"پچھتاوا”

زینب بتول(سیالکوٹ)
گرمیوں کی صبح ٹھنڈی ٹھنڈی فضا چل رہی تھی۔آسمان پر ہلکے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔موسم بہت سہانا تھا۔ہر طرف پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔سبزہ لہلہا رہا تھا۔چنبیلی، موتیا اور گلاب کے پھول ہوا میں جھوم رہے تھے۔گلابی ہونٹ، موٹی اور بڑی بڑی آنکھیں، چمکیلے بال پورا چہرہ بہت خوبصورت تھا۔سبز شرٹ، بیلو ٹائٹس اور کالا اسکارف لیے سحر اپنے گھر کے گارڈن میں ٹہل رہی تھی۔اسی اتنے میں اس کی بڑی بہن بصیرت نماز اور قرآن پاک کی تلاوت سے فارغ ہو کر آئی۔ بصیرت قد میں سحر سے تھوڑا چھوٹی تھی ،اور رنگ بھی سانوالہ تھا، لیکن خوبصورت لگتی تھی ۔سحر ایک خود غرض لڑکی تھی۔ اور ماڈرن خیالات رکھتی تھی۔جبکہ بصیرت نیک، خوش اخلاق، خدمت گزار اور اپنی امی کی بہت تابعدار بیٹی تھی۔اور پرانے خیالات کی مالک تھی۔بصیرت نے کالے رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا، اور آ کر سحر کے ساتھ ٹہلنے لگی اور دونوں ساتھ ساتھ باتیں بھی کرنے لگیں۔سحر نے خوش ہوتے ہوئے کہا آپی آج آپ کو لڑکے والے دیکھنے آ رہے ہیں ،تو اگر آپ کا رشتہ پکا ہو گیا تو پھر میری پارٹی تیار رکھیے گا۔
بصیرت نے ہلکا سا تھپڑ لگا کر مسکراتے ہوئے کہا تم تو کچھ بھی ہو سب سے پہلے پارٹی مانگتی ہو۔دونوں ہنسنا شروع ہو گئی۔
تھوڑی دیر کے بعد سورج بھی سر پر آگیا۔اتنے میں امی نے آواز لگائی کہ اندر آجاؤ ،آج کیا سارا دن باتیں ہی کرتے رہنا ہے، تھوڑی دیر تک لڑکے والوں نے بھی آ جانا ہے۔
بصیرت : جی آئیں امی بس، دونوں مسکراتے ہوئے اندر چلی گئیں۔
اب بارہ بج چکے تھے اور لڑکے والوں کے آنے کا ٹائم ہو گیا۔امی نے سحر سے کہا کہ جاؤ اور آپی کی تیار ہونے میں مدد کرو۔دونوں کمرے میں چلی گئیں۔اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجی، امی نے جلدی سے اپنا دوپٹہ کرتے ہوئے دروازہ کھولا۔لڑکے کی ماں کے ساتھ رشتہ کروانے والی عورت بھی ساتھ تھی۔سحر سلام کرنے کے لیے آئی، تو امی نے کہا کہ جاؤ بیٹا بصیرت کو لے کر آؤ۔
بصیرت گبھراتے ہوئے، ساتھ ہاتھ میں ٹرے پکڑے ہوئے، جس میں تین گلاس کولڈ ڈرنک، ساتھ لیز، سموسے، نمکو، سینڈوچ وغیرہ لیے آ کر ٹرے میز پر رکھ دیا، اور سلام کر کے بیٹھ گئی.کافی دیر باتیں کرنے کے بعد لڑکے کی ماں نے کہا مجھے بصیرت پسند آئی ہے، میری طرف سے تو رشتہ پکا سمجھے ،بس ایک دفعہ ریحان دیکھ لے، کیونکہ زندگی اُسی کو ہی گزارنی ہے اور مجھے اُمید ہے کہ اُسے بھی بصیرت پسند آئے گی۔جاتے ہوئے ریحان کی ماں نے بصیرت کی تصویر ریحان کو دیکھانے کے لیے مانگی، لیکن جلدی میں بصیرت کی اکیلی تصویر نہ ملی، تو بصیرت نے کہا کہ یہی تصویر دے دیتے ہیں، وہ تصویر بصیرت اور سحر کی اکٹھی تھی۔
جب ریحان کی ماں نے ریحان کو بصیرت دیکھنے کے لیے تصویر دکھائی، تو ریحان نے بصیرت کی جگہ سحر کو پسند کر لیا، اور کہا ماما! مجھے سحر پسند آ گئی ہے اسلیے میں اسی سے شادی کروں گا، بصیرت سے نہیں کرنی مجھے شادی۔
ماں نے حیران کن لہجے میں کہا یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔میں بصیرت کا رشتہ دیکھنے گئی تھی اور اسی سے تمہاری شادی ہو گی۔
ریحان: ماما مجھے بصیرت نہیں پسند، یہ مجھے لباس سے پرانے زمانے خیالات کی لڑکی لگ رہی ہے۔مجھے ماڈرن خیالات رکھنے والی لڑکی سے شادی کرنی ہے، سحر ایک ماڈرن لڑکی لگ رہی ہے اور بصیرت سے زیادہ خوبصورت بھی ہے۔آپ سحر کے رشتے کی بات کریں ان سے پلیز۔
ماں نے کہا بیٹا افسوس ہوا تمہاری باتیں سن کر، تم صرف اور صرف ظاہری حُسن دیکھ رہے ہو جبکہ انسان کی صورت دیکھ کر نہیں ترجیح دینی چاہیے بلکہ سیرت دیکھنی چاہیے۔بصیرت بہت نیک اور خدمت گزار لڑکی ہے اور تم اُس کے ساتھ بہت خوش رہو گے، ماں نے التجا بھرے لہجے میں کہا۔
ریحان: نہیں ماما! آپ میری بات مان جائیں نہ میں شادی کروں گا تو صرف سحر سے، نہیں تو میں کبھی بھی کسی سے شادی نہیں کروں گا۔
آخرکار بیٹے کی باتوں سے مجبور ہو کر بصیرت کے گھر گئی، ہچکچاتے اور شرمندہ لہجے سے بصیرت کی ماں کو ساری بات بتائی۔بصیرت جب ہال میں سلام کرنے کے لیے آنے لگی تو اُس نے ساری باتیں سن لی، اُسے سن کر بہت دکھ ہوا اور آنسو بھی نکلنے لگے۔بصیرت کی ماں کو کر بہت غصہ آیا اور منع کرنے ہی لگی تھی، تو بصیرت جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے آئی کہ امی مجھے آپ سے دو منٹ اکیلے میں بات کرنی ہے۔کمرے میں جا کر بصیرت نے کہا امی اگر اُن لوگوں کو سحر پسند ہے تو آپ سحر کا ہی رشتہ کر دیں ،مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ماں نے درد بھرے لہجے میں کہا،
بصیرت یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو؟ جن لوگوں نے تمیں ٹھکرایا ہے میں اُدھر سحر کا رشتہ کیسے کر دوں؟
بصیرت: امی سحر کا بھی تو کہیں رشتہ کرنا ہی ہے نہ اور یہ رشتہ بھی اچھا ہے، لڑکا پڑھا لکھا ہے اور اچھی جگہ جاب بھی کرتا ہے، تو اس میں کوئی بُرا ماننے والی بات نہیں ہے کہ اگر اُنہوں نے میری جگہ سحر کو پسند کر لیا ہے۔پلیز آپ مان جائیں۔
امی نے کہا ٹھیک ہے بیٹا جیسے تم کہتی ہو۔
پھر سحر اور ریحان کی بڑی دھوم دھام سے شادی ہوتی ہے۔ریحان سحر کی ہر فرمائش پوری کرتا ہے اور اُسے خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ ابھی شادی کو ایک سال ہوا ہوتا ہے کہ اچانک ایک دن ریحان کا آکسیڈنٹ ہو جاتا ہے اور وہ اپاہیج ہو جاتا ہے اور وہ صرف ویل چیئر تک ہی محدود رہ جاتا ہے۔ ریحان کو گھر لایا جاتا ہے تو ایک دن سحر کہتی ہے کہ تم مجھے طلاق دے دو، میں تم جیسے اپاہیج کے ساتھ رہ کر اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتی۔ ریحان سن کر کہتا ہے، سحر یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، اور اب میں اس قابل بھی نہیں ہوں کہ چل سکوں، اب تم ہی میرا واحد سہارا ہو۔
سحر نے نہایت اونچی آواز میں کہا کہ مجھے کوئی سزا نہیں ہے کہ تم جیسے اپاہج کے ساتھ زندگی گزاروں۔میں تمہاری پوری زندگی خدمت نہیں کر سکتی۔سحر نے کاغذات زبردستی تھماتے ہوئے کہا کہ ان پر ابھی سائن کرو اور مجھے آزاد کرو۔ریحان سحر کی اونچی آواز میں رو رو کر منتیں کرتا ریا کہ پلیز ایسا نہ کرو میرے ساتھ لیکن سحر نہ مانی اور آخرکار ریحان کو سائن کرنے ہی پڑے۔اور سحر نے ایک منٹ بھی نہ لگایا کہ وہاں سے آگئی۔ریحان کی ماں نے اُسے گلے سے لگایا اور چُپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی، تب ریحان کو سحر سے شادی کرنے پر پچھتاوا ہوا اور احساس ہوا کہ کاش میں اپنی ماں کی بات مان جاتا اور بصیرت کو نہ ٹھکراتا، لیکن اب صرف پچھتاوا ہی ریحان کی زندگی میں رہ گیا تھا۔

Comments are closed.