والدین کے حقوق اولاد کے فرائض
حنا خان (آکولہ)
اللہ رب العالمین نے جب انسان کو اس دنیا میں بھیجا تو اسے دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے بے شمار نعمتوں سے نوازا جن میں اہم نعمت "رشتہ داریاں”بھی ہیں – انسان اس دنیا میں اکیلے زندگی نہیں گزارتا بلکہ اس کے ساتھ کچھ لوگ منسلک ہوتے ہیں جو اس کی خوشی و غم میں شریک رہتے ہیں, وہی اس کے رشتہ دار کہلاتے ہیں . اللہ رب العالمین نے ہر رشتہ کے ساتھ حقوق و فرائض کی ایسی زنجیر بنائی کہ جو کسی ایک انسان کے حقوق ہے وہی اس سے منسلک دوسرے شخص کے فرائض میں شمار ہوتے ہیں.
اگر ایک شخص اپنا فرض مکمل ایمانداری سے نبھاتا ہے تو دوسرے شخص کو اس کا حق مل جاتا ہے لیکن اسی شخص کا فرائض سے غافل ہوجانا یا اس میں کوتاہی کرنا دوسرے شخص کو اس کے حقوق سے محروم کردینا ہے اور کسی کو اس کے حق سے محروم کرنا اس پر ظلم کرنا ہے –
دنیا کے باقی تمام رشتوں میں والدین اور اولاد کا رشتہ سب سے زیادہ اہم اور نزدیکی ہوتا ہے , اسی لیے اس رشتہ کے حقوق و فرائض بھی اتنے ہی اہمیت کے حامل ہیں – قرآن مجید میں اللہ رب العالمین فرماتا ہے.
"ووصيناالانسان بوالديه إحسانا” (سورہ احقاف :15 سورہ لقمان :14)
"اور ہم نے انسان کو یہ حکم کیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے-”
والدین سے حسن سلوک کی تاکید قرآن مجید و آحادیث سے ملتی ہیں…
لہذا بچوں پر سب سے زیادہ حق ان کےوالدین کا ہوتا ہے.
ذیل میں چند فرائض کا ذکر کیا جارہا ہے جو والدین کے حقوق ہیں اور یہ حقوق انھیں ملنے ہی چاہئے….
* محبت اور عزت :
کسی بھی رشتہ میں محبت کے ساتھ عزت لازم وملزوم ہوتے ہیں….اور والدین کے معاملہ میں یہ اور بھی ضروری ہوجاتاہے کہ ان سے محبت کی جائے اور انھیں عزت دی جائے….
لیکن موجودہ صورت حال سے ہم سبھی واقف ہیں کہ کس طرح نئی نسلیں اپنے والدین کی عزت و محبت سے بالکل عاری نظر آرہی ہیں .. والدین سے بغاوت کرکے اپنی من مانی کرنے پر تلی ہوئ ہیں, والدین کی عزت کو بالکل ہی فراموش کردیے ہیں جس کی وجہ سے بچے اور والدین کے رشتے بہت کمزور ہوتے جارہے ہیں , بچوں کو چائیے کہ وہ اپنے والدین سے محبت کریں انھیں عزت دیں کیونکہ سب سے زیادہ محبت اور عزت کا حق والدین کا ہوتا ہے ….جب اولاد اپنے والدین کی عزت کرے گی ان سے محبت کرے گی تو اس سے ان کا رشتہ بھی مضبوط ہوگا اور آخرت بھی سنورے گی….
*والدین کی فرمانبرداری کرنا :
اولاد کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ ان کی فرمانبرداری کریں سوائے اس کے وہ اسے ایسی باتوں کا حکم دیں جن باتوں کا شمار اللہ کی نافرمانی میں ہوتا ہو. مثلاً والدین اگر اولاد کو شرک کرنے کا حکم دے تو اولاد اسے نہ مانے لکین اس کا مطلب ہرگز یہ نہ ہو کہ وہ والدین سے قطع تعلق کرلے بلکہ وہ اپنا فرض اپنے والدین کے تئیں مکمل ایمانداری سے نبھائے….
قرآن مجید میں اللہ رب العالمین فرماتا ہے کہ اگر ماں باپ میں سے دونوں یا کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انھیں اف تک نہ کہو.
اولاد کا فرض ہےکہ وہ خاص طور سے بڑھاپے میں والدین کا خیال رکھے, ان کے چڑ چڑے پن کو نظر انداز کریں, ان کے ساتھ صلہ رحمی کرے, حتی الامکان انھیں خوش رکھنے کی کوشش کریں. کیونکہ ان کی خوشی میں ہی اللہ رب العزت کی خوشی ہے….
*وقت دینا:
آج کی اس بھاگ دوڑ والی زندگی میں ہر انسان وقت کی کمی سے پریشان ہے ,انسان اپنی زندگی میں اپنے لائف اسٹائیل کو سیٹ کرنے ,کیرئیر بنانے میں اس قدر مصروف ہوگیا ہے کہ اس کے پاس اپنے رشتہ داروں کے لیے بھی وقت نہیں ہے . اور یہی حال اس کا ان لوگوں کے ساتھ بھی ہے جنھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت اس کے نام کردیا ,والدین اپنی اولاد کے لیے ہمہ وقت میسر ہوتے ہیں لکین آج اولاد کا یہ حال ہے کہ ان کے پاس اپنے والدین کے پاس بیٹھنے، ان سے حال احوال جاننے تک کا وقت نہیں ہے ….اور یہی ایک بڑی وجہ بھی ہے کہ وہ والدین سے دور ہوتے جارہے ہیں .
اولاد اس بات کو سمجھے کہ والدین کے حقوق میں ایک حق ان کو ان کے بچوں کے وقت کا ملنا ہے. لہذا بچے اپنا فرض ادا کریں اور اپنے مصروفیت کے اوقات سے کچھ وقت اپنے والدین کے لیے بھی نکالے….جو کہ ان کے فرائض کا ہی ایک حصہ ہے…
* ضرورت کا خیال رکھنا :
بچپن میں والدین اپنی اولاد کی ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھتے ہیں. چاہے اس کے لیے کیسی ہی تکلیف اٹھانی پڑے. لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اولاد جب جوان ہوتی ہے صاحب حیثیت ہوتی ہے تو وہ یکسر بوڑھے والدین کی ضرورتوں کو نظر انداز کردیتی ہیں … انسان بوڑھاپے میں بالکل اسی طرح لاغر ہوجاتا ہے جیسے کہ بچپن میں بچہ رہتا ہے اس وقت اسے دواؤں کی, دیکھ بھال کی, غذائیت سے بھر پور غذاؤں کی اشد ضرورت رہتی ہے جس کا خیال رکھنا اولاد کی ذمہ داری ہوتی ہے . اگر اولاد اپنا یہ فرض بحسن وخوبی نبھائے گی تو اس سے والدین کے اور اولاد کے درمیان خوشگوار تعلقات بھی استوار ہوں گے….
* کفالت کرنا :
بارہا یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بچے جوان ہوکر اپنے پیروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں, تو وہ اپنی زندگی کو اکیلے گزارنا چاہتے ہیں. ان کے لیے بوڑھے ماں باپ صرف ایک بوجھ بن جاتے ہیں وہ تمام باتیں فراموش کردیتے ہیں کہ کس طرح بچپن میں تکلیفیں اٹھا کر والدین نے ان کی کفالت کی تھی اور انھیں اس قابل بنایا تھا کہ وہ معاشرہ میں اپنا ایک مقام بنائے-لیکن وہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو انھیں دو فرد کی کفالت کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف لگتا ہے. انھیں لگتا ہے بوڑھے ماں باپ کا ان پر کوئی حق نہیں نہ ہی ان سے متعلق اس کے کوئی فرائض ہیں ….دراصل بوڑھے والدین کی کفالت کرنا بھی بچوں کے فرائض میں شمار ہوتا ہے .
* دعا کرنا :
اولاد پر والدین کا حق یہ بھی ہے ان کے لیے دعا کی جائے اللہ رب العالمین نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں بہت ہی پیاری دعا سکھائی:
” رب ارحمهما كما ربياني صغيرا ” (اے اللہ ان پر ویسا ہی رحم کر جیسے بچپن میں انھوں نے میری پرورش کی )
لہذا اولاد کو چائیے کہ وہ اپنے والدین کے لیے ہر وقت دعا کرتے رہیں .
والدین کے کچھ حقوق وفات کے بعد بھی اولاد پر عائد ہوتے ہیں
*دعائے مغفرت کرنا :
والدین یا دونوں میں سے کسی ایک کی وفات کے بعد اولاد کا فرض ہے کہ وہ ان کی مغفرت کی دعا کریں.
* والدین کے رشتہ دار دوست احباب سے حسن سلوک کرنا :
والدین کی وفات کے بعد اپنے چچا, خالہ اور جو بھی والدین کے قریبی رشتہ دار ہیں ان سے حسن سلوک کرنا, ان سے میل ملاقات کرتے رہنا- والدین کے دوست احباب سے رابطہ میں رہنا بوقت ضرورت ان کی مدد کرنا –
*صدقہ کرنا :
والدین کی وفات کے بعد اولاد کا فرض ہے کہ وہ ان کی طرف سے صدقہ کریں. کیونکہ انسان کی وفات کے بعد کوئی چیز اسے نہیں پہنچتی سوائے صدقہ کے.
اگر خاندان کے سبھی افراد اسی طرح آپس میں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں گے اور اپنے فرائض کو بحسن وخوبی ادا کریں گے تو اس سے حقوق و فرائض کی زنجیر مضبوط ہوکر خاندان مستحکم ہوگا اور مضبوط سماج تشکیل پائے گا. کیونکہ مضبوط خاندان ہی مضبوط سماج کی بنیاد ہے……
Comments are closed.