ٹرمپ، بائیڈن اور امریکہ کی دشواریاں
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
سابق صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر جیسن ملر نے اتوار کے روز فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ کے سابق صدر ’’اپنے پلیٹ فارم‘‘ کے ساتھ دو سے تین ماہ میں سوشل میڈیا پر واپس آجائیں گے؛ فاکس نیوز نے رپوٹ کیا ہے کہ ملر نے ٹرمپ کے اپنے پلیٹ فارم کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں؛ لیکن انہوں نے دعوی کیا ہے کہ یہ ’’بہت بڑا ہونے والا ہے‘‘ اور ’’لاکھوں لوگوں‘‘ کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ ٹرمپ فلوریڈا میں واقع اپنے ریزورٹ میں ’’اعلی طاقتی اجلاس‘‘ کر رہے ہیں اور ’’متعدد کمپنیاں‘‘ ان سے پہلے ہی رابطہ کر چکی ہیں؛ دراصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ ایک قصہ نہیں بلکہ وہ ایک تاریخ ہے، ایک ایسی تاریخ جو بانجھ نہیں ہے، جس کا ثمرہ وقت بہ وقت سامنے آتا رہے گا، یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی انانیت اور جنون؛ نیز اپنی خود اعتمادی بلکہ کہنا چاہیے خودسری کی وجہ سے جو بائیڈن کی صدارتی حلف برداری میں شرکت نہیں کی؛ یہی نہیں انہوں نے اجلاس سے کچھ ہی وقت پہلے وائیٹ ہاؤس کو الوداع کہا، جس میں ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کا ایک خاص انداز تھا جو سابق ادوار میں کبھی نہیں دیکھا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ رخصت ہوتے ہوئے بھی انہوں نے یہی بات کہی تھی کہ وہ بہت جلد کسی نہ کسی شعبہ میں واپسی کریں گے، اس سے پہلے وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکی عوام دُعا کریں کہ بائیڈن کی حکومت قائم رہے، یہ صاف اعلان ہے کہ ٹرمپ نے اب تک شکست تسلیم نہیں کی ہے، اگر واشنگٹن ڈی سی پر کیے گئے ہنگامے کا اثر نہ ہوتا تو شاید بات اور بڑھتی، ٹرمپ اپنی مزید ہٹ دھرمی دکھاتے، سازشیں کرتے اور امریکی جمہوریت کی دھجیاں اڑا دیتے، ٹرمپ سپریم کورٹ جاتے اور مزید امریکی شعبوں کو کمزور کر کے خود طاقتور بنتے؛ لیکن ان کے حامیوں کی ہلڑبازی نے پورا معاملہ ہی بگاڑ دیا، اب وہ Empeachment جھیل رہے ہیں، ممکن ہے کہ ان پر مزید شکنجہ کسا جائے اور امریکی قانونی اداروں سے انہیں پوری طرح خارج کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا جائے؛ لیکن موجودہ نئے صدر کے لئے یہ سب کچھ اتنا آسان نہ ہوگا، ایک طرف امریکہ معاشی بد حالی اور کرونا وائرس کی اموات سے پریشان ہے، کرونا کی دوسری/تیسری لہر اور چار لاکھ اموات کے ساتھ وہ اب بھی ایک سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے، تو دوسری طرف ٹرمپ کی مختلف فیہ سیاسی داؤ پیچ اور ان کے کیے کاموں کو سمیٹنا؛ بلکہ خود ان کی موجودگی کو بے معنی بنانا بھی ایک چیلینج ہے، جس کا مظاہرہ چین اور امریکی اعلی حکام کے درمیان باہمی گفتگو اور دوٹَکے کی باتوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے، ٹرمپ نے چین کے ساتھ رشتے اس قدر بگاڑ دیے ہیں کہ اب عام بات چیت بھی عام نہیں رہتی؛ بلکہ نچلے درجے کے بحث و مباحثہ تک کی نوبت آن پڑی ہے، یہ جمہوریت کا تماشہ ہے جو زمانے کے سامنے ہے، ٹرمپ ایک تاناشاہ بن کر پورے امریکہ کو انگلیوں پر نچانا چاہتے ہیں، وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جمہوریت کا کالا سچ یہی ہے کہ اپنے مفادات کو ترجیح دی جائے، ان کا غصہ اور ان کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ تاریخ میں پہلی دفعہ صدارتی ذمہ داریوں کو باقاعدہ سپرد کرنے اور اگلے صدر کا اکرام کیے ہی واپس چلے گئے، اور یہ دھمکی دیتے ہوئے گئے کہ وہ جلد ہی واپسی کریں گے، ان کی اس ادا سے امریکی اعلی حکام میں کہیں نہ کہیں بے چینی اور غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے، چنانچہ بائیڈن سرکار کو ابھی دو مہینے کیا پورے ہوئے کہ اسے ایک خوش بختی کے طور پر منایا گیا، ٹویٹر پر صدر اور نائب صدر کی تصویر پوسٹ کی گئی اور عجب اطمینان کا اظہار دکھایا گی تھا۔
جب سے ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس چھوڑا ہے تب سے وہ خاموش ہیں، مگر ان کی موجودگی برابر محسوس کی جارہی ہے، اب اکثر امریکی سڑکوں پر اوباش فائرنگ کرنے نکل پڑتے ہیں، بڑی بڑی دکانیں اور کاروبار کو نقصان پہنچاتے ہیں، کئی دفعہ اموات کی بھی خبر آتی ہے، ویسے جو بائیڈن کی تقاریر اور تقریبات میں وہ اگرچہ براہ راست ٹرمپ کا نام نہیں لیتے اور ناہی کبھی انہیں کسی چیز کا بلاواسطہ ذمہ دار قرار دیتے ہیں؛ لیکن ان کے دل کی دھڑکن اور ان کے فیصلے بتاتے ہیں کہ ٹرمپ کا چہرہ ان کی نگاہوں کے سامنے سے ہٹتا نہیں ہے، ماہرین اور تجزیہ نگار تو کہتے ہیں یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر مصلحتاً کہیے یا پھر ٹرمپ ازم کہ وہ ان کا سرعام نام لینے سے پرہیز کرتے ہیں، نیز فوری طور پر لگاتار وہ فیصلے لیے جارہے ہیں جس سے ٹرمپ کے کیے گئے کاموں اور بچھائے گئے مکڑی کے جالوں کو صاف کیا جائے، ان کی بیرونی اور سفارتی پالیسیوں کو رد کر کے ایک نئی پالیسی اپنائی جائے، عربی ممالک اور ایشیائی ممالک میں ایک نئے خطے کے ساتھ پیش قدمی کی جاچکی ہے، امریکی ڈیلگیشن بھارت آچکا ہے، چین سے بھی بات ہوئی ہے، اور سعودی عرب سے لے کر دیگر عرب ممالک کے لئے بھی نئے نئے قوانین متعارف کروائے جا چکے ہیں، اس سلسلہ میں خصوصی طور پر سعودی عرب کو ہی لیجیے! امریکہ نے ٹرمپ کی قیادت میں خلیجی ممالک پر قابو پانے کے لئے جس سوجھ بوجھ کا استعمال کیا ہے وہ اچوک ہے، مگر سچی بات یہ ہے کہ یہ امریکہ کی پالسی نہیں ہے؛ بلکہ امریکہ کی اولیت ہتھیار بندی، منصوبہ بندی اور جارحیت رہی ہے، چنانچہ بائیڈن نے آتے ہی سعودی عرب سے اپنے تعلقات کو ایک الگ موڑدینے کی کوشش کی ہے، یمن میں برپا قیامت میں سعودیہ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے، ہندوستان اور چینی روابط میں بھی مختلف انداز اپنانے کی کوشش کی جارہی ہے، مسلسل جاری ہوتے بیانات اور اقدامات پر نظر رکھنے والے اور عالمی احوال کا تجزیہ کرنے والے بتاتے ہیں کہ بائیڈن کو سب سے بڑا چیلینج معیشت، کرونا، سفارتی تعلقات وغیرہ نہیں ہے؛ بلکہ ٹرمپ کی پالیسیاں اور ان کے حربے ہیں، واشنگٹن ڈی سی سے قبل ٹرمپ کی تقریر اور اپنے حامیوں میں گرم جوشی پیدا کرنے والی حرکت دنیا نے دیکھی ہے، ان پر ٹرائل بھی چلا لیکن حیرت کی بات ہے کہ انہیں بے قصور بتلایا گیا ہے، اس سے بھی اندازہ لگائیں کہ ٹرمپ کی آخر وہ کون سی طاقت ہے جس پر امریکی حکومت کو خدشہ لاحق ہے، جو بھی ہو اتنا طے ہے کہ امریکہ کا مستقبل گھٹا ٹوپ اندھیر میں پھنستا جارہا ہے، وہاں کی بے اطمینانی عام ہورہی ہے، کوئی ایسا سیکٹر اور شعبہ نہیں ہے جس پر اطمینان بخش رپورٹس پیش کی جاسکے، بائیڈن کی راہ آسان نہیں ہے، خدشات تو یہ بھی ہیں کہ وہ اپنی صدارتی میعاد پوری نہ کرسکیں، بہرحال یہ دنیا کے ٹھیکیدار کا حال ہے، جو امن و امان اور انسانی حقوق کی علمبرداری کا فریضہ انجام دیتے ہیں، جمہوریت کی بیساکھی لے کر چلتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ کب تک اس بیساکھی کا سہارا کام آتا ہے۔
Comments are closed.