موسی علیہ السلام کی ایک دعا اور سبق
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
قال رب اشرح لي صدري. ويسر لي امري. واحلل عقدة من لساني. يفقهوا قولي. واجعل لي وزيراً من أهلي. هارون أخي. اشدد به أزري. وأشركه في أمري. كي نسبحك كثيراً. ونذكرك كثيرا (سورہ طہ: ٢٤ تا ٣٤)
”موسیٰ نے درخواست کی: میرے پروردگار! میرے ( اِس کام کے) لئے میرا سینہ کھول دیجیے، میرے لئے میرے اس کام کو آسان فرمادیجیے اور میری زبان سے گرہ بھی کھول دیجیے؛ تاکہ وہ میری بات کو سمجھ سکیں اور میرے لئے میرے ہی خاندان میں سے ایک مددگار مقرر کردیجیے؛ یعنی میرے بھائی ہارون کو، اس کے ذریعہ میری طاقت بڑھا دیجیے اور اس کو بھی میرا شریک کار بنا دیجیے؛ تاکہ ہم دونوں آپ کی خوب پاکی بیان کریں، اور کثرت سے آپ کا ذکر کیا کریں“
حضرت موسی علیہ السلام کی یہ دعا ہر کوئی پڑھتا ہے؛ لیکن اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو ہر شخص کے لئے درس و عبرت ہے، اللہ تعالی ہی کی مدد و عیانت سے دین کا کام ہوسکتا ہے؛ خواہ نبی ہو یا کوئی بھی دنیاوی مخلوق ہو؛ اگر وہ دین کا کام کرنا چاہتا ہے تو صرف اور صرف اللہ تعالی کی منشا اور اسی کی مدد درکار ہے، اگر اس کی نصرت حاصل ہوجائے تو پھر انسان کی زبان و دل اور اس کے جسم کا ہر عضو پیغام الہی کی تشریح اور تبلیغ کا نشان بن جاتا ہے، پھر اسے شعلہ بیان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی، خطیب دوراں اور متکلم اسلام اور حجۃ الاسلام بھی ہونے کی حاجت نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ دل سے دل تک بات کرتا ہے، اپنی لکنت، زبان کی دشواری اور تکلیف کے باوجود وہ دین و اسلام کی تشریح و توضیح ایسے کرتا ہے کہ کوئی اشکال نہ رہ جائے، اور اس کی تبلیغ پر مہر لگادی جائے؛ حتی کہ عذاب کا بھی فیصلہ ہوجائے، حضرت موسی علیہ السلام کو یہ مقام حاصل ہوا تو ایسا بھی نہیں ہے کہ انہوں نے اسے اپنی کوئی ہنرمندی سمجھی؛ بلکہ عاجزی و انکساری کا مکمل اظہار کیا، اس میں معاونت کے لئے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے اشتراک کی گہار لگائی، آہ۔۔۔! کتنا بڑا پیغام ہے کہ اپنے نیک کام میں اگر کوئی شریک مل جائے تو اسے اللہ تعالی کا احسان سمجھنا چاہیے، اس کی کرم فرمائی اور شان ماننا چاہیے؛ بلکہ ایک بات اور بہت زیادہ غور کرنے کی ہے، ایک شخص اتنا عالی مقام پا رہا ہے، وہ بجائے یہ کہنے کے کہ اے اللہ! مجھے تمام دشواریوں سے دور کردے اور اس مقام کا مکمل حقدار مجھ ہی کو بنادے تاکہ میرا کوئی شریک نہ ہو؛ بلکہ وہ کہتا ہے اے میرے اللہ! میرے ساتھ میرے بھائی کو بھی لگا دے؛ تاکہ دین کی تفہیم میں مدد مل جائے گی، توجہ دیجیے کہ یہ اعتراف و صلاحیت کا انمول نمونہ ہے، آج کیا کوئی ایسا ہے کہ دوسروں کی صلاحیت کو مانے اور مان بھی لے تو اسے اپنے ساتھ رکھے! عموماً ایسا نہیں ہے۔
استاد محترم فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ نے اس موقع پر بہترین اور وقیع تفسیر بیان کی ہے، جو پڑھنے اور سمجھنے کے قابل ہے، آپ فرماتے ہیں: ”غالباً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں لکنت تھی، یا تو یہ بیماری انہیں طبعی طور پر تھی یا بعد میں پیدا ہوگئی تھی، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بچپن میں فرعون کی گود میں تھے، انہوں نے فرعون کو تھپڑمارا اور ڈاڑھی کے بال نوچ لئے، جیساکہ عام طور پر بچے کیا کرتے ہیں؛ بس فرعون کا غصہ بھڑک اُٹھا، اس نے اپنی بیوی آسیہ سے کہا کہ اس کو ذبح کردیا جائے؛ لیکن آسیہ نے التجا کی کہ وہ اِس ارادہ سے باز آجائے؛ کیوں کہ بچوں میں اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ چیزوں کے درمیان فرق کرسکیں، پھر اس کے ثبوت کے طور پر آسیہ نے دو طشت رکھے، ایک میں آگ کے شعلے اور دوسرے میں جواہرات، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہاتھ تھاما اور آگ پر رکھ دیا، آپ نے ایک انگارہ اُٹھایا اور منھ میں رکھ لیا؛ تاکہ یہ بات ثابت ہوجائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے منھ پر تھپڑ مارنا بے شعوری کی وجہ سے تھا؛ چنانچہ فرعون اپنے ارادے سے باز آگیا اور اسی کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لکنت ہوگئی ، (قرطبی: ۱۱؍۱۹۲)
بہر حال اس ارشاد میں کئی باتیں قابل توجہ ہیں: اول یہ کہ اللہ اپنے دین کے کام کے لئے جیسے کسی بادشاہ اور سلطان کے محتاج نہیں، اسی طرح بلندپایہ مقرر اور خطیب کے بھی محتاج نہیں، اور جب چاہتے ہیں تو ایک ایسے شخص سے اسلام کی سربلندی کا کام لے لیتے ہیں، جس کو لکنت ہو،
دوسرے: جب کوئی شخص اسلام کی دعوت پیش کرے تو ضروری ہے کہ پہلے خود اس کو اس کا پورا یقین اور شرح صدر ہو۔
تیسرے: داعی دعوت دیتے ہوئے اپنے علم پر اور اپنی زبان و بیان کی صلاحیت پر بھروسہ نہ کرے؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رُجوع کرے کہ وہ اس کے کام کو آسان فرمادے۔
چوتھے: کسی قوم کو اس زبان میں دعوت دینی چاہیے اور زبان و بیان میں وہ تعبیر اختیار کرنی چاہیے جس کو مخاطب سمجھ سکے، یہ بھی معلوم ہوا کہ تنہا ایک شخص کے دینی کام کرنے کے مقابلہ اگر اس میں کچھ ہم مزاج لوگوں کی شرکت ہو جائے تو کام آسان ہوجاتا ہے اور اس کے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں؛ جیساکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کام میں حضرت ہارون علیہ السلام کی رفاقت کی درخواست کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا۔“ (آسان تفسير قرآن مجید)
Comments are closed.