دوبارہ پیدا کیے جانے پر بے جا اشکال
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
مغربی مفکرین نے ترقی کے نئے معیارات قائم کر دیے؛ لیکن درحقیقت وہ فکر میں تعصب و تشدد اور غیر جانبداری سے اوپر نہ اٹھ سکے، وہ اگرچہ دنیا کو تھامنے، نئی راہ دینے اور ہر چیز میں تحقیق و سائنس کی باتیں کرتے ہیں، ہماری نگاہوں کے سامنے وجود پذیر ایسی کوئی چیز نہیں جس پر وہ تحقیق کر کے ایک نیا زوایۂ فکر نہ پیش کرتے ہوں، مگر اللہ تعالی نے ان کی عقلوں پر ایسی پٹی باندھ دی ہے یا دل پر مہر لگادی ہے؛ کہ وہ اپنے وجود پر غور و خوض کر کے آخرت میں دوبارہ پیدا کیے جانے کا یقین نہیں کر پاتے، جو انسان شب و روز اپنے جسم کی ساخت، پرداخت اور نشو و نما دیکھتا ہے، بچپن سے لیکر جوانی، ادھیڑ عمر سے لیکر بڑھاپے تک کا سفر طے کرتا ہے وہ یہ نہیں سمجھ پاتا کہ یہ سب کچھ ہمارے بَس میں نہیں ہے، کوئی ایک ذات ہے جو ہماری خلقت سے لیکر موت تک نگہداشت کرتا ہے، ہمارے اعضاء کو نمو دیتا ہے، موسم کے مطابق ڈھالتا ہے، بارش، گرمی، دھوپ اور سردی کے لائق بناتا ہے، پھر جب مر جائے تو اسے مٹی میں دفن کر کے اس کے جسم کو تحلیل کر دیتا ہے، وہ سب کچھ وہی تو کرتا ہے؛ پھر آخر کیا دقت ہے کہ وہ دوبارہ بھی پیدا کردے، دنیا کا ہر شخص جانتا ہے کہ کسی بھی شئ کو اولاً وجود دینے میں جو تخلیقی صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں، جو محنتیں اور مشقتیں مطلوب ہوتی ہیں وہ دوسری مرتبہ میں نہیں ہوتیں، ایک خاکہ اور خطہ اگر ہو تو منزل تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی، پھر یہ کہ جس کا کُن ہی فیکون ہے تو پھر اس کے بارے میں اعتراض کرنا اور اپنے آپ کو زیادہ ہوشیار سمجھنا بیوقوفی سے کم نہیں ہے، نزولِ قرآن مجید کے دور میں بھی لوگوں کا یہ عقیدہ تھا، کفار مکہ تو مارے حیرت کے پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہماری ہڈیاں سڑ گَل جائیں گی تو دوبارہ زندہ کیے جائیں گے؟ قرآن مجید نے اس کا بہت ہی سائنٹیفک جواب دیا ہے، فرمایا گیا: یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّکُمْ ۚ وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا ؕ وَ تَرَی الْاَرْضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآءَ اہْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍۭ بَہِیْجٍ – (حج:٥)
”اے لوگو! اگر تم کو دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں شک و شبہ ہے تو (غور کرو کہ) ہم نے تم لوگوں کو مٹی سے، پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے، پھر بوٹی سے جو پوری ہوتی ہے اور (بعض) ادھوری ( رہ جاتی ہے)؛ تاکہ ہم تمہارے سامنے ( اپنی قدرت کو ) اچھی طرح واضح کردیں، اور ہم جس (حمل) کو چاہتے ہیں، رحم میں ایک متعین مدت تک ٹھہرائے رہتے ہیں، پھر تم کو بچہ بناکر باہر لاتے ہیں، پھر اس وقت تک تم میں سے بعض کو (زندہ رکھتے ہیں) جب تم اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ جاؤ ، اور تم میں سے بعض کو (اس سے پہلے ہی) موت دے دی جاتی ہے اور بعض وہ ہیں جو زیادہ نکمی عمر ( یعنی انتہائی بُڑھاپے) تک پہنچائے جاتے ہیں؛ تاکہ وہ جس چیز کو سمجھ چکے تھے ، بعد میں (اس کو) نہ سمجھ پائیں، اور (یہ بات بھی قابل غور ہے) کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ سوکھی ہوئی ہے، پھر جب ہم اس پر بارش برساتے ہیں تو ترو تازہ ہوجاتی ہے، پھولتی ہے اور قسم قسم کے خوشنما پودے اُگاتی ہے۔“
استاد محترم فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ نے اس آیت کے ذیل میں عمدہ باتیں نقل کی ہیں، آپ رقم طراز ہیں: ”یعنی انسان کو دوبارہ پیدا کیے جانے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ ہی نے اس کو پہلے بھی پیدا کیا ہے اور اس طرح پیدا کیا ہے کہ اسے مختلف مرحلوں سے گزارا گیا ہے، پہلا مرحلہ اس کے مٹی ہونے کا ہے، یعنی انسان کا وجود زمین سے نکلنے والے مختلف اجزاء سے تیار ہوتا ہے، جیسے: مٹی، لوہا، چونا، نمک اور شکر وغیرہ، یہ اجزاء ماں باپ کے جسم میں بکھری ہوئی شکل میں موجود ہوتے ہیں، یا اس سے مراد انسان اول یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق و پیدائش ہے، جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے براہِ راست مٹی ہی کو ذریعہ بنایا تھا، پھر اس کے بعد وہ نطفہ کی شکل اختیار کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق چالیس دنوں تک وہ اسی حالت میں عورت کے رحم میں رہتا ہے، پھر جما ہوا خون بن جاتا ہے اور چالیس دن اس کیفیت میں رہتا ہے، اگلے چالیس دن میں گوشت بن جاتا ہے، اگر ایک مکمل انسان کی تخلیق مقصود نہیں ہوتی ہے تو اس گوشت پر شکل و صورت نہیں بنتی اور روح نہیں پیدا ہوتی ہے، اللہ کے حکم سے وہ ساقط ہوجاتا ہے اور اللہ کو پیدا کرنا منظور ہوتا ہے تو حمل کی مدت پوری ہوتی ہے، پھر انسان ایک کمزور بچے کی شکل میں پیدا ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ بھرپور جوانی تک پہنچ جاتا ہے، پھر بعضوں کا انتقال جوانی، ادھیڑ عمر یا ایسے بُڑھاپے میں ہوتا ہے، جب عقل و ہوش میں کوئی فرق نہیں آتا اور بعض دفعہ اللہ کی طرف سے بُڑھاپے کی ایسی عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے، جب انسان کی عقل و فہم میں خلل آجاتا ہے اور بالآخر اس کی موت واقع ہوجاتی ہے، دنیوی زندگی کے ان تمام مرحلوں کے بعد اب ایک آخری مرحلہ یہ ہے کہ قیامت میں اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا، تو جو خدا انسان کو پیدا کرنے اور ان تمام مرحلوں سے گزارنے پر قادر ہے، وہ اس آخری مرحلہ کو کیوں انجام نہیں دے سکتا؟
اس آیت میں انسانی تخلیق کے جو مراحل بیان کیے گئے ہیں، موجودہ دور کی سائنسی تحقیق اس سے بہت زیادہ ہم آہنگ ہے، آیت میں جس ”ارذل عمر“ یعنی عقل و ہوش گم کردینے والے بُڑھاپے کا ذکر آیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پناہ چاہی ہے، آپ نے اپنی دُعا میں فرمایا: ’’أعوذ بک من أن أرد إلیٰ أرذل العمر‘‘ ۔ (سنن نسائی ، کتاب الاستعاذہ ، حدیث نمبر : ۵۴۴۵— دیکھیے: آسان تفسير قرآن مجید)
Comments are closed.