مقدس لہو کا مقدس قطرہ
ترتیب: محمد حنیف ٹنکاروی
ایک دن شمعِ رسالت کے پروانے آپس میں یہ گفت و شنید کر رہے تھے کہ: آج تک قریش کے سامنے بلند آواز سے قرآن نہیں پڑھا گیا کوئی ایسی صورت نکالی جائے کہ پوری بلند آہنگی سے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت ہو جائے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ اس پُرخطر مہم کو سر کون کرے؟
بعدہ اس پُر خطر مہم کو سر کرنے کے لیے جو ذات گرامی آگے بڑھی وہ معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے تلمیذ رشید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی شخصیت تھی۔ انہوں نے غیرت حق کی للکار اور شدت ایمانی سے کانپتی ہوئی آواز میں فرمایا اس پر خطر عظیم کام کو میں انجام دوں گا-
صحابہ نے اس دلیرانہ جوش اور ان کے ایمانی جوش و خروش کو دیکھا تو ششدر رہ گئے اور خاموش ہوگئے۔ مجلس برخاست ہو گئی اور ابن ام عبد اپنی ایک نئی آب و تاب، جوش اور ولولوں کے ساتھ اپنی فرودگاہ کی طرف چل پڑے
دوسرے دن آفتاب نے اپنا مکھڑا دکھایا اور کائنات روشن ہوگئی چاشت کا وقت ہوگا مشرکین اپنے معمول کے مطابق اپنی انجمن میں یکجا تھے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ یکایک مشرکوں کے روبرو آئے اور پوری طاقتِ ایمانی اور عالمِ وارفتگی میں کھڑے ہوکر قرآن کی سحر آفرینی سے دل کا جادو جگایا- اور سورہ رحمن کی آیتیں پڑھنا شروع کیں۔
بس کیا تھا اعلان حق کے ان میٹھے بول، مضبوط حروف کی ادائیگی اور سحر انگیز نغمے نے دل کے تاروں پر ضرب لگائی تو کفر کے سرغناؤں نے حیرت زدہ انداز میں پوچھا: ”ابن ام عبد کیا کہتا ہے؟“
کسی نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر جو کتاب اُتری ہے اسے پڑھ رہا ہے۔
اور جیسے اس اطلاع سے پورے مجمع کے ذہن و دماغ پہ سمندری بھونچال آگیا۔
وہ طیش میں اٹھ کھڑے ہوئے
بپھرے ہوئے پاگل ہاتھیوں کی طرح اور نہتّے وجود پر ٹوٹ پڑے۔ گھونسوں، مکوں اور لاتوں سے آؤ بھگت کر رہے تھے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا چہرہ زخموں کے خون سے لالہ زار تھا اور ان رِستے زخموں ہی پہ تابڑتوڑ ضربیں لگائی جا رہی تھیں۔ مگر عشق کا یہ مرد آہن کلام الہی کی نغمہ سنجی سے باز نہ آیا اور یہ قاریِ قرآن مرد مومن وحیِ ربانی کی تلاوت سے لذت آشنا ہوتا رہا- زبان اس وقت رکی جب قوت گویائی نے ساتھ چھوڑ دیا-
کیسا تھا وہ تابناک، مقدس لہو کا قطرہ جو اشاعتِ قرآن اور شہادتِ حق کے سوز سے پھوٹا تھا۔
آخر ہم بھی تو اسی منزل کے راہی ہیں تو پھر کیوں ہم گردشِ ایام کے تھپیڑے کھانے کے لئے رہ گئے ہیں؟ گردش ایام کے یہی نہنگ ان کے سامنے تہہ و بالا ہو جاتے تھے۔
اور آج ہم ایک ارب سے زیادہ ہوتے ہوئے بھی ایک عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایمانی قوت نہیں بن سکتے!! وہ دیوانہ وار شہادت حق کی راہیں ڈھونڈھا کرتے تھے اور ہم پاؤں پسارے میٹھی نیند سو رہے ہیں!!
اے ابن ام عبد! تیری غیرت ایمانی کو سلام۔
تیری رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کی مقدس گرمی کو سلام،
تیرے چوٹ کھائے ہوئے چہرے اور تیرے رِستے ہوئے زخموں کو سلام۔
تیرے زخموں سے ٹپکتے ہوئے لہو میں شہادت کا تقدس ہے۔ بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ
اے اللہ! تو ہر مسلمان کو لیل و نہار کی مختلف گھڑیوں میں تلاوت قرآن پاک کی توفیق ارزانی بخش دے- آمین
Comments are closed.