سوکھی جمنا میلی گنگا 

 

یاسر ندیم الواجدی

 

ہمارے بچپن میں عام طور پر بچوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ اگر ہولی کا رنگ جسم کے کسی حصے پر لگ گیا، تو روز جزا وہ حصہ کٹے گا۔ بچے اس خوف سے ہولی کے رنگوں سے ایسے متنفر ہوتے تھے کہ دیوبند میں ہنومان چوک (جہاں اجے میڈیکل اسٹور واقع ہے) سے آگے کا رخ بھی نہیں کرتے تھے، بعض مرتبہ کچھ غیر مسلم ہولی کھیل کر مسلم علاقوں سے گزرتے تھے، تو ہمارے ذہن میں یہ بات آتی تھی کہ اس کے جسم کا فلاں فلاں حصہ تو کٹنا ہی ہے۔

 

پھر ہوا یہ کہ گزشتہ بیس سالوں میں مسلمانوں سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ مانگے گئے، وہ فورا آمنا صدقنا کہہ کر سرٹیفکیٹ دکھانے لگے، لگے ہاتھوں جَمنا کے یہ آباد کار حبّ گنگا کے سرٹیفکیٹ بھی لیکر پہنچنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ سوکھی جمنا میں میلی گنگا کا پانی تیز بہاؤ کے ساتھ چلا آتا ہے، مسلمانوں میں مظاہر شرک سے جو نفرت ہونی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آتی، کتنے ہی مسلمان آپ کو ہولی کے رنگ میں ڈوبے ہوئے مل جائیں گے، بلکہ کچھ لوگ ٹوپی لگاکر ہولی کھیلتے ہوے بھی ملیں گے، تاکہ وہ دنیا کو بتا سکیں کہ ہم مسلمان کی اس قماش سے تعلق رکھتے ہیں، جسے شرک سے بڑی محبت ہے۔

 

اب تو نوبت بایں جا رسید کہ ہمارے علمائے کرام ہولی ملن تقریبات کا حصہ ہی نہیں ہیں، بلکہ اسٹیج بھی شیر کر رہے ہیں۔ گزشتہ سات سالوں میں خدا خدا کرکے افطار پارٹیوں میں کافی کمی آئی ہے، لیکن ہولی ودیوالی کی پارٹیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی طرف سے مسلمانوں کے ووٹ کی بولی لگانے کے لیے، افطار پارٹیوں کا اہتمام ہوتا تھا، اور ملائم سنگھ یادو ٹائپ لوگ اتنے شدید مسلمان بن کر آتے تھے کہ سلیم الفطرت مسلمانوں کو کوفت ہونے لگتی تھی، اب صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ہولی اور دیوالی جیسے مظاہرِ شرک تہواروں پر پارٹیاں دینی پڑ رہی ہیں۔

 

اگر یہ سلسلہ نہیں رکا تو آگے ان "علماء” کی ہولیاں اس وقت قابل قبول قرار دی جائیں گی، جب یہ رنگ برنگے ہوکر سڑکوں پر ٹہلیں گے، لیکن یہ یاد رکھ لینا چاہیے کہ مسلمان بھنگ پی کر، رنگ لگا کر، وشنو کی مورتی کے سامنے بھنگڑا بھی کرلیں، تو بھی ان کے نزدیک قابل نفرت ہی رہیں گے۔ گنگا کا پولوشن خواہ کتنا ہی اپنے جسم پر لگالیا جائے، گنگا میلی ہی رہے گی۔ اس کی صفائی کا طریقہ صرف یہ ہے کہ اس کا پولوشن اندر سے ختم کیا جائے، نہ یہ کہ اس کے پولوشن کو پی کر اپنے خون میں سرایت کرادیا جائے۔

Comments are closed.