"بھکاری نہیں ہو تم”
آمنہ جبیں (بہاولنگر)
کچھ دنوں کی بات ہے دروازے پہ دستک ہوئی۔ باہر گئی دیکھا تو ایک پانچ سال کا بچہ دروازے پہ صدا لگائے بھیک مانگ رہا تھا۔ میں نے پوچھا بچے تم بھیک مانگتے ہو۔ تمہارے ماں باپ کہاں ہیں۔ بچہ بولا وہ گھر ہیں۔ میں اور میری بہن مانگ کر لے جاتے ہیں۔ ماں کھانا بناتی ہے۔ میں نے پوچھا باپ کہاں ہے۔ کیا کرتا ہے۔؟ اس بچے نے کہا وہ گھر ہے کچھ بھی نہیں بس گھر ہوتا ہے اور تو اور بچے نے میرے پوچھنے پہ فوراً سے جواب دیا کہ میرے باپ کے پاس ٹچ سکرین والا موبائل بھی ہے۔ اور یہ کہ کر وہ چل دیا۔ میں اس بچے کو پیچھے سے دیکھ رہی ہوں۔ کہ یہ کیسے حقیقت سے نہ آشنا اور اپنی مستقبل کی بربادی کو جانے بغیر خوش گپیوں میں گھوم رہا ہے۔ مگر اس کے پیچھے ہیں کون؟ ان کے ماں باپ کیوں انہیں دوسرے بچوں سے الگ کر کے بھیک کا چوغا پہناتے ہیں۔ وہ یہ ظلم کرتے ہیں اپنی اولاد پہ سخت ظلم، کہ ان کی ننھی جانوں سے اپنا پیٹ پالنے کے لیے مشقت کرواتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بھکاری طبقہ میں تمام والدین اپنے بچوں کو یہی سبق پڑھاتے ہیں اور یہی سکھاتے ہیں۔کہ مانگنا برا نہیں یہ مانگنا ان کا حق ہے۔ ان کا ورثہ ہے۔ ان کی روایت ہے مانگنا۔ یہی دو چار سبق بچوں کو عمر بھر کے لیے پڑھا دیے جاتے ہیں۔ کیا ان بچوں کا زندگی پہ اور زندگی کے رنگوں پہ کوئی حق نہیں ہے۔ وہ بچے بھکاری پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اور نہ ہی ان کے والدین بھکاری پیدا ہوئے تھے۔ بلکہ آج کل کے بھکاری ایسے لوگ ہیں جو محنت سے عاری ہیں۔ آج ہر دروازے پہ دن میں پانچ مرتبہ بھکاری دستک دیتے ہیں۔ جدھر دیکھو شہر، گاؤں اور بستیوں میں ہر جگہ بھکاریوں نے ڈیرے جمائے ہیں۔ اگر ایک بھکاری عورت ہے نہ تو اس نے بناؤ سنگھار کیا ہو گا۔ بالکل اچھے ستھرے کپڑے اور زیور پہنا ہو گا۔ مگر ہاتھ میں کشکول ہو گا۔ اور اگر مرد کی طرف دیکھا جائے تو مرد بھی بالکل تندرست وتوانا محنت کی بجائے سستی اور کاہلی میں بہ کر دوسرے دروں کی خاک چھان کر پیٹ پالتے نظر آتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں؟ بھکاری کون ہے بھکاری کسے کہتے ہیں؟ ہم سب اپنے رب کے بھکاری ہی تو ہیں۔ کیونکہ ہم بے بس ہیں۔ سب کچھ رب کے اختیار میں ہے۔ مگر یہ جو دنیا کے دروں کے بھکاری ہیں۔ یہ جسمانی طور پر کوئی لاغر اور بے بس نہیں ہوتے پھر بھی بھیک مانگتے ہیں۔ اور بچوں کو بھی اس کام پہ لگاتے ہیں۔ ایک بھکاری کا حلیہ ہی بتاتا ہوتا ہے یہ بھکاری ہے یا "نہیں”جیسے ہم اپنے رب سے فقیری اور عاجزی میں مانگتے ہیں۔ یہی انداز ہے مانگنے کا مگر آج کل کے بھکاری اور مانگنے والے دینے والوں سے زیادہ اچھے حلیے میں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ایک ہی ہے کہ وہ بھیک کے قابل نہیں ہیں۔ بس محنت سے عاری ہیں۔ بھکاری پن کو اپنی وراثت سمجھ کر بس بھیک مانگنی ہے۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ مانگنا ہمارے پُرکھوں کی روایت ہے ہم مجبور ہیں ہم نہ چاہتے ہوئے بھی مانگیں گے۔ وہ ایک روایت اور ایک عادت میں جکڑے ہیں۔ اور صدیوں سے ایسے ہی چلتے آ رہے ہیں۔ لیکن آج تو معاشرے میں بھکاری بہت بڑھ گئے ہیں۔ دو سال کے بچے تک مانگتے نظر آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے آئندہ آنے والا وقت صرف ان بھکاریوں کا ہو گا۔ جب بھکاری طبقہ اپنے بچوں کو بھی مانگنے پہ لگا دیتے ہیں۔ تو وہ آئندہ کی کئی نسلوں کو مفلوج کر دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے آپ بھکاری تھے آپ کے بزرگ بھی بھکاری تھے۔ مگر اپنے بچے کو تو بچا لو وہ دوسروں کی طرف دیکھ کر پڑھنے کی آگے بڑھنے کی تشنگی رکھتا ہے۔ مگر اسے یہ بات روک دیتی ہے کہ بھکاری پن ان کی میراث اور قسمت ہے۔ وہ بھکاری ہی پیدا ہوئے ہیں۔ اور ہمیشہ بھکاری ہی رہیں گے۔ایک بھکاری خود اعتمادی، عزتِ نفس اور اپنی مدد آپ یعنی محنت سے بالکل عاری ہوتا ہے۔ اور یہی چیزیں ان کی اولاد میں جاتی ہیں۔ اور پھر ان کے اندر کا اصل انسان مر جاتا ہے۔ دب جاتا ہے۔ خدا کا خوف کھاؤ بھکاری بن کر ہاتھ پھیلانا بہت مشکل ہے مگر آج تو لگتا بہت آسان ہے۔ لوگ پل میں کشکول سامنے کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کا عزتِ نفس سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی ہے کہ ضرورت مند بھی بہت سے لوگ ہوتے ہیں۔ مگر آج کے بڑھتے ہوئے بھکاریوں میں وہ ضرورت مند سفید پوش لوگ کم ہی نظر آتے ہیں۔ اس بھکاری پن کی گرداب میں پھنسے بیچارے حق دار لوگ بھی خالی رہ جاتے ہیں۔ آج کا بھکاری اچھا گھر اچھا اوڑھنا بچھونا رکھتا ہے۔ اچھا کھاتا پیتا ہے۔ وہ بھکاری نہیں ہے۔ جو دو وقت کی روٹی جی بھر کے کھا لے وہ بھکاری کیونکر ہو سکتا ہے۔ مگر آج تو گھر میں سب میسر ہے۔ بلکہ کتنے دنوں کے لیے میسر ہے۔ پھر بھی لوگ بھیک مانگتے ہیں۔ غربت سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن افسوس! کہ مانگنا ان کا پیشہ اور عادت بن چکا ہے۔ ہمیں اپنے ملک سے اس بھکاری پن کو ختم کرنا ہے۔ ورنہ آنے والے دنوں میں یہاں صرف بھکاریوں کا راج ہو گا۔ سب سے پہلے حکومت کو چاہیے کہ بچوں کے مانگنے پہ پابندی لگائے۔ اور اگر ایسا ہو تو ان بچوں کے ماں باپ کے لیے جرمانہ اور سزا تجویز کریں۔ ہمیں انفرادی طور پر چاہیے کہ بھکاریوں کو پرموٹ نہ کریں ہاتھ پاؤں رکھتے ہوئے ان کے کشکول نہ بھریں۔ انہیں محنت کی ترغیب دیں۔ اس کے علاؤہ حکومت کو ایسے ٹرینگ سینٹر قائم کرنے چاہیے۔ جہاں بھکاریوں کی ذہنی نشوونما ہو سکے۔ تا کہ ان کے ذہن سے بھکاری ہونے کا غلط اور فرسودہ نظریہ دور کیا جا سکے۔ اور انہیں محنت کی طرف لایا جا سکے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو کل کو بہت سے بچے اور نوجوان صرف بھکاری ہوں گے۔ جبکہ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ بھکاری بھی انسان ہیں۔ ان کے اندر بھی صلاحیتیں،ہنر اور فنکار موجود ہیں۔ جو گلیوں میں برباد ہو رہے ہیں۔ ہمیں اس خوبصورت اثاثے کو ان ننھے پھول کلیوں کو اندھیروں میں جانے سے روکنا ہو گا۔ جو ان کے لیے اور خود ہمارے ملک اور قوم کے لیے بہت ضروری ہے۔ اللّٰہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے ملک سے بھکاری پن کو اکھاڑنے میں اچھا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ آمین ثم آمین
Comments are closed.