی تعداد زیادہ ہے، مسلم جماعتوں کی بھرمار ہے وہاں پر سب سے زیادہ اس زہر کا اثر ہے، بہار امارت شریعہ پٹنہ کا نام سنتے آئے ہیں، اس کی اہمیت و خدمات پر دفاتر تیار کیے جاتے ہیں، وہاں کے ذمہ دار امیر شریعت کہلاتے ہیں؛ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ تلک جیسی ناسور رسم سب سے زیادہ اور خطرناک صورت میں وہیں پائی جاتی ہے، اور نکاح پڑھانے والے اسی امارت کی طرف سے متعین کردہ افراد ہوتے ہیں، فی الوقت جب عموماً صوبوں اور شہروں میں قُضاۃ و مفتیان اور اصحابِ دانش یہ فیصلے جاری کر رہے ہیں کہ اس طرح کی شادیوں میں نکاح نہیں پڑھانا ہے، ان کا بائیکاٹ کرنا ہے، ایسے ماحول میں بھی امارت کی طرف سے خاموشی ہے، اور صرف ویبنار و سیمنار اور جلسہ جلوس کی حد تک باتیں ہیں:
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
بہرحال یہ خوش آئند بات ہے کہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھا جارہا ہے، اس موقع پر جہیز کے سلسلے میں کچھ کڑوے حقائق پیش کیے جاتے ہیں؛ تاکہ جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے اور اسے معمولی گردانتے ہیں وہ بھی ہوش کے ناخن لیں اور اپنی ذمہ داریاں سمجھیں، اسے وقتی مسئلہ یا فرد خاص سے جوڑ کر نہ دیکھیں! خیال رہے یہ استاد محترم فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ کے ایک مضمون سے ماخوذ ہے۔ آپ فرماتے ہیں؛ کہ آج جو چیزیں شادی بیاہ کے معاملے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، ان میں سرفہرست جہیز اور گھوڑے جوڑے کا مسئلہ ہے، اس رواج نے سماج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، اس کا سب سے شرمناک پہلو محض جہیز کے لئے شادی شدہ عورتوں کو جلانے اور ہلاک کرنے کے واقعات ہیں، یکم اگست ۱۹۹۱ء کی بی، بی، سی کے ایک نشریہ کے مطابق ۱۹۸۸ء تا ۱۹۹١ء میں گیارہ ہزار سے زیادہ ہندوستان میں جہیزی اموات کے واقعات ہوئے ہیں، ۱۹۹۴ء میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر دن جہیز کے مسئلہ کی وجہ سے سترہ اموات واقع ہوئی ہیں، ۱۹۹۷ء میں چھ ہزار سے زیادہ جہیزی اموات کے واقعات ہوئے، ۱۹۴۷ء سے چالیس سال کے عرصہ میں بہتر ہزار نوجوان عورتیں ہندوستان میں جہیز کی نزاع کی وجہ سے مار ڈالی گئیں۔ (دیکھیے: ماہنامہ ہدایت، جے پور ، جلد : ۸ ، شمارہ : ۹، صفحہ : ۲۵- ۲۶)
جہیز کے اس ناروا رسم و رواج نے جسم فروشی کو بھی بڑھاوا دیا ہے، ایک سروے کے مطابق ملک میں گیارہ سو ایسے علاقے ہیں جو جسم فروش کے لئے بد نام ہیں، ۲۳ لاکھ عورتیں پیشہ ورانہ طور پر اس بُرائی میں مبتلا ہیں اور ان کے بچوں کی تعداد اکیاون لاکھ ہے، سروے کے مطابق ہر سال ۲۵ ہزار لڑکیاں اس حیا سوز پیشہ میں داخل ہو رہی ہیں۔ (سہ روزہ دعوت ، نئی دہلی ۱۶ ؍ اپریل ۱۹۹۹ء)
اسی طرح لڑکیوں کی قبل از پیدائش قتل کا سلسلہ بھی روز افزوں ہے، اسی لئے جنوری ۱۹۹۶ء میں دورانِ حمل جنس کی شناخت کی غرض سے الٹراسونو گرافی پر پابندی عائد کی گئی؛ لیکن کتنے ہی جوڑے ہیں، جو اس پابندی کو خاطر میں نہیں لاتے؛ چنانچہ ہندوستان میں ہر سال ایک کروڑ بارہ لاکھ اسقاطِ حمل کے واقعات ہوتے ہیں، اور ان واقعات میں ہر سال بیس ہزار عورتیں موت کا شکار ہوجاتی ہیں، ( اسلامی نظام معاشرت اور جہیز کی رسم ، عمر حیات غوری، صفحہ : ۵۲)
یہ اسقاطِ حمل کے واقعات زیادہ تر ناجائز حمل اور قبل از وقت لڑکیوں کی شناخت سے متعلق ہیں۔
راجستھان کے اضلاع باڑمیر، جیسلمیر نیز ملک کے بعض دوسرے علاقوں میں پیدائش کے بعد بھی ہفتہ دس روز کے اندر لڑکیوں کو زہر کھلا کر یا کسی اور طرح مار ڈالنے کا رواج ہے؛ چنانچہ راجستھان کے ضلع باڑمیر کے دیوارا گاؤں میں ایک عجیب واقعہ یہ پیش آیا کہ ۱۹۹۹ء میں وہاں ایک سو دس برسوں کے بعد ایک بارات آئی، (سہ روزہ دعوت، نئی دہلی، ۴؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء )
کیا اس جدید جاہلیت نے قدیم جاہلیت کو بھی شرمسار نہیں کردیا ہے؟ یہ فحاشی، تجرد کا رجحان، اور لڑکیوں کے قتل وغیرہ کے واقعات کے لئے ایک اہم محرک یہی جہیز اور گھوڑے جوڑے کی بلا ہے، ایک طرف ملک میں غریبوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے، اور دوسری طرف ایک طبقہ داد عیش دینے اور اس عیش کے اظہار و نمائش میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے کوشاں ہے،بمبئی کے وان کھیڑے اسٹیڈیم میں ۱۹۹۰ء میں ایک تقریبِ شادی منعقد ہوئی، جس میں تیس ہزار لوگوں نے شرکت کی اور بتایا جاتا ہے کہ ہیرے جواہرات کے ایک تاجر نے اسی بمبئی میں اپنی بیٹی کی شادی پر تیس کروڑ روپے خرچ کیے۔ (سہ روزہ دعوت ، نئی دہلی ، ۱۶ ؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء)
ممتاز قائد جے للیتا کے منھ بولے بیٹے کی شادی کی مدہوش کر دینے والی تقریبات اور روشنی اور آواز کا سیلاب شاید ابھی تک لوگوں کو یاد ہو ، بعض ایسی شادیاں بھی اخبارات کے صفحات پر آچکی ہیں جن میں پورا ہوائی جہاز شادی کے لئے ریزرو کیا گیا- ایک ایسا ملک جس میں لاکھوں انسان بھوکوں پیٹ سو جاتے ہوں اور ہر روز ہزاروں مریض اپنی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اس لئے جان دے دیتے ہوں کہ ان کے پاس دوا و علاج کے لئے کوئی پیسہ نہیں ، ایسے سماج میں ایک طبقہ کا اس طرح داد عیش دینا انسانیت کے ساتھ کیسا مذاق ہے؟ (جہیز کی ظالمانہ رسم اور ہماری ذمہ داریاں- ١٦/٠٣/٢١٢١)
اس سلسلے میں دوطبقے کی ذمہ داریاں سب سے زیادہ ہیں، ایک تو علماء اور مشائخ کی، کہ وہ ایسی تقریبات میں شرکت سے گریز کریں، جن میں لین دین کی بنیاد پر نکاح کیا گیا ہو اور غالباً ان کا یہ فعل منشا شریعت کے بھی مطابق ہوگا، دوسرے قوم کا متمول اور صاحبِ ثروت طبقہ جو اسراف اور فضول خرچی پر قادر ہے، اس کے باوجود وہ شادی بیاہ کی تقریب کو سادگی سے انجام دے تو فضول خرچی کی یہ دوڑ کم ہوگی اور متوسط اور غریب گھرانوں کے لئے اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے گا، سال ڈیرھ سال پہلے شہر کے ایک بڑے مسلم صنعت کار نے سادہ طریقہ پر اپنی لڑکی کی شادی کی رسم انجام دی ، اخبارات نے بھی اس پر بڑی مسرت کا اظہار کیا اور مختلف حلقوں پر اس کا اچھا اثر پڑا- کاش! ہم سماج کی اس مجبوری کو محسوس کریں اور حقائق کی کڑواہٹوں کو نہ صرف گوارا کریں؛ بلکہ ان کو سامنے رکھ کر اپنے حالات میں کچھ انقلابی تبدیلیاں لائیں۔ (جہیز کی ظالمانہ رسم اور ہماری ذمہ داریاں- ١٦/٠٣/٢١٢١)
Comments are closed.