” شب برات کیا ہے” 

 

آمنہ جبیں ( بہاولنگر)

پندرہ شعبان المعظم کی رات جسے عموماً شبِ برات کیا جاتا ہے۔ اس رات کے معنی مفہوم اور اہمیت سمجھنے کی ہمیں اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ بہت سے غلط نظریے اور طریقے اس رات کے حوالے سے اپنائے جاتے ہیں۔ یوں کہ لیں اس رات کو منانے کا اہتمام کیا جاتاہے۔ اور تو اور گلی بازاروں میں پٹاخے بھی چلائے جاتے ہیں۔ جو کہ سراسر اس مبارک رات کی توہین ہے۔ اس رات کے جشن کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔ لیکن ہم مناتے ہیں کیونکہ ہمیں اس رات کے معنی مفہوم نہیں معلوم ہیں۔ شب برات کے معنی مفہوم جاننے کے لیے اس لفظ پہ ہی غور کر لیجیے شب مطلب رات برات مطلب برّی ہونا۔ یعنی شبِ برات کسی چیز سے برّی ہونے کی رات ہے۔ چھٹکارا پانے کی رات ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کس چیز سے چھٹکارا کس چیز سے برّی ہونا ہے؟ شبِ برات اپنے گناہوں سے برّی ہونے کی رات ہے۔ اپنے گناہوں سے چھٹکارے اور ان گناہوں کی بخشش کی رات ہے۔ اپنے اوپر جمی غلاظتوں کو دھونے کی رات ہے۔ اپنے قلب اور روح کو صاف کرنے کی رات ہے۔ اپنی زندگی میں اپنی روح اور قلب پہ لگے زنگ کو اتارنے کی رات ہے۔ اپنے آپ کو شفاف اور پاک بنانے کی رات ہے۔ اس رات اللہ پاک اپنے بندوں کو اپنی خصوصی رحمتوں سے نوازتا ہے۔ اس رات اللّٰہ پاک مخلوق میں رزق تقسیم فرماتے ہیں۔پورے سال میں ان سے سرزد ہونے والے اعمال اور پیش آنے والے واقعات سے اپنے فرشتوں کو باخبر کرتا ہے۔ بہت سے وٹس ایپ پہ اور فیس بک پہ سٹیٹس لگائے جا رہے ہیں کہ شب برات مقدر، قسمت کے لکھنے اور فیصلے کی رات ہے۔

نہیں؛ یہ رات مقدر کے فیصلے اور قسمت کے لکھے جانے کی رات نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے” اللّٰہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے سب کی تقریریں لکھ دیں تھیں” ( صحیح مسلم 6748) لیکن ایسا ضرور ہے کہ اس رات فرشتوں کے ذمے سال بھر کے کام لگائے جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ بخشش کی ہی رات ہے جو کہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا” اٹھو شعبان کی پندرہویں رات کو اس لیے کہ بالیقین یہ رات مبارک ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس رات کو کہتے ہیں۔ کہ ہے کوئی بخشش چاہتا ہو مجھ سے تا کہ میں بخش دوں تندرستی مانگے تو تندرستی دوں اور ہے کوئی محتاج کہ آسودہ حالی چاہتا ہو تا کہ اس کو آسودہ کروں”

جیسے کہ اوپر دلیل دے چکی ہوں۔ کہ اس رات کا موت اور زندگی کے فیصلے اور مقدر لکھنے سے تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث سے ایسا کچھ ثابت نہیں ہے۔ بلکہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی موت زندگی اور تقدیر کا فیصلہ کر دیا گیا تھا۔ ہم نے یہ غلط فرسودہ نظریے پال کر خود کو اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔ بے شک یہ رات رب کو راضی کرنے کی رات ہے لامحدود مانگنے کی رات ہے۔ رونے اور گڑگڑاتے کی رات ہے۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ حضور صلی اللّٰہ ھو علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ” نصف شعبان کی رات میں اللہ تعالیٰ قریب ترین آسمان کی طرف نزول فرماتے ہیں۔ اور مشرک ،دل میں کینہ رکھنے والے اور رشتہ داروں سے منقطع کرنے والے اور بدکار عورت کے سوا تمام لوگوں کو بخش دیتا ہے۔( غنیتہ الطالبین)

اس کے علاؤہ شیخ ابو نصر بالاسناد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ ھو علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! عائشہ یہ کونسی رات ہے؟ انھوں نے عرض کی اللّٰہ اور اس کے رسول بخوبی واقف ہیں۔ کہ حضور نے فرمایا یہ نصف شعبان کی رات ہے، اس رات دنیا کے اعمال بندوں کے اعمال اوپر اٹھائے جاتے ہیں۔( ان کی پیشی بارگاہ رب العزت میں ہوتی ہے) اللّٰہ تعالیٰ اس رات بنی قلب ( قبیلے کا نام) کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے۔ تو کیا آج کی رات مجھے عبادت کی آزادی دیتی ہو۔ میں نے عرض کیا ضرور! پھر آپ کے نماز پڑھنی قیام میں تخفیف کی، سورتہ فاتحہ اور ایک چھوٹی سورتہ پڑھیں پھر آدھی رات سجدے میں رہے۔ پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت پڑھیں اور پہلی کی طرح اس میں قرآت فرمائیاور پھر آپ سجدے میں چلے گئے۔ یہ سجدہ فجر تک رہا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں دیکھتی رہی مجھے یہاں اندیشہ ہو گیا۔کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللّٰہ ھو علیہ وآلہ وسلم کی روح ( مبارک) قبض فرما لی ہے۔ پھر جب میرا انتظار طویل ہوا۔( بہت دیر ہو گئی) تو میں آپ کے قریب پہنچی اور میں نے حضور صلی اللّٰہ ھو علیہ وآلہ وسلم کے تلوؤں کو چھوا تو حضور نے حرکت فرمائی میں نے خود سنا کہ حضرت محمد صلی اللّٰہ ھو علیہ وآلہ وسلم نے سجدے میں یہ الفاظ ادا کیے۔ ” الہی میں تیرے عذاب سے تیری عفو اور بخشش کی پناہ میں آتا ہوں۔ تیرے قہر سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں۔تیری ذات بزرگ ہے۔میں تیری شایانِ شان ثنا بیان نہیں کر سکتا۔ تو ہی آپ اپنی ثنا کر سکتا ہے اور کوئی نہیں”

یہ ہے فصیلت اور حقیقت اس رات کی لیکن یاد رہے اس رات مقدر لکھے نہیں جاتے مگر بدل سکتے ہیں۔ جو چاہیں مانگیں دل کھول کر مانگیں۔ رب کے آگے سجدہ ریز ہو جائیں۔ آنسوؤں میں خود کو نہلا لیجیے۔ کیونکہ اس رات رب بہت قریب ہے۔ خود پوچھ رہا ہے کہ کوئی مانگنے والا ہے۔ جہاں بھر کی خوشیاں ، مغفرتیں اور آسانیاں مانگیں۔ اور سب سے اہم بات ایک دوسرے کو معاف ک دیجیے کسی کو کہنے کا موقع نہ دیں۔ ویسے تو یہ عمل روز رات سونے سے پہلے کر لیجیے۔ مگر شب برات میں سب کو معاف کر دیجیے۔ کسی نے حق تلفی کی ہو تکیلف دی ہو کسی نے دل توڑا ہو۔ کسی نے حق کھایا ہو۔ سب کو معاف کر دیجیے دل سے معاف کریں۔ کیونکہ یہ رات ایک قسم کا میدان حشر ہی ہے کہ رب کی بارگاہ میں سال بھر کا ریکارڈ پیش ہو گا۔سب کو زبان پہ معافی کے بول آنے سے پہلے معاف کر دو۔ نہیں کرنا چاہتے تب بھی کر دو۔ کیونکہ آپ کے معاف کرنے سے کسی کے سال بھر کے گناہوں کی تعداد میں کچھ کمی آ جائے گی۔اور آپ کے حق میں ثواب لکھ دیا جائے گا۔ بیشک یہ مبارک رات ہے۔ اس رات میں رب کی تلاش میں نکل جائیے رب کو منا لیجیے۔ اور دل کھول کے مانگ لیجیے۔ اللہ ہم سب کی دلی خواہشات کو پورا فرمائے ہمارے دکھ درد پریشانیاں دور فرمائے اور ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

Comments are closed.