مدارس میں تنخواہوں کا مسئلہ !

 

العارض:محمد زاہد ناصری القاسمی

حوصلہ شکن مہنگائی کے تناسب سے مدارس میں اساتذہ و عملہ کی تنخواہوں کا کم ہونا اور وہ بھی عموماً بر وقت ادا نہ ہونا قابل صد افسوس و لائق توجہ ہے، یہ ایک ناقابلِ فراموش حقیقت ہے کہ عام طور پر لوگ مدارس میں یا تو طلبہ کے خورد و نوش اور علاج و معالجہ کے نام پر چندہ دیتے ہیں یا مدرسہ کی تعمیر کے نام پر، اساتذہ کی تنخواہوں کی مد میں تعاون نہ کے برابر حاصل ہوتا ہے، مذکورہ دونوں مدات ہی سے کسی طرح کٹوتی کرکے انھیں تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ تنخواہوں کی مد میں رقم آتی ہو اور انتظامیہ اسے تعمیرات میں خرچ کرتی ہو، خود راقم الحروف کا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ لاک ڈاؤن میں جب دارالاقامہ کا نظام موقوف ہوا تھا تو آہستہ آہستہ لوگوں نے چندہ دینا بھی موقوف کردیا تھا کہ ابھی تو مدرسہ بند ہے، پھر میں نے تعمیر کے حوالے سے مالیہ کی وصولی کا کام شروع کیا، جس سے الحمدللہ مدرسے کے تعمیراتی کام بھی کر وائے اور خدائے غفار مجھے معاف کرے اسی میں سے کٹوتی کرکے اساتذہ و عملہ کی پوری پوری تنخواہیں بھی بروقت پابندی کے ساتھ ادا کیں؛ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مہنگائی کے تناسب سے اساتذہ و عملہ کی تنخواہوں کا معیار بھی مقرر کیا جائے؛ تاکہ ان کی معاشی حالت درست ہو اور وہ یکسوئی کے ساتھ دین حنیف کی عظیم خدمات میں مصروف رہیں، نیز اس مد میں مالیہ کی فراہمی کا طریقۂ کار بھی متعین کیا جائے؛ تاکہ انتظامیہ کے لیے جائز طریقے سے معیاری اور بروقت تنخواہوں کی ادائی کی راہ آسان ہو، کیا ہی اچھا ہوتا کہ مادر علمی دارالعلوم دیوبند اور دیگر مرکزی اداروں کی جانب سے یہ دونوں امور طے پاتے !

 

Comments are closed.