قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے کوئی ملعون وسیم رضوی اس میں تبدیلی نہیں کر سکتا!
ازقلم: جویریہ امانت (سیالکوٹ)
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)
بےشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں
اس آیت میں کفار کو جواب دیتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، بے شک ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے اور ہم خود تحریف ، تبدیلی ، زیادتی اور کمی سے اسکی حفاظت فرماتے ہیں۔ یاد رہے کہ تمام جن و اِنس اور ساری مخلوق میں یہ طاقت نہیں ہے کہ قرآنِ کریم میں سے ایک حرف کی کمی بیشی یا تغییر اور تبدیلی کرسکے اور چونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم کو معجزہ بنایا کہ بشر کا کلام اس میں مل ہی نہ سکے۔ اس کو معارضے اور مقابلے سے محفوظ کیا کہ کوئی اس کے مثل کلام بنانے پر قادر نہ ہو۔ ساری مخلوق کو اسے معدوم کرنے سے عاجز کردیا کہ کفار شدید عداوت کے باوجود اس مقدس کتاب کو معدوم کرنے سے عاجز ہیں ۔
تاریخ شاہد ہے کہ اگر کسی نے قرآن کے نور کوبجھانے، اس میں کمی زیادتی، تحریف اور تبدیلی کرنے یا اس کے حروف میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی بھی تو وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ قَرَامِطَہْ کے مُلحد اور گمراہ لوگ سینکڑوں سال تک اپنے تمام تر مکر ،دھوکے اور قوتیں صرف کرنے کے باوجود قرآن کے نور کو تھوڑا سا بھی بجھانے پر قادر نہ ہو سکے، اس کے کلام میں ذرا سی بھی تبدیلی کر سکے
بھارت میں وسیم رضوی نامی ایک شخص نے 12 مارچ کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک پی آئی ایل (پبلک انٹرسٹ لیٹیگیشن) دائر کی ہے جس میں اس نے موقف اپنایا ہے کہ قرآن میں 26 آیتیں ایسی ہیں جو اس کے بقول بعد میں شامل کی گئی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ان 26 آیتوں میں جہاد کا ذکر ہے جس سے انتہا پسندی کو فروغ ملتا ہے۔ اس کے بعد سے بھارت اور دوسرے ملکوں میں وسیم رضوی پر سخت تنقید اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور خود اس کے اپنے خاندان کے لوگوں نے اس سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔ مختلف مذہبی تنظیموں نے اسے شہرت حاصل کرنے کا ایک نیا ہتھکنڈا قرار دیا ہے اور اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔
وسیم رضوی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور نرینندر مودی کے بڑے مداح ہیں۔ ظاہر ہے کہ پھر ایسے لوگ مذہب کا سودا کر کے ہی یہاں تک پہنچ پاتے ہیں۔ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا بھی یہ شدید حامی رہا ہے ۔ 2019 میں اس نے ’رام کی جنم بھومی‘ فلم لکھی اور اسے خود پروڈیوس بھی کیا۔ اس کے علاوہ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ اور وزیراعظم مودی کے نام ایک خط میں اس نے لکھا تھا کہ بھارت سے دینی مدرسوں کو ختم کر دینا چاہیے۔ اسی طرح ایک اور خط میں اس نے الزام عائد کیا کہ بہت ساری ایسی مساجد ہیں جو مندروں کو مسمار کر کے بنائی گئی ہیں لہٰذا مندروں کو اپنی اصل جگہوں پر بحال کیا جائے۔ جن کے انبیا علیہ السلام نے بت گرائے وہ مسجدیں گرانے کی باتیں کریں گے، افسوس صد افسوس حالات ایسے ہیں کہ آسمان سے آگ اور پتھر برسیں تو بھی سزا کم ہے۔ اور ہٹ دھرمی یہ کہ کہتا ہے میرے لوگ ہی مجھے چھوڑ گئے ہیں پھر بھی میں ہی جیتوں گا، لعنت ہے ایسی جیت پہ، دنیا میں امت مسلمہ زندہ ہے جس نے ایسا کرنے کی کوشش کی صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔
بھارتی سپریم کورٹ میں قرآن میں تحریف کی درخواست دائر کرنے والے وسیم رضوی کو بھارت بھر میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سنی یوتھ ونگ کی جانب سے 17 مارچ کو وسیم رضوی کے خلاف احمد آباد میں مظاہرہ بھی کیا گیا۔ قرآن میں رد و بدل کے ان کے تازہ مطالبے پر بھارت بھر سے اس کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ نہ صرف شیعہ کمیونٹی جس کا یہ چئیرمین تھا، بلکہ خود اس کے خاندان کے لوگوں نے بھی درخواست گزار سے براءت کا اعلان کیا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) رضوی کے خلاف کرپشن کے کیسوں کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس وقت اس کا سپریم کورٹ میں اس طرح کی عرضی دائر کرنے کا ایک مقصد ان کیسوں سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
آزاد بھارت میں قرآن کو عدالت میں چیلنج کرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے 1985 میں چاند مل چوپڑا نامی شخص نے قرآن کو کلکتہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس کا بھی کہنا تھا کہ 85 آیتیں ایسی ہیں جو بقول اس کے تشدد کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ اس سے پہلے سال 1984 میں چکھرابرتی نامی شخص نے مغربی بنگال کے سیکریٹری برائے محکمہ داخلہ کو خط لکھ کر قرآن پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم قرآن میں رد و بدل کے اس مطالبے پر بھارت بھر سے اس کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
ایسے انسان کو مسلمان کہنا ہی اس لفظ کی توہین ہے۔ کافر، مشرکین، منافقین جو اللہ پہ یقین نہیں رکھتے وہ بھی اس پاک کلام کی حرمت پہچانتے ہیں اور بے شک یہ اس محفوظ اور آخری کتاب کا حسن ہے۔ کوئی مسلمان ہو کر اس کتاب پر سوال کرے جس پہ سوال کرنے والے مشرکین کو کہا گیا کہ ایسی کوئی ایک آیت ہی بنا لاؤ اگر تمہیں لگتا ہے کہ یہ انسان کا کلام ہے۔ تو وہ نہ کر سکے بلاشبہ یہ انسان کے بس کی بات نہیں یہ تو اُس رب کی عظمت ہے۔ اور جو کوئی اس پر سوال اٹھائے اور خود کو مسلمان بھی کہے تو ایسے لعنتی اور ملعون کو مسلمان کہنا ہی بے حرمتی ہو گی۔ ایسے انسان کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے؛ تاکہ دوبارہ کوئی ایسی جرات نہ کر سکے۔
Comments are closed.