بے بسی سے امید کی سمت”
میمونہ جاوید ( راولپنڈی)
اک امید باقی ہوتی ہے
جو ہر بے بسی کے بعد آتی ہے
اک ابتداء باقی ہوتی ہے
جو ہر کٹھن راہ کے بعد آتی ہے
شام ڈھلنے کو تھی کہ سورج کی مدھم پڑتی شعاعوں نےگھر کو چار چاند لگا دیے۔ انتہائی دلکش منظر کو ہر شام عائزہ چائے کے ساتھ ضرور انجوائے کرتی تھی۔اس وقت بھی عائزہ کی نظریں ایک گلاب کے پھول پر تھی جس پر سورج کی شعاعوں نے قبضہ جمایا ہوا تھا اور ساتھ ہی وہ چائے کے مزے بھی لوٹ رہی تھی ۔ سورج کی مدھم شعاعوں نے گلاب کی پتیوں کے نکھار میں اضافہ کر رکھا تھا۔ ابھی وہ انہی خیالوں میں سموئی ہوئی تھی کہ گیٹ پر گھنٹی کی آواز سنائی دی۔چند سکینڈ بعد اندر آنے والا شخص عاٰئزہ کا چچا زاد کزن (عرفان) تھا۔ عرفان تقریباً روز ہی اپنے تایا کے پاس چلا آتا تھا ساتھ ہی اس کی عائزہ سے بھی گپ شپ ہو جاتی تھی ۔
"جی جناب آج ہماری یاد کیسے آ گئی ” عرفان ‘ عائزہ کو لان میں دیکھ کر وہی چلا آیا ۔ عائزہ عرفان کو اپنے طرف آتے دیکھ کر مزاحیہ انداز میں کہا ۔
عائزہ کے سوال پر عرفان مسکرا کر کہنے لگا ” میڈم ہم تو تقریباً روز ہی یہاں چلے آتے ہیں کبھی آپ بھی فرصت نکال کر ہمارے غریب خانے میں حاضری دے دیا کریں۔ خوشی ہو گی”
"جی جی ضرور انشاءاللہ۔ خیر تم بیٹھو میں چائے بنا کر لاتی ہوں” عائزہ یہ کہہ کر کچن کی جانب چل پڑی۔
عائزہ کھاتے پیتے گھرانے سے تھی جبکہ عرفان کی فیملی کی مالی حالت ٹھیک نہیں تھی مگر دونوں بچے ایک ہی خاندان کے تھے۔عائزہ کے والد عرفان کے والد کے بڑے بھائی تھے۔ چھوٹا بھائی بڑے بھائی سے کم مالیت رکھتا تھا ۔ اسی بنیاد پر عائزہ کی ماں ہر وقت عرفان کی فیملی کو کوستی رہتی تھی اور غروریت کی دھند ہر وقت ان کے چہرے پر چھائی رہتی تھی۔
عرفان کے تایا بھی آفس سے آ چکے تھے ۔آفس سے آ کر پہلے وہ فریش ہوتے پھر کوئی اور کام کرتے تھے ۔ لان کا نظارہ کر کے عرفان ڈرائنگ روم کی سمت بڑھا اور ڈرائنگ روم میں پڑے ٹیبل پر کچھ اخبارات پڑی تھی ۔ ان میں سے ایک دو اخبار عرفان ہاتھ میں لے کر بیٹھ گیا۔
عائزہ کچن میں چائے بنانے میں مصروف تھی کہ گاڑی کا ہارن سنائی دیا جس سے عائزہ سمجھ گئی کہ ماں آ گئی ہیں۔
عرفان خوشگوار موڈ میں اخبار پڑھنے میں مصروف تھا مگر اب اسے تائی کا سامنا بھی کرنا تھا۔اندر آتے ہی عائزہ کی ماں عرفان کو ڈرائنگ روم میں دیکھتے ہی اس کی جانب بڑھی۔عرفان سے دعا سلام کے بعد تائی ہمیشہ کی طرح اسے کم تر اور غربت کی باتیں کرنے لگی۔تائی کی ان باتوں سے عرفان بمشکل اپنے آپ کو کنٹرول کیے ہوا تھا۔اس سے پہلے عرفان غصے میں کنٹرول سے باہر ہوتا۔تائی کا فون بجنے لگا ۔ فون پر بات کرنے کے بعد تائی عرفان کو کہنے لگی ۔خیر بیٹا باتیں تو ہوتی رہیں گی ۔تم بیٹھو میں تمہارے تایا کو بھیجتی ہوں ”
تائی کی ان باتوں سے عرفان طیش میں آ گیا اور گھر جانے کا ارادہ کر لیا ۔اسی وقت عائزہ چائے اور ساتھ میں بسکٹ وغیرہ لے آئی ۔” آؤ عرفان چائے پیتے ہیں” عائزہ نے عرفان سے کہا۔
"میرے خیال سے اب مجھے چلنا چاہیے ۔اللہ حافظ” یہ کہہ کر عرفان وہاں سے چلا گیا ۔عرفان کے یوں چلے جانے سے عائزہ نے فوراً بھانپ لیا تھا "ضرور ماں نے ہی کچھ بولا ہو گا”.
تھوڑی دیر بعد عائزہ کی ماں لاؤنج کی طرف آئیں اور بیٹی کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر بولی "کیا بات ہے میری بیٹی کا موڈ اچھا نہیں لگ رہا”.
"ماں آپ کو کیا ضرورت تھی عرفان کو یہ سب کہنے کی۔پتہ نہیں ماں آپ کو چچا کی فیملی سے کیا مسئلہ ہے ۔ ہر بار ان کے سامنے یہی موضوع چھیڑ دیتی۔ماں آپ کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی۔امیری ‘ غریبی صرف اللہ کی دین ہے ” ایک ہی سانس میں عائزہ نے ماں کو بہت کچھ کہہ ڈالا۔
"بس عائزہ بہت ہو گیا ۔آئے دن تم اپنا چچا نامہ کے کر آجاتی ہو میرے پاس۔ ان فضول باتوں کی بجائے اپنی پڑھائی پر توجہ دو” عائزہ کے یوں بات کرنے پر ماں نے ڈانٹ دیا۔ ماں کے ڈانٹنے پر عائزہ جواب میں کچھ نہیں کہا اور خاموشی سے اپنے روم میں چلی گئی ۔ روم میں آکر غصے سے لائٹ آف کر کے سو گئی۔
صبح پانج بجے کے آلارم کی آواز پر عائزہ اٹھ کر آلارم بند کیا ۔پھر سست قدموں سے واش روم جا کر وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کرنے لگی ۔رات والا غصہ کافی ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ نماز ادا کرنے کے بعد عائزہ لان میں ٹہلنے کے لیے چلی گئی ۔ لان میں آتے ہی پر سکون ماحول پاتی تھی اور اپنے اندر ایک اطمینان محسوس کرتی تھی۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد سورج پورے آب و تاب سے نکلتا ہوا دیکھائی دینے لگا۔ سکینہ عائزہ کو ناشتے پر بلانے کے لیے آئی ۔ کچھ منٹ بعد عائزہ ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھی ۔اسی دوران عائزہ کے والد عائزہ سے پڑھائی کے متعلق بات چیت کرتے تھے ۔ناشتہ کرتے ہوئے ماں کو یاد آیا کہ آج تو شاپنگ کے لیے چلنا تھا تو فوراً عائزہ سے کہنے لگی ” بیٹا گیارہ بجے تیار رہنا شاپنگ کے لئے جائیں گے ”
"جی ماں ٹھیک ہے” عائزہ نے جواب میں کہا۔
شاپنگ کرنے کے بعد گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی۔گاڑی ایک اشارے پر آ کر رکی۔ ” عائزہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی کہ یک دم اس کی نظر ایک بوسیدہ عورت پر پڑی ۔عورت کا حلیہ کافی خراب اور ساتھ میں دو چھوٹے بچے بھی تھے اور وہ بھی اسی حالت میں تھے۔ ان کی حالت دیکھ کر عائزہ کے اندر ایک احساس پیدا ہوا تھا” اور ماں سے کہنے لگی۔
” ماں وہ دیکھیے ۔وہ عورت ۔وہ عورت ماں بہت بے بس لگ رہی ہے۔ہمیں ان کی کچھ نہ کچھ مدد کرنی چاہیے "۔ ماں نے آج بھی عائزہ کی بات کو کوئی اہمیت نہ دی اور سرسری طور پر کہا۔”بیٹا یہ لوگ صرف دکھاوا کرتے ہیں اور کچھ نہیں ” اتنے میں گاڑی آگے بڑھی ۔عائزہ کے ذہن میں ابھی بھی اسی عورت کی تصویر کشی چل رہی تھی کہ اچانک سے گاڑی کا ایکسڈنٹ ہو گیا۔
چار مہینے ہو گئے تھے عائزہ کی ماں کو اپاہج ہوئے اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ صرف عائزہ کے چچا کی فیملی نے دیا تھا ۔ ان چند مہینوں میں عائزہ اپنی ماں کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ غریب لوگوں کا بھی بہت خیال رکھنے لگی تھیں۔اس حادثے نے عائزہ کو بہت متاثر کیا تھا۔عائزہ کے اندر پہلے سے بھی کئی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔وہ بہت خاموش اور چپ چپ رہنے لگی تھی۔
ڈرائنگ روم کی کھڑکی کے سامنے کھڑی آج بھی عائزہ اندر ہی اندر رو رہی تھی۔
"عائزہ، عائزہ” ۔عرفان آواز لگاتا ہوا ڈرائنگ روم کی طرف چلا آیا۔ عائزہ کا افسردہ موڈ دیکھ کر عرفان کہنے لگا۔”تم آج بھی اسی موڑ پر کھڑی ہو عائزہ ”
"عرفان تم نہیں سمجھ سکتے ۔میں خود کو کتنا بے بس محسوس کرتی ہوں” ۔ عائزہ نے دھیمے انداز سے بات کی۔
"دیکھو عائزہ ۔اپنے آپ کو اس کیفیت سے باہر نکالو۔ تم بے بس نہیں ہو۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں اور میری بات ہمیشہ یاد رکھنا عائزہ ۔ہر بے بسی کے بعد امید کی کرن بھی ہوتی ہے۔ انشاءاللہ تمہاری زندگی میں بھی بہت جلد امید کی کرنیں لوٹے گی”۔
کچھ عرصے بعد گھر والوں کی خواہش پر عرفان اور عائزہ کی شادی طے پا گئی۔اس کٹھن وقت میں چچا کی فیملی نے ہی انہیں سپورٹ کیا تھا ۔اس واقعہ سے عائزہ کی ماں کے سامنے زندگی کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی تھی کل تک جو عورت غریب لوگوں سے نفرت کرتی تھی ۔آج وہ خود ان لوگوں کو خلوص ، پیار دیتی اور ہر طرح سے ان کی مدد کرتی تھیں۔کافی عرصے بعد خاندان میں خوشی آئی تھی ۔عرفان اور عائزہ کی شادی کی صورت میں۔آج سب بہت خوش تھے چونکہ آج پھر سے یہ خاندان ایک ہونے جارہا تھا۔”عائزہ دلہن بن کر بہت پیاری لگ رہی تھی ۔پیاری تو وہ پہلے بھی تھی مگر آج دلہن کے روپ میں اور بھی خوبصورتی کے جلوے دکھا رہی تھی ۔نکاح میں موجود سب لوگ اس کی تعریف پہ تعریف کر رہے تھے۔ نکاح سے پہلے عائزہ کو اپنے ہم سفر کے الفاظ یاد آئے تھے ” عائزہ بے بسی کے بعد امید کی کرنیں انسان کے پہلو کا حصہ ہوتی ہیں اور یہ کرنیں ضرور انسان کے پاس لوٹتی ہیں”
عائزہ کو اپنی قسمت پر رشک آرہا تھا کہ اللہ نے اسے کتنے خوبصورت ہم سفر سے نوازا تھا۔
اتنے میں مولوی صاحب نکاح کے لیے آئے ۔ مولوی صاحب کے سوال پر عائزہ پر جوش انداز میں کہتی تھی ” قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے”.
Comments are closed.