صحت ہی زندگی ہے

از قلم : کرن امجد ( ظفروال)

کہا جاتا ہے کہ صحت اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے

"جان ہے تو جہان ہے”

یعنی انسان کی صحت ہے تو یہ سب کچھ ہے اگر صحت نہیں ہے انسان کچھ بھی نہیں ہے۔اللہ تعالی نے ہر انسان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے انسان کو خوبصورت زندگی دی ہے اس لیے انسان کو اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ

ترجمہ

"یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے ہی بنی آدم کو عزت اور احترام سے سرفراز فرمایا اور انہیں خشکی و تری پر سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت دی”

 

صحت اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے صحت کی قدر کرنا اور اس کی حفاظت کرنا لازمی ہے۔صحت کے بارے میں معمولی سی غفلت بھی بڑے نقصان کا باعث بنتا ہے اور یہ اللہ کی ناشکری کے مترادف ہوتا ہے ۔

انسان کی زندگی کا اصل جوہر اس کا عقیدہ ,عقل, شعور اور ایمان ہے اسی پر جسم کی صحت اور تندرستی کا مدار ہے ۔اسلامی تقاضوں اور اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے صحت کا بہترین ہونا بہت ضروری ہے اللہ تعالی نے اپنے عظیم کلام میں واضح انداز میں بیان فرمایا ہے کہ

ترجمہ

"اے لوگوں کھاؤ جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین میں اگایا ہے حلال و طبیب، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے”

البقرہ ( 168)

حدیث میں ہے کہ

” ایک قوی مومن بہتر ہے اللہ کے نزدیک

ایک کمزور مومن کے مقابلے میں،

جبکہ دونوں میں اچھائی ہے”

( بخاری )

ایک مومن کا قوی ہونا کئ اعتبار سے مطلوب ہے ۔اس حدیث کی روشنی میں امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں یقینا جسمانی قوت کی جانب توجہ دلوائی ہے ۔ ایک قوی مومن ہی بہتر انداز سے اللہ کی فرض کی ہوئی عبادات اور بندگی رب کے تقاضے ادا کرسکتا ہے۔

” آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ

تم اپنے بچوں کو تراکی، تیر چلانا ا ورگھوڑسواری سکھاؤ”

ان حدیثوں سے یہ واضح ہے کہ جسمانی صحت و تندرستی اور چاق و چوبند رہنا قابل قدر اور ایسی اوصاف ہے جو اسلام ایک مومن میں دیکھنا چاہتا ہے۔

آج کل اس تیز رفتار دنیا میں ہر انسان بس پیسے کے پیچھے بھاگ رہا ہے ہر وقت بس کام کام اور بس کام کام ٹھیک ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری انسان کی اپنی صحت ہے کیونکہ صحت اچھی ہوگی تب ہی انسان اپنے تمام تر کام اچھے سے سر انجام دے سکتا ہے ۔اچھی صحت و تندرستی کے ضمن میں ہمارا دین سب سے پہلے شعور ذہن اور قلب کی پاکیزگی یعنی تزکیہ نفس کی تعلیم دیتا ہے یہ تزکیہ نفس ہی ہے جو ہمارے شعور جسم اور ماحول کو صاف و شفاف رکھتا ہے صحت مند جسم کے لئے صفائی ضروری ہے

جیسا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ

” پاکیزگی آدھا ایمان ہے ”

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ صفائی انسان کے لیے بہت ضروری ہے اور جو انسان صاف ستھرا رہتا ہے وہ انسان ہی صحت مند رہتا ہے کیونکہ صفائی سے انسان کی صحت پر بڑے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اچھی خوراک انسانی جسم کی ایک بنیادی ضرورت ہے ۔ غذائی خوراک کا کردار صحت کو فروغ اور بیماری کی روک تھام میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔تاہم یہ بات نہایت قابل غور ہے کہ محض غذا کی مقدار کی ہی نہیں بلکہ معیار ی غذا کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔پاکستان جو کہ ایک ترقی پذیر ملک ہے اس میں ایک سروے کے مطابق صرف 59 فیصد لوگ غیر معیاری کھانا کھانے پر مجبور ہیں ۔غیر معیاری کھانے کی قدرت نے پاکستان میں عام عوام کی صحت سے متعلق ایک خوفناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔جس کی ممکنہ وجہ حفظان صحت اور فوڈ سیفٹی کی اہمیت کے بارے میں شعور کی کمی بھی ہے۔صحت کے مسائل میں دن بدن اضافے کی وجہ سے اموات کی شرح میں بھی کافی حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ریسٹورنٹ میں کھانے کے رجحان اور فاسٹ فوڈ نے صحت کے متعلق سنگین مسائل کو جنم دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ( 2-2 ملین افراد) زیادہ تر بچے ہر سال غذا اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں-ان میں سے ہر پانچواں فرد ہیپاٹائٹس یا الرجی میں مبتلا نظر آتا ہے۔کیوں ہمارے ہسپتال ہر وقت مریضوں سے بھرے رہتے ہیں؟ہمارے پاس مختصر زندگی کی امید کیوں ہے؟یہ سب غیر جانبدار اور مضر صحت کھانا کھانے کا نتیجہ ہے جو ہم معمول کی بنیاد پر کھاتے ہیں یا تو اپنے منہ کے ذائقے کے لئے یا مجبوری کے تحت۔ریسٹورنٹ میں برتنوں کا غیر مناسب طریقے سے دھلنا،پینے کے قابل پانی کی عدم فراہمی،غیر معیاری گوشت اور سبزیوں کا استعمال،ناقص تیل کا غیر معمولی مقدار میں استعمال جیسی وجوہات زندگی اور صحت کے لیے ممکنہ خطرات کو فروغ دیتی ہیں۔

غذا انسانی جسم کے لیے بہت اہم ہے انسان اچھی اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے جبکہ ایک صحت بخش زندگی کے حصول کے لیے بہترین غذا کی ضرورت ہوتی ہے تندرست و توانا رہنے کیلئے ضروری ہے کہ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے ۔بہتر جسمانی نشوونما کے لئے روزانہ کی بنیاد پر پانی، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، وٹامن اورمنرلز درکار ہوتے ہیں۔

اچھی خوراک کھانے سے انسان بہت سی بیماریوں سے بچ سکتا ہے اور صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔صرف اس بات کا خیال رکھنا ہی اہم نہیں کہ آپ کس طرح کی غذا کھاتے ہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ آپ کتنی مقدار میں کھاتے ہیں۔ اپنے کھانے سے لطف ضرور اٹھائیں لیکن جتنی بھوک ہے، اس سے زیادہ نہ کھائیں۔

 

اچھی صحت کے لئے کچھ ضروری ٹپس

 

1 سب سے پہلے اپنے جسم کی صفائی کا خیال رکھیں۔دانتوں کو صاف کریں کیونکہ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں وہ سارا کچھ ہمارے منہ کے ذریعہ جسم میں جاتا ہے۔اپنے کپڑوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ ہفتے میں تقریبا تین دفعہ کپڑے تبدیل کریں۔

2 اچھی غذا کا استعمال کریں ۔کھانے پینے کی تمام چیزیں اچھی طرح صاف کر کے کھائیں اور پانی بھی صاف ستھرا استعمال کریں ۔ کیونکہ غذا اچھی نہ ہو تو بھی جسم میں مختلف قسم کی بیماریاں پھیل سکتی ہیں ۔مثال کے طور پر پانی صاف ستھرا نہ پئے تو جگر ،جلد ،گردوں اور بہت سی دوسری بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔بہت زیادہ چکنائی والی چیزیں اور میٹھی چیزیں کھانے سے پرہیز کریں ۔ہر چیز کو مناسب مقدار میں استعمال کرے۔بہت زیادہ دوائیاں کھانے سے پرہیز کرے۔بہت سارے مسئلے ایسے ہیں جن کا گھر میں ہی علاج کیا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر اگر آپ کو وٹامن ڈی کی کمی ہے تو صبح سورج کی شعاعوں کے سامنےکھڑے ہو۔اگر وٹامن سی کی کمی ہو تو ترش پھل جیسے کینو اور لیموں وغیرہ زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔اگر خون کی کمی ہے تو کھجوروں اور کلیجی کا استعمال کریں۔

3 ورزش کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں۔ورزش کرنے سے ہمارے جسم میں بہت مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔جسمانی وذہنی صحت کا زیادہ تر دارومدار ورزش پر ہی ہے خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے انسان کا صحت مند رہنا بہت ضروری ہےاور صحت کا ورزش کے بغیر قائم رکھنا بہت مشکل ہے۔ورزش انسان کو کاہلی سے نکالنے میں بہت مدد دیتی ہے۔جو لوگ ورزش نہیں کرتے وہ جلدی تھک جاتے ہیں اور ان کے پٹھے نرم پر جاتے ہیں۔تھوڑی سی مشقت سے سانس پھولنے لگتا ہے ۔

کھیل بھی ورزش کا کام دیتا ہے اس سے ذہنی اور جسمانی دونوں ورزشیں ہوتی ہیں۔فٹ بال، ہاکی اور کرکٹ یہ سب مفید ہے لیکن اگر آپ کوئی کھیل نہیں کھیل سکتے تو خود ورزش کرے اور اسے اپنی زندگی کا معمول بنائیں۔جو لوگ روزانہ ورزش کرتے ہیں وہ دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ چست اور صحت مند ہوتے ہیں ۔نماز پڑھے یہ سب سے بہترین ورزش ہے ۔

5 نیند کو پورا کریں۔نیند بھی انسان کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق سات یا آٹھ گھنٹے سونا چاہیے۔امریکہ کی نیشنل ہائی ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق کم نیند ذہن کو تھکا دیتی ہے۔ایسے لوگ جو اپنی نیند پوری نہیں کرتے وہ ڈیپریشن کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔اگر نیند پوری ہو تو انسان چست اور صحت مند نظر آتا ہےاور انسان اپنے سارے کام خوشی سے کرتا ہے۔

6 مسکراہٹ بھی اچھی صحت کیلئے بہت ضروری ہے۔مسکرانے سے انسان کی شخصیت پر بڑا اچھا اثر پڑتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ

” مسکرانا صدقہ ہے ”

مسکراہٹ ذہنی تناؤ میں کمی لانےمیں مدد دیتا ہے.مسکراٹ جسم کی قوت مدافعت کوقوت دیتی ہے۔ہنسنے سے دل کی صحت اچھی رہتی ہے اور پھیپھڑوں کے لیے بہت مفید ہے۔

خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھے۔

Comments are closed.