ایک نکاح نامہ کاتعارف
از : حافظ امانت اللہ رشیدی
ملک کے موجودہ حالات اورمسلمانوں کے گھریلومسائل کے پیش نظر ملکی پیمانہ پر بارباریہ بات آرہی ہے کہ نکاح کے وقت ہی کچھ ایسی شرطوں کااضافہ کردیاجائے جن سے دونوں میاں بیوی کو شرعی،قانونی اورسماجی طورپرتحفظات حاصل ہوں،اس لئےطویل تجربہ،اورروزمرہ کے مشاہدات کو مدنظر رکھتے ہوئے محترم جناب قاضی محمد فیاض عالم اور مفتی محمد حذیفہ پالنپوری نےایک نکاح نامہ مرتب کیاہے، جو درحقیقت سند نکاح (Marriage Certificate)ہے۔اس کی خصوصیات کچھ اس طرح ہیں:
(١)یہ نکاح نامہ صرف یک ورقی ہے، زیادہ طویل بھی نہیں کہ بھرتے بھرتے اکتاہٹ آجائے اورنہ زیادہ مختصرکہ اصل مضمون اورمقصد ہی رہ جائے(٢) پہلےصفحہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ سب سے پہلے اللہ کے نام کے ساتھ شروع کیاگیا ہے،(٣)اس کے بعد انگریزی اور اردو میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ نکاح شریعت اورمسلم پرسنل لاکے مطابق منعقد ہواہے،(٤)اس کے بعد نکاح منعقد ہونے کی تاریخ اورمقام کاکالم ہے،(٥)پھر میاں بیوی کے نام ، ان کے والد یاسرپرست کے نام ،اوران کے پتےہیں۔والد کے ساتھ” سرپرست” لکھنے کافائدہ یہ ہے کہ اگر لڑکی یالڑکے کے والدنہیں ہیں، تو ان کے سرپرست کانام لکھاجاسکتاہے۔اگر کسی نے کسی بچہ کو گود لیاہواہے تو بحیثیت سرپرست اس کانام لکھاجاسکتاہے۔(۶)دونوں میاں بیوی سے ایک متبادل پتہ بھی طلب کیاگیاہے، تاکہ بوقت ضرورت رابطہ کیاجاسکے ، خاص طور بڑے شہروں میں لوگ گاؤں دیہات یا دوسرے صوبوں سے آکر کرایہ پررہتے ہیں، اسی پتہ سے شادی وغیرہ ہوتی ہے، لیکن کچھ عرصہ بعداگروہ دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں،یامیاں بیوی میں سے کوئی ایک اپنے اصلی وطن جانے کے بعد واپس نہیں آتےتو دوسرے کوپریشانی ہوتی ہے، تو متبادل پتہ کی جگہ پر وطن اصلی کاپتہ لکھاجاسکتاہے۔(۷)دونوں کے آدھار نمبر اور دستخط نیزان کے والدین یا سرپرستوں کے دستخط کے خانے بھی ہیں،تاکہ آدھارنمبر سے مکمل جانکاری بوقت ضرورت حاصل کی جاسکے، کسی قسم کادھوکہ وغیرہ نہ ہو(۸)سرپرست کے دستخط سے دوفائدے ہیں ایک تو یہ کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں شوافع حضرات بھی بستے ہیں، ان کے یہاں ولی کی رضامندی کے بغیرنکاح منعقد نہیں ہوتاہے،اس لئے سرپرست کی رضامندی کی علامت کے طورپراس کادستخط ضروری ہے۔دوسرافائدہ یہ ہے کہ سماجی لحاظ سے میاں بیوی میں سے کسی کے بارے میں آوارگی کاشبہ نہ ہویعنی ان کی شبیہ(Image) متاثرنہ ہو۔ (۹)گواہوں کے نام مع ولدیت، آدھارنمبر اوردستخط کے خانے ہیں، دستخط اس بات کی علامت ہے کہ ان کی موجودگی میں ایجاب وقبول ہواہے، اورآدھارنمبر سے ان کی مکمل جانکاری حاصل ہوسکے گی۔ (١۰)اخیرمیں نکاح پڑھانے والے کانام وپتہ اوراس سندنکاح کو جاری کرنے والے شخص یا ادارہ کا نام ودستخط مع مُہرہے؛تاکہ بوقت ضرورت ان سے رابطہ کیاجاسکے۔اس میں اس بات کابھی لحاظ رکھا گیاہے کہ اگرنکاح پڑھانے والاکوئی اورہے اورسند جاری کرنے والاکوئی اورشخص یاادارہ ،تو اس کی بھی گنجائش ہے۔(١١)یہ پوراصفحہ اردو اورانگریزی میں ہے، اس لئے اس نکاح نامہ کو انگریزی میں ٹرانسلیشن کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
(١٢)دوسراصفحہ وکالت نامہ،اجازت نامہ،ولایت نامہ اوراقرارنامہ پر مشتمل ہے، جس میں لڑکا اورلڑکی دونوں اپنے ولی یاوکیل کو نکاح کرانے کی اجازت دیتے ہیں ،ساتھ ہی نکاح پڑھانے والے کو بھی اجازت دیتے ہیں انھیں بھی وکیل بناتےہیں۔(١٣)اقرارنامہ میں دونوں میاں بیوی اس بات کااقرارکرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے حقوق کو اچھی طرح سے اداکریں گے،جھگڑاگالم گلوچ اور مارپیٹ نہیں کریں گے،شوہرکبھی بھی جہیز کامطالبہ نہیں کرے گا، وہ اپنی بیوی کانفقہ پورااداکرے گااوراس کو کبھی کبھار میکہ بھی جانے دے گا،(١٤) جب کہ بیوی اپنے شوہر کی جائز امورمیں اطاعت وفرمانبرداری کرےگی، اپنے شوہر کی خدمت کو باعث سعادت سمجھے گی، عرف کے مطابق گھریلوکام کاج بھی کرے گی، وغیرہ۔(١٥)اگرخدانخواستہ ان دونوں کے درمیان جھگڑاوغیرہ ہوجائے تو دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ/دارالقضاء امارت شرعیہ/محکمہ شرعیہ جمعیۃ علماء ہنداورمقامی شرعی پنچائت سے رجوع کریں گے، وہاں کےقاضی صاحب یااراکین ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ان کا شرعی فیصلہ دونوں کے لئے قابل قبول ہوگا۔(١۶)اسی طرح اس میں یہ بھی اقرارہے کہ مرد اپنی بیوی کوکبھی بھی تین طلاق نہیں دے گا، اگرخدانخواستہ دیدیا تومتعینہ مہر کا اتنا(مثلا دس، بیس) فیصدمزید اداکرناپڑے گا،(١۷)اس کے برعکس اگر عورت نے بلاوجہ خلع طلب کیا یاخود کی غلطی کی وجہ سے خلع ہورہاہے تو مہر کااتنا(مثلا دس، بیس)فیصدوہ مزید اداکرے گی،(١۸)تاہم اگر سخت ضرورت پیش آجائے تو مرد طلاق احسن یعنی صرف طلاق رجعی دے گا۔(١۹)اس نکاح نامہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں کسی ٹرسٹ یامحکمہ یاادارہ کانام نہیں ہے، لہذا یہ پورے ہندوستان میں استعمال ہوسکتاہے، البتہ اس کے لئے جگہ چھوڑدی گئی ہے تاکہ متعلقہ ادارہ یا اس کانمائندہ اپنانام وپتہ ،دستخط اور مہر لگاسکے۔(٢۰)اس نکاح نامہ کوعمدہ اورموٹے کاغذ ، اورمضبوط بائنڈنگ کے ساتھ طبع کیاگیاہے،ایک رجسٹر پچاس کاپیوں پر مشتمل ہے۔اس نکاح نامہ کو حاصل کرنے کے لئے رابطہ کریں۔فقط
حافظ امانت اللہ/مکتبہ ابن کثیربلاسِس روڈ، ناگپاڑہ، ممبئی۔8
9892291025/8080697348/(امانت اللہ)8898574276
Comments are closed.