ایک مثالی نکاح

 

تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

 

ایسی شادیاں ہم نے اور آپ نے نے بہت سی دیکھی ہوں گی جن میں فضول خرچیاں، جن میں رسم ہلدی، رسم منہدی، گانابجانا، رت جگا، دکھاوا، نمائش خرافات اور جہاں قدم قدم پر سنت و شریعت کو پامال کیا جاتا ہے؛ لیکن اللہ نے 25 مارچ کو ایک ایسی شادی کی تقریب میں شرکت کا موقعہ عنایت فرمایا جس میں میں قدم قدم پر اسلام نظر آیا منہدی تو لگی؛ لیکن دلہن نے خود لگائی، دلہن سجی سنوری تو ضرور؛ لیکن بیوٹی پارلر میں جاکر نہیں بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے۔

اللہ نے دولہا دلہن دونوں کے سر پرستوں کو اتنی مالی وسعت دے رکھی تھی کہ یہ بھی خوب فضول خرچیاں اور طرح طرح کے خرافات کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے ”اسلام“ کا خون نہیں کیا بلکہ مسرت و شادمانی کے اس موقع پر اسلام کو اپنے خون جگر سے سینچا۔ ایسی تقریب میں پہلی بار شرکت ہوئی جہاں جہاں سنت و شریعت کو اپنے سر آنکھوں پر رکھا جا رہا تھا، جہاں قدم قدم پر اپنے وجود سے قرآن کریم کی صداقت کا تعارف کرایا جارہا تھا۔

اس تقریب پُرسعید میں میاں ذیشان اور فردوس رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جارہے تھے۔

فردوس خان بنت فیروز خان ضلع بھوپال (ایم پی) کی ایک متحرک خاتون ہیں‌۔ جو تبلیغ دین میں اپنی ایک پہچان رکھتی ہیں- آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سوشل میڈیا ڈیسک کی فعال رکن بھی ہیں۔ حال میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی نے جو ”آسان اور مسنون نکاح مہم“ کا آغاز کیا ہے اس مہم کو کامیاب بنانے کےلئے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ انتھک کوششوں میں لگی ہیں۔

بروز جمعرات بعد نماز مغرب بھوپال کی تاریخی مسجد ”تاج المساجد“ میں ان کی شادی ایک سادہ تقریب میں انجام پائی۔شادی کی اس تقریب میں نہ بارات نہ جہیز اور نہ کوئی رسم و رواج، نہایت سادگی کے ساتھ مرحوم ڈاکٹر رفیق صاحب کے صاحبزادے شیخ ذیشان سے عقد مسنون ہوا۔

نکاح کا خطبہ اس خاکسار کو پڑھنے کا موقع ملا، میں نے دولہا دلہن دونوں کے اہل خانہ کو سادگی اور مسنون طریقے پر نکاح کی تقریب منعقد کرنے پر دلی مبارکبادی پیش کی۔ اس موقع سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے میں نے کہا کہ: ماشاءاللہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ”آسان اور مسنون نکاح مہم“ کے خوشگوار نتائج ملک کے کئی صوبوں میں سامنے آرہے ہیں۔

اس پر فتن دور میں جب کہ مسلم لڑکیاں ارتداد کے دہانے پر کھڑی ہیں جاہلی رسوم کے خلاف اسی طرح علم بغاوت بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے اس اہم موڑ پر اس جوڑے نے اسلامی تعلیمات پر عملی مثال قائم کرکےجو ایک نمونہ پیش کیا ہے آج ایسی ہی عملی مثالیں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ اس نکاح کو باعث خیر و برکت بنائے، رحمتوں کی بارش کرے، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس عقدمسنون کے نتیجے میں ایک پرسکون اور خوشگوار عائلی زندگی وجود پزیر ہو۔

خاکسار نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: ”آج لوگوں کی اکثریت فریضہ نکاح کے متعلقہ مسائل سے اتنی غافل ہے کہ میاں بیوی کے حقوق تک کا انہیں علم نہیں۔ آج لوگ جس طرح نماز، روزہ اور زکوۃ کے بارے میں علم حاصل کرتے ہیں اسی طرح نکاح، مہر،نان نفقہ، میاں بیوی کے درمیان بہتر تعلقات، اور ان کے حقوق و فرائض طلاق و خلع اور ان جیسے مسائل کے بارے میں بھی انہیں علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔“

اس سلسلے میں عنقریب مسلم پرسنل لا بورڈ نئے جوڑوں کی تعلیم وتربیت کے لئے ایک نایاب تعلیمی نصاب کا مجموعہ تیار کرے گا اور ورکشاپ کے ذریعے شہر شہر، قریہ قریہ عقد نکاح سے پہلے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو تعلیم دی جائے گی۔ کونسلنگ کے ذریعہ قریب میں شادی ہونے والوں جوڑوں کو خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے کی تربیت دی جائے گی۔

Comments are closed.