خوشگوار خاندانی تعلقات کے آداب
حنا خان آکولہ
خاندان کسی ایک یا دو فرد سے نہیں بنتا بلکہ یہ کئی افراد کے مجموعہ سے مل کر بنتا ہے جس میں کہ خون کے رشتے شامل ہوتے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں. ایک دوسرے کے سکھ دکھ کے ساتھی ہوتے ہیں.
لیکن اسی کے ساتھ "فلاں خاندان میں بڑی ان بن چل رہی ہیں ” یہ وہ جملہ ہے جو اکثر سننے کو ملتا ہے. آج کوئی خاندان ایسا نہیں رہ گیا ہے جس میں کسی قسم کی کوئی رنجش نہ ہو, جس میں آپس میں جھگڑے نہ ہو, ایک دوسرے سے شکوہ شکایت نہ ہو – آخر کیا وجہ ہے کہ ایسے کئی مسئلے سامنے آتے ہیں ؟؟؟ اور ایسے مسئلے کبھی مستقل طور پر حل نہیں ہوتے ؟ دراصل اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ہے کہ خاندان میں رہ رہے لوگ خاندان میں رہنے کے ,خوشگوار تعلقات استوار کرنے کے آداب سے نا واقف ہوتے ہیں .
آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے خوشگوار آداب ہیں جو ایک خوشگوار خاندان کے لیے ضروری ہیں.
* گیٹ ٹو گیدر :
کسی انسان کو جانے بنا اس سے ملے بنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ اسے سمجھا جائے اس کے مزاج کا پتہ لگایا جائے اسی لیے اگر خاندان میں کوئ فنکشن نہ بھی رہا تو ایک دن ہفتہ یا مہینہ میں ایسا ضرور مقرر کریں کہ جس میں خاندان کے تمام لوگ اکٹھا ہو. اپنے خیالات ایک دوسرے سے ساجھا کرسکے اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارسکے… جس سے وہ آپس میں ایک دوسرے کو سمجھ پائے.
*خوشی و غم میں شریک ہونے میں پہل کریں:
ہر انسان کے ساتھ خوشی اور غم جڑے ہوئے ہیں کوئی بھی اس سے مستثنی نہیں ہے,
خاندان میں کسی کے پاس آگر خوشی کا موقع آئے یا غم کا پہاڑ ٹوٹے تو اس کی ڈھارس باندھنے اس کا سہارا بننے میں پہل کرنا خاندان کے تعلقات میں بہتری لاتا ہے.
اسی طرح خاندان میں کوئ اگر ناراض ہو تو اسے منانے میں بھی پہل کرنا چائیے… کیونکہ اللہ رب العالمین کو بھی ایسے لوگ پسند ییں جو تعلقات کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں . اور حدیث میں بھی اس کی تاکید آئی لہذا ایسا کرنے سے آپ اللہ رب العالمین کے بھی پسندیدہ بن جائے گے اور اپنے تعلقات کو بھی بہتر بنا لے گے-
*امیدیں وابستہ نہ کریں :
سب سے ذیادہ خاندانی رشتوں میں رنجشوں کا سبب اگر کچھ ہے تو وہ یہ کہ سبھی لوگ کسی بھی رشتہ سے بہت ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں اور پھر اگر سامنے والا ان امیدوں پر کھرا نہ اترا تو اس سے اپنے تعلقات کمزور کرلیتے ہیں, اسی لیے خوشگوار خاندان کا سب سے پہلا اصول ہے کہ کسی سے کوئ امید نہ وابستہ کی جائے کہ فلاں ایسا کرے گا! یا اس نے ایسا کرنا چائیے.
*شکایتوں سے پرہیز :
اگر کسی نے کچھ ایسا کام کردیا کہ جو آپکو پسند نہیں آیا تو بہتر ہے آپ خاموشی اختیار کرلیں اس سے اس کام کی شکایت نہ کریں. آپ کے شکایت کرنے سے آپ اس کے دل میں اپنے لیےکڑواہٹ بھر لیں گے جو آپ کے رشتہ کے لیے مضر ثابت ہوگی-
*بدگمانی نہ کریں :
قرآن کے الفاظ ہیں کہ "بعض گمان گناہ ہے ” اسی لیے اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے اور پھر جو گناہ ہوتے ہیں وہ آخرت برباد کرنے کے ساتھ دنیا کی زندگی کے لیے بھی نقصان کا باعث بنتے ہیں.- خاندان کا کوئی فرد اگر کسی کے خوشی یا غم میں شامل نہ ہوسکا تو بہت جلدی گمان کرلیاجاتاہے کہ ‘فلاں کسی خوشی سے جل گیا’ یا فلاں کو تو ہمارے غم سے کوئ سروکار ہی نہیں.’ بنا اس کے حالات جانےاس طرح کے گمان کرلیے جاتے ہیں جو رشتوں کو کمزور کردیتے ہیں اس لیے خوشگوار رشتوں کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ گمان نہ کیا جائے –
*لعن طعن سے بچیں :
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے رشتے خوشگوار ہو ان میں اپنائیت, ایثار محبت ہو تو ضروری ہے کہ انھیں لعن طعن سے پاک رکھا جائے اگر آپ اپنے رشتوں میں لعن طعن سے بچیں گے تو آپکے رشتہ بھی خوشگوار ہوگے اور خاندان میں اپنائیت کی فضا مہکے گی…
*انا کو ختم کریں :
انا ایک ایسا جذبہ ہے جو بڑے سے بڑا اور قریبی رشتہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے-اور اس سے خاندانی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اسی لیے اسے ختم کریں تاکہ آپ ایک خوشگوار خاندان کی بنیاد رکھ سکے..
*عزت نفس کا خیال :
آپس کے رشتوں کو خوشگوار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایکدوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے کیونکہ کسی بھی انسان کے لیے اس کی عزت نفس بہت عزیز ہوتی ہے گر کوئی اسے مجروح کردے تو وہ انسان ٹوٹ جاتا ہے اور پھر سامنے والے سے اس کا رشتہ بھی صحیح نہیں رہ پاتا-
اگر ان تمام آداب کا خیال خاندان کے تمام افراد رکھیں گے تو یقیناً ان کا خاندان خوشگوار خاندان کہلائے گا-
Comments are closed.