یاد (افسانہ)

از قلم :انعم شہزادی( راولپنڈی)
آمنہ کے گھر سے تھوڑا دور ایک باغ تھا ۔وہ باغ کے اندر داخل ہوئی اور ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اس کا استقبال کیا۔ پھولوں کی پتیوں پر شبنم کے موتی چمک رہے تھے۔ باد نسیم کے جھونکے ٹہنیوں سے کھیل رہے تھے ۔کلیاں مسکرا رہی تھی۔ ہر طرف تروتازگی، پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور پرندے چہچہا رہے تھے ۔چڑیاں پھدک پھدک کر ایک ٹہنی سے دوسرے ٹہنی پر جاتی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس کے کالے لمبے بال، بھورے رنگ کی آنکھیں ،چاند سا روشن چہرہ، گلابی اور باریک ہونٹ اس کے حسن کو چار چاند لگا رہے تھے ۔وہ چلتی ہوئی باغ کے دائیں جانب لگے درختوں کے جھنڈ کے نیچے پیٹھ گئی۔ ساری رات اُوس کی وجہ سے سڑکیں اور گھاس گیلےنظر آ رہے تھے ۔سر اٹھا کر اوپر گھنے درخت کو دیکھا جس سے اُوس کے قطرے ٹپک رہے تھے اور پھر اس نے چاروں جانب نظر دوڑائیں آنکھوں میں چمک اور لبوں پر مسکراہٹ آگئی ۔
کیونکہ سامنے ایک لڑکی اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی تھی تو اس کو ماں پاس بیٹھا دیکھ کر خوش ہو رہی تھی اور یہ منظر دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئی۔ کیونکہ اسے اپنی ماں کی یاد آگئی جو دو برس پہلے اس سے جدا ہو گئی تھی ۔ پھرباہوں میں سر دیے زاروقطار روئے جارہی تھیں ۔اس کو کسی کے بولنے کی آواز نہیں آئی ۔
حیاء! دور سے آوازیں دیتی اُس کے پاس آئی تو
آمنہ نے اُس کے قدموں کی آہٹ سن کر اپنی آنکھوں سے آنے والے آنسوؤں کو صاف کیا ۔
حیاء؟آمنہ میں تم کو کب سے آوازیں دے رہی ہو ں__،
اچھا مجھے آواز نہیں آئی،،
حیاء؟ارے تم تو رو رہی ہو کیا ہوا؟ حیا کے اس سوال کے پوچھنے کے بعد اور رونا شروع کر دیا۔حیاء آج میری امی کو فوت ہوئے دو برس گزر گئے وہ مجھ سے جدا ہو گی ہمیشہ کے لئے تنہا چھوڑکرچلی گئی۔ وہ کیوں مجھے چھوڑکر گئی؟ تو یہ بولتے ہوئے پھرسےآمنہ بلک بلک کر رونے لگی ۔آمنہ نے حیاکو گلے لگایا اس کو تسلی دی اور کہا کہ آمنہ اللہ پاک کی چیز تھی جو اللہ نے لے لی۔ ایک نہ ایک دن تو سب کو جانا ہوتا ہے تمہارے ایسے رونے سے تمہاری ماں کو تکلیف ہوگی ۔تم ان کے لئے دعا کرو۔ یہ دکھ ہمیشہ کے لئے ہے مگراس دکھ سے زندگی رک نہیں سکتی۔اٹھو اتنا وقت ہوگیا۔ پھر حیا نے اس کے آنسو صاف کیے اور اپنے ساتھ لے کر چل پڑی ۔

Comments are closed.