شادی بیاہ کے اخراجات
سیدہ زونیشاجاوید
"کالم” فرانسیسی لفظ "columna” اور لاطینی زبان کے لفظ "colomne”سے ماخوذ ہے. جس کے معنی "ستون” کے ہیں. دورِحاضر کے کسی بھی موضوع پر لکھنا کالم کہلاتا ہے.
لفظ "شادی” کان میں پڑتے ہی ہزاروں کے اخراجات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں. شادی کی غیر ضروری رسومات جن کا اسلام میں دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ملتا ان کو فرض نمازوں کی طرح ادا کیا جاتا ہے. غرض کہ لوگوں کے ذہنوں میں شادی کے معنی ہی "کھل کر خرچ کرنے” کے ہیں. نتیجتاً کم استطاعت یا سفید پوش خاندانوں کی بیٹیوں سے رشتہ جوڑنے کو لوگ اپنی بے عزتی سمجھنے لگے ہیں. لڑکیوں کے سروں پر چاندنی جھلکنے لگتی ہے اور اندر ہی اندر وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو نے لگتی ہیں. جس کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے گناہ کی جانب دھنستا چلا جارہا ہے. کورٹ میرج اور زنا جیسے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے.
مغربی دنیا کی دیکھا دیکھی ان کی رسومات کو مشرقی تہذیب کا حصہ بنایا جا رہا ہے. اور برائیڈل شاور جیسی غیر مہذب رسم کو رواج دیا جارہا ہے. مہمانوں کی شایانِ شان کو پورا کرنے کے لیے کھانوں, روشنی و سجاوٹ, عروسی ملبوسات, زیورات, جہیز, بھات, بَری نیز بہت سی غیر ضروری رسومات پر پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے. جس کا خمیازہ خود اہلِ خانہ کو اس صورت میں بھگتنا پڑتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصہ قرض کی ادائیگی میں گزار دیتے ہیں. اور دیکھا دیکھی معاشرے پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں. لوگ سادگی کے بجائے دکھاوے اور بناوٹ کو ہی اپنا معیار بنا لیتے ہیں.
اگر معاشرہ دینِ اسلام کے تحت سادگی سے نکاح کو اپنا معیارِ خاص بنالیں تو متعدد مسائل سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں. کھانوں پر لاکھوں خرچ کرنے کے بجائے سادہ طعام کو فوقیت دیں. عروسی لباس پر لاکھوں صرف کرنے کے بجائے مناسب قیمت کے اچھے لباس کو زیبِ تن کیا جا سکتا ہے.ہلدی,ڈھولکی,رتجگے,دودھ پلائی, جوتا چھپائی جیسی ہندوی رسومات اجتناب کیا جائے اور جہیز کی رسم کی جڑیں کمزور کرتے ہوئے فقط خلوص, اخلاق, اچھی تربیت اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو فروغ دیتے ہوئے ایک نئے رشتے کی بنیاد رکھی جائے.
Comments are closed.