”انجمن“ کا کارواں ہے دین حق کا ترجماں


محمد قمر الزماں ندوی

 

 

خاکسار ان دونوں تقریباً پندرہ دنوں سے ایک کتاب ”انجمن اسلامیہ ماضی، حال اور مستقبل“ کی ترتیب و تدوین میں مشغول تھا، الحمد للہ خال معظم حافظ حامد الغازی صاحب صدر اعلیٰ انجمن اسلامیہ کی سرپرستی اور رفیق عزیز گرامی قدر مولانا شمس پرویز مظاہری اور راقم کی عرق ریزی اور شبانہ روز محنت سے یہ کتاب تیار ہوگئی اور چھپنے کے لیے پریس جاچکی ہے۔

اس کتاب میں انجمن کی سو سالہ تاریخ اور خدمات نیز انجمن کے بانیان اور خدام کی تاریخ کو پورے اہتمام اور سلیقہ کے ساتھ قلمبند کیا گیا ہے۔ انہیں مصروفیات کی وجہ سے آج کل یومیہ تحریر لکھنے سے قاصر رہا، اس کے لیے قارئین باتمکین سے معذرت خواں ہوں؛ لیکن الحمد للہ ان دنوں میں تقریبا سو صفحے سے زیادہ لکھنے کا موقع ملا، یہ انجمن مولانا ابوالکلام آزادؒ کی قائم کردہ ”انجمن اسلامیہ رانچی“ کی ہی شاخ ہے، جس انجمن اسلامیہ کو مولانا ابو الکلام آزادؒ نے ۱۹۱۷ء سے ۱۹۱۹ء کے درمیان میں قائم کیا تھا اور جو آج تک قائم ہے، جس کے تحت مختلف تعلیمی، رفاہی اور سماجی شعبے چل رہے ہیں۔

ہماری اس ذیلی انجمن کی تاریخ اور خدمات کیا ہیں، آئیے اس کتاب کے ایک حصہ کو پڑھتے ہیں یہ تحریر برادر اکبر ایڈووکیٹ صادق احمد علیگ کی ہے، جو انجمن اسلامیہ جمہوریہ کے موجودہ اسپیکر اور ترجمان ہیں۔ (م ق ن)

 

حضرات محترم!

آج سے تقریباً ایک سو ایک سال قبل انجمن جمہوریہ اسلامیہ کا قیام ۱۹۱۹ء میں مولانا محی الدین صاحب مرحوم کھٹنئی اور مولانا حبیب عالم مرحوم دگھی کی تحریک پر عمل میں آیا۔ یہ ادارہ در اصل انجمن اسلامیہ رانچی کا عکس جمیل اور شاخ ہے۔ جس انجمن کو امام الہند مولانا ابو الکلام آزادؒ نے رانچی میں قائم کیا تھا، اور بلا شبہ رانچی والوں کو فتوحات غیبی اور نعمت غیر مترقبہ کے طور پر ملا تھا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم تین برادری والوں کو بھی انہیں کے طفیل میں یہ انجمن نعمت غیر مترقبہ کے طور پر ملی ہے۔ کارخانہ قدرت کے کچھ عجیب اسرار ہیں جن کے ادراک میں عقل انسانی حیران و درماندہ رہ جاتی ہے، ہزاروں انسان ہیں جو بڑی بڑی حسرتوں اور آرزوں کے ساتھ سعی و کوشش میں منہمک ہوتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہی چیز ایک شخص یا ایک جماعت کو بے مانگے اور بلا کسی ظاہری طلب و کوشش کے مل جاتی ہے اور کوشش کرنے والے درماندہ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ یقیناً آپ سب راہ سعادت کے وہ مسافر ہیں جس کے پیچھے منزل دوڑتی چلی آئی۔

ہم سب کو خدائے وحدہ لاشریک کا ہزار ہزار شکر گزار ہونا چاہیے اور سجدۂ شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس ذات برحق نے ہمارے اسلاف کے ذہن و دل میں ایسی بے مثال و بے نظیر شرعی تنظیم اور انجمن قائم کرنے کا خیال پیدا فرمایا۔ اور مزید احسان اسی رب قدیر کا جس نے اس تنظیم کو زمانے کے گرداب اور نشیب و فراز سے محفوظ رکھنے کا انتظام فرمایا اور الحمدللہ ناموافق اور نامساعد حالات کے باوجود اسلاف کی قائم کی ہوئی یہ انجمن قائم دائم ہے اور اپنے مقصد قیام کے ساتھ پورے آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے اور اپنے سو سالہ سفر پورے کرنے جارہی ہے۔ ہم پورے یقین و وثوق اور اعتماد کے ساتھ کہ سکتے ہیں کہ اس انجمن کی بنیاد خلوص و للہیت پر رکھی گئی تھی اور اس کے معماروں اور بانیوں میں اس قدر خلوص و للہیت تھی کہ ان کا لگایا ہوا پودا اور ان کا لگایا ہوا شجر سایہ دار ہوا اور کبھی اس میں خزاں کا دور نہیں آیا۔ یقیناً ہماری اس انجمن کی سو سالہ ایک شاندار، روشن اور تابناک تاریخ ہے، جس سے ہم سب واقف ہیں۔ انجمن کی سو سالہ تاریخ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس کی بنیاد اخلاص، للہیت اور رضائے الہی پر مبنی ہے ورنہ زمانے کی گردش، ہوا وہوس کی کثرت اور مادیت کے طوفان اور عہدہ و منصب کے بڑھتے سیلاب میں یہ کب کی مٹ چکی ہوتی؛ اس لیے ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ

انجمن کا کارواں ہے دین حق کا ترجماں

اٹھائے شمع و ذو فشاں ہے جانب منزل رواں

 

تحدیث نعمت کے طور پر میں کہتا ہوں اور مجھے کہنے کا حق ہے کہ اس انجمن کی آفاقیت، اس کی وسعت، اس کے اغراض و مقاصد اور نافعیت کو کم عمری میں جتنا میں نے سمجھا سنا اور دیکھا ہے، نئی نسل میں مجھ سے زیادہ بہت کم نوجوانوں نے سمجھا، سنا اور دیکھا ہے؛ کیوں کہ میں انجمن کے قافلہ سالار کے گھر اور ماحول میں پَلا اور اس فضا میں پروان چڑھا اور نشو و نما پائی۔ عقل و فہم اور شعور و آگہی کی منزل میں قدم رکھتے ہی میں نے اس کے پروگراموں میں شامل ہونا شروع کردیا اور اس کی حرکت و فعالیت اور افادیت و نافعیت کا مشاہدہ کرنے لگا تھا۔ میں نے مولانا علاؤالدین صاحبؒ ( میرے نانا) کے دور صدارت کو بھی دیکھا ہے، جس کو لوگ انجمن کا دور شباب اور دور ہارونی بھی کہتے ہیں، مجھے چار چار انجمن کے صدور اعلیٰ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔

مجھے تحریکوں، تنظیموں، اداروں اور جمعیتوں کی تاریخ اور ان کے افراد کی سرگزشتِ حیات کو پڑھنے کا موقع ملا دعوت و عزیمت کے متوالوں کی سوانح عمریاں پڑھنے کا موقع میسر آیا۔ میں اس کی روشنی میں یہ بات لکھ اور کہہ سکتا ہوں کہ اس انجمن کے اندر جو بعض خوبیاں، ندرت اور تنوع ہے، وہ دوسری جمعیتوں، تنظیموں اور اداروں میں کم ملتی ہیں، اس کا اعتراف ہر وہ شخص کرسکتا ہے، جس نے باہر کی دنیا کا مشاہدہ کیا ہے اور جن کی جماعتوں اور جمعیتوں کی تاریخ اور نشیب و فراز پر نظر ہے۔

انجمن اسلامیہ محض ایک مذہبی ملی، سماجی اور رفاہی تنظیم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تحریک اور منہج فکر وعمل کا نام ہے۔ اپنے سو سالہ دور میں اس انجمن نے اپنے حلقہ دائرہ میں برادری کے لوگوں کی تعمیر کے لیے بے مثال خدمات انجام دی ہیں۔ اس انجمن کی جد وجہد اور قربانی کے تابندہ و تابناک نقوش و اثرات کسی کے مٹانے سے نہیں مٹ سکتے۔ بس ضرورت ہے کہ زندہ قوموں کی طرح ہم بھی اپنی تاریخ و روایات اور ماضی کے کارناموں کے محافظ بن جائیں اور اپنی اور اپنے اکابر و پُروَجَوں کے کارنامے اور تاریخوں کو آنے والی نسلوں کے لیے نشانِ راہ اور نشانِ منزل کے طور پر چھوڑ جائیں۔

ہم سب کو بہت خوشی ہورہی ہے کہ بسلسلہ تقریب صد سالہ انجمن اسلامیہ جمہوریہ کی خدمات اور اس کے تاریخی سفر پر ایک یادگاری اور دستاویزی مجلہ شائع ہو رہا ہے۔ ۱۹۱۹ء کے قریب ایک متعصب ہندو سوامی دیانند سرسوتی اور اس کے شاگرد سوامی شردانند کی جانب سے ایک تحریک شروع کی گئی تھی جو ”شدھی سنگٹھن (शुद्धि संगठन)“ کے نام سے موسوم تھی۔ اس تحریک کے تحت غیر ہندو، بالخصوص مسلمانوں کو جبری طور پر اپنا مذہب تبدیل کرکے ہندومت میں داخل کرایا جارہا تھا۔ اس کا بنیادی ایجنڈا ان لوگوں کو جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا اپنے آبائی مذہب یعنی ہندو ازم کی طرف واپس لانا تھا۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے موروثی مذہب سے بھٹکے ہوئے ہندو ہیں۔ لہذا ان کو کسی بھی قیمت پر اپنے موروثی مذہب کو قبول کروانا ہے۔ اس تحریک نے جہاں ہندوستان کے دیگر حصوں کو متاثر کیا وہیں سنتھال پرگنہ کے ناخواندہ مسلمان بھی متاثر ہوئے۔ ان حالات میں مسلمانوں کو ان کے مذہب پر باقی رکھنے کے لیے چند غیور باحمیت اور اور اصحاب عقل و خرد نے یہاں الگ الگ نام سے تنظیمیں بنائیں ان میں سے ایک تنظیم انجمن اسلامیہ کے نام سے بنی جس میں بعد میں جمہوریہ کا لاحقہ بھی شامل کیا گیا۔ جیسا کہ بتایا گیا اس انجمن کی تاسیس اور بنیاد رکھنے والے جناب ماسٹر محی الدین صاحب مرحوم کھٹنئی اور جناب حبیب عالم صاحب مرحوم دگھی تھے۔ جنہوں نے اپنے خون و پسینے سے اس انجمن کو سینچا اور اس کی آبیاری کی۔ اس انجمن کا دائرہ عمل اگر چہ محدود نو گاؤں پر مشتمل رہا؛ لیکن اس کے اثرات دور دور تک مرتب ہوئے لوگوں نے اس کو نمونہ اور آئیڈل بنایا اور چراغ سے چراغ جلا اور اس کی روشنی دور دور تک پھیلی۔ بعد میں اس انجمن کی کشتی کو ساحل سے ہمکنار کرنے اور بھنور کے ہچکولے سے بچانے کے لیے ایک سے ایک کھیون ہار اور ملاح و ناخدا ملے اور اپنی بساط اور طاقت بھر اس کشتی کو ساحل مراد تک لے جانے کی کوشش کی۔ جن میں سب سے کامیاب ملاح اور ناخدا مولانا علاؤالدین صاحب مرحوم ثابت ہوئے۔ جنہوں نے انجمن کو نشأۃ ثانیہ دی اور اس کو ایک نئی زندگی عطا کی۔

بلاشبہ انجمن اسلامیہ ہمارے اسلاف کے خوابوں کی تعبیر ہے، ان کی محنتوں کاوشوں اور جدو جہد اور کوششوں کا ثمرہ ہے۔ یہ انجمن وہ شجر سایہ دار ہے جس کے سایہ میں ہم سکون و راحت کی سانس لے رہے ہیں۔ اس انجمن نے ہم سب کو مضبوط سماج اور خاندان کا تصور دیا، عائلی اور معاشرتی زندگی گزارنے کا ڈھنگ اور طریقہ بتایا، صحیح سماجی زندگی گزارنے کا شعور دیا، رشتوں کی اہمیت کو سمجھایا اور ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کا ہنر بتایا۔

اس انجمن نے رسم و رواج کے بندھن سے اور خرافات کی بیڑیوں سے ہمیں آزاد کرایا، انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ کی اطاعت کی طرف لایا، دینی تعلیمی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی میدان میں اس انجمن نے ہماری رہنمائی کی۔ دبے کچلے اور بے سہارا لوگوں کی وقت ضرورت پڑنے پر مدد کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شریعت پر گامزن رکھ کر ہم سب کو آپس میں متحد رکھا۔ اس انجمن کے ماضی کو سنانے کے لیے چند صفحات نہیں ضخیم کتاب درکار ہے اور وقت مطلوب ہے۔

طویل عمر ہے درکار اس کے پڑھنے کو

ہماری داستاں اوراق مختصر میں نہیں

 

انجمن اسلامیہ کی صد سالہ تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کے سنہرے ماضی کو کھنگالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انجمن کی حیرت انگیز کارکردگی خدائی معجزہ اور کرامت ہے۔ بانی انجمن اور ان کے رفقاء کے خلوص و للہیت ان کی بصیرت اور دور اندیشی پر رشک آتا ہے، کہ ہائے کیا کارنامہ انجام دیا ہے ہمارے بڑوں نے۔

بحیثیت اسپیکر اور ترجمانِ انجمن مجھ پر فرض اور قرض تھا کہ میں انجمن کی تاریخ اور اس کے ماضی حال اور مستقبل پر شرح و بسط کے ساتھ لکھوں لیکن افسوس کہ یہ میرے لیے ممکن نہیں ہوسکا، بعض تقریبات اور فرض اور ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے مجھے سفر میں نکلنا پڑا، اور گھر سے باہر رہنا پڑا اور ابھی بھی پٹنہ ہی میں ہوں، اس لیے تفصیلی تحریر لکھنے کا مجھے موقع نہیں مل سکا جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔کچھ تو مجبوریاں رہیں ہوں گی

 

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

 

بس اخیر میں اپنی نئی نسل اور نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آؤ اور اپنے اسلاف کی اس امانت کو سنبھالو، میدان عمل میں آؤ اس کے زلف پریشاں کو آراستہ کرو اور اسے قصہ پارینہ ہونے سے بچا لو ورنہ وقت لکھے گا کہ

کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے

 

بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

 

اگر ایسا ہوا تو یاد رکھیے یقینا یہ ہمارے لیے نقصان اور خسارے کی بات ہوگی اور تاریخ ہمیں کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ اور طعنہ دے گی کہ

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

Comments are closed.