قومی اداروں پر شخصی یا خاندانی قبضہ کا دور –
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
صوفی و مُلّا مُلوکیّت کے بندے ہیں تمام
طبعِ مشرق کے لیے موزُوں یہی افیون تھی
ورنہ ’قوّالی‘ سے کچھ کم تر نہیں ’علمِ کلام‘!
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید؟
’ہے جہاد اس دَور میں مردِ مسلماں پر حرام!
یہ امت مسلمہ کی زبوں ہے کہ اس کے مراکز و ادارے بھی شرپسندوں، انا پرستوں اور بوالہوسی کے دلدادہ لوگوں یا خاندانوں کا شکار ہوگئے ہیں، جن کا مقصود اپنی نسلوں کی افزائش، آسائش زندگی، شہرت و ناموری اور فوقیت کے سوا کچھ نہیں ہے، جہاں وہ دین کے نام پر اپنی مَن مانی، مَن مرضی، خواہش پرستی، خود پرستی، خود غرضی اور مفاد پرستی کو بروئے کار لاتے ہیں، اپنی منشا کو دینی جامہ پہنا کر یا تاویل کے لبادہ میں ڈھانپ کر سب کچھ کر جاتے ہیں، جائز و ناجائز کو ایسے خلط ملط کر دیتے ہیں کہ کراماً کاتبین بھی شک میں پڑ جائیں؛ کہ آخر لکھیں تو کیا لکھیں، سچ جانیے! اگر دل کی دنیا نہ ہوتی تو ان کا قلم غش کھا سکتا تھا، واقعہ یہ ہے کہ وہ من پر خواہ کتنی ہی لچھیدار، لَن ترانی اور ساحرانہ گفتگو کر لیتے ہوں، اپنے مقصود اور دینی مفہوم کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوں؛ لیکن درحقیقت وہ مفاد عامہ، اصلاح عام اور قومی ایکتا، اتحاد اور تعلیمی اٹھان و ترقی کی ذرا پرواہ نہیں کرتے، اگر ان کی زندگی کا خلاصہ نکالا جائے تو صرف اور صرف انانیت، اباحیت اور خود پسندی کے سوا کچھ نہ ہوگا، اگر کوئی ان کے قریب ہوجائے تو قدم قدم پر ان کی قلعی کھلتی جاتی ہے، اب تو سوشل میڈیا کے دور میں ویسے بھی سب کچھ آشکارا ہوچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ تعلیمی نصابوں، فرد کی تعمیر اور اشخاص سازی کا کام تقریباً ٹھپ ہوچکا ہے، اس سلسلہ میں کسی ایک ادارے، مرکز کو نہ رکھیے؛ بلکہ عمومی نگاہ دوڑائیے اور جائزہ لیجیے! تو کوئی اشکال باقی نہ رہے گا، ان اداروں میں اگرچہ سیکڑوں طلبہ پڑھتے ہیں، متعدد دارالاقامے اور شعبہ جات ہیں؛ لیکن سالانہ بہ مشکل چند ایک طلباء ہی سند کے مستحق، فکر سے بلند اور امت کے حق میں حقیقی معنوں میں مفید و کارگر ہوتے ہیں، ورنہ انہیں سرپرستوں، ذمہ داروں کا ہی اثر ہوتا ہے کہ وہ بھی مادیت اور روزگاری کے جال میں ایسے پھنس جاتے ہیں؛ کہ سوائے نفس کے کچھ نظر نہیں آتا، آج ہندوازم کی تحریک پر چلنے والے ادارے، عیسائی مشنریز کے اداروں پر غور کیجیے! وہ عالیشان مقاصد، افکار اور تعمیری کاموں میں مگن ہوں گے، اگرچہ ناموری اور شہرت نے انہیں نہ چھوا ہوگا؛ مگر وہ عملی میدان میں تہہ تک اترے ہوئے ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس کے افراد سرکار کو سلطنت میں بدلنے والے ہیں اور عیسائیوں کی فکر رکھنے والے بیوروکریٹس اعلی عہدیداروں میں سے ہوگئے ہیں، ایسا مانا جاتا ہے کہ انہیں اب کوئی الگ نہیں کرسکتا، چنانچہ جب کبھی کوئی معمولی بات بھی ان کے مذہب، مضامین یا افراد کے خلاف کی جاتی ہے تو ہنگامہ مچ جاتا ہے، مسلمانوں نے أولاً تعلیم کو محدود کردیا، یقیناً ایک دور میں اس کی ضرورت تھی؛ لیکن بعد کے ادوار میں یہی مزاج قائم رہا، دراصل ان اداروں سے ایسے افراد نکلے جنہوں نے مذہبی تسلط، سیاسی جماعتوں سے گٹھ جوڑ اور حاکمانہ فکر اپنی شرست میں بٹھا رکھی تھی، وہ یہ یکسر قبول نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی ان کے درمیان آئے، ان کی سلطنت پر آنچ آئے، چنانچہ ان کے آباء و اجداد نے دین کی خدمت، تعلیم کی افزائش اور قوم کی ترقی کے نام پر چندہ وصول کیا، گھر گھر گئے، فرد فرد کو جوڑا، غلہ و اناج لیے، پیسے بھی لیے، جائیدادیں بھی لیں، ایک ادارہ قائم ہوا، عالیشان عمارت بھی بنی، تعلیمی مراحل بھی شروع ہوئے، قوم نے بہت حد تک استفادہ بھی کیا، نئے نئے زوایہ فکر بھی کھلے؛ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اسے ہائی جیک کرلیا گیا، ان کے اخلاف نے قومی ملکیت کو اپنے باپ کا مال سمجھا، اسے اپنی وراثت سمجھی، اس کی زمینوں، جائیدادوں کے حصے بخرے کر دیے، اور تمام منصوبوں کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف اپنی ضرورت اور خاندانی تسلط کو اہمیت دی جانے لگی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کچھ دین کے نام پر ہی ہوتا آیا ہے، اور ہورہا ہے، اب بھی وہ دانہ دانہ لوگوں سے مانگ کر لاتے ہیں، پائی پائی کے لئے انہیں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں؛ یقیناً وہ بقدر ضرورت ان أموال کے مستحق ہیں، لیکن جب ان کے حقیقی مستحقین کو دینے کی بات آئے یا پھر ادارے پر قومی خیر خواہوں کی آواز اٹھے تو تمام آوازوں کو دبا کر یہ جتلانا بلکہ یہ دباؤ بنا کر بیاں کرنا شروع کردیا جاتا ہے؛ کہ یہ زمین میری ہے، سب کچھ میں نے کیا ہے، میں نے…. میں نے…. میں نے اور صرف میں نے…. سچ جانیے! یہ سب دیکھ کر آپ ان دنیاداروں پر رشک کرنے لگیں گے جن پر فتوے بازیاں کی گئیں، جن کی فکر اور افکار کے ریشے نکال نکال کر کفر کا فتوی لگایا گیا، خدا گواہ ہے کہ انہوں نے خلوص اور قوم کی خدمت میں کوئی کمی نہ دکھائی، ان کی نسلیں بھی پاک رہیں، وہ اگرچہ اہل بیت میں سے نہ تھے؛ لیکن تقدس میں کسی سے کم نہیں لگتے، علی گڑھ یونیورسٹی کو دیکھ لیں! سر سید پر بنی ڈاکومنٹری دیکھیے یا ان پر لکھی گئی کتابیں پڑھیے! آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ قوم کے ایک فرد نے کیسے اعلی سند، بہترین مواقع، اپنی راحت، آسائش اور سکون کو چھوڑ کر دین کی خدمت کے لئے بے قرار اور بے کَل ہوا کہ گھر گھر جا کر چندہ اکٹھا کیا اور پھر ایک چھوٹا سا اسکول بنایا جو آج عظیم الشان یونیورسٹی ہے؛ لیکن ان کی اولادیں اس پر قابض نہیں ہوئیں بلکہ قوم کی خدمت میں لگ گئیں، جامعہ ملیہ کو لے لیجیے! یا دیگر سرکاری کالجز اور یونیورسٹیز کی تاریخ دیکھیے! بیرون ممالک میں آکسفورڈ، کیمبرج یونیورسٹیز وغیرہ کو بھی مت بھولیے! ایسے اندازہ ہوجائے گا کہ کیسے قوم کے خدام نے سب کچھ کیا لیکن اپنی خاندانی و افراد کی نفس پرستی کے لئے اسے تماشہ بننے نہ دیا، اس کے بالمقابل دین کے ٹھیکیدار، خلوص و للہیت کے علمبردار اور دینی امور کے نگرانوں کا جائزہ لے لیجیے! آپ اگر فطرت سلیم پر ہیں، دل قوم و ملت کے لئے دھڑکتا ہے تو پھر خون کے آنسو روئیں گے، خاندانی جھگڑوں نے عظیم اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجادی، کورٹ کچہری کے چکر لگوائے، بھائی بھائی پر الزام تراشی، خوان خرابہ اور تقسیم و تفریق تک کی نوبت آگئی، اسی طرح کبھی فرد کی انا پرستی نے تعلیم کی ہوا نکال دی اور اب سب اپنا اپنا ایک ہیولہ لیے بیٹھے ہوئے ہیں، اپنی دکان سجائے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان اداروں سے کوئی نئی تحریک اور نیا کام وجود پذیر نہیں ہوتا، اس کے فارغین بھی اسی مزاج اور کند فکر کے مالک ہوتے جو بڑوں کی تربیت اور چَلن کا نتیجہ ہوتا ہے، چنانچہ عمومی اصلاح اور سماج پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں دکھتا، یہ اب اپنے جزیروں میں قید ہیں، اپنے اپنے ڈربوں میں بسے ہوئے ہیں، بلکہ اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور سلطنتوں میں مگن ہیں، جہاں کسی دوسرے کی کوئی جگہ نہیں ہے، وہ ملوکیت اور بادشاہت کے خلاف اگرچہ تقریریں کریں گے، گالیاں دیں گے اور خلافت راشدہ کی دہائی دیں گے، مگر قسم بخدا وہ خود ملوکیت کے دلدادہ اور شہنشاہیت کے متوالے ہیں، یقین نہ آئے، تو اٹھیے! ذرا خود کو حرکت دیجیے! اور ایک سر سری جائزہ لے لیجیے! یقیناً آپ کی آنکھیں مارے حیرت کے پتھرا جائیں گی اور دل کڑھن میں ڈوب جائے گا، آنکھوں سے امت کی زبوں حالی پر آنسوؤں کا سمندر بہہ پڑے گا۔
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد دل میں سوا ہوتا ہے
Comments are closed.