فن قرآت کا پیچیدہ مسئلہ

 

 

تلخیص: قاری محمد حنیف ٹنکاروی

(استاذ تجوید و قرأت: دارالعلوم ہدایت الاسلام، عالی پور)

 

 

”الله الذي خلقكم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف….. الخ“ (الروم آیۃ: 54) اس آیت میں لفظ ضعف تین مرتبہ آیا ہے۔ اور امام حفص رحمہ اللہ کے نزدیک تینوں ضعف کے ضاد پر فتحہ اور ضمہ دونوں پڑھ سکتے ہیں۔

اس سلسلہ میں چند باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

 

قبل اس کے کہ ہم ان تمام باتوں کو سمجھیں مقدمہ کے طور پر ایک اہم بات پیش خدمت ہے:

ائمہ قرأت اور ان کے رُوات کا جو دور تھا، وہ قرأت کے اختیار کا دور تھا، کہ اولاً یہ حضرات ایک نہیں بلکہ متعدد شیوخ سے مختلف و متعدد قراءات کو پڑھتے اور حاصل کرتے تھے۔ پھر ان وجوہِ مقروؤہ متواترہ سے مرجح یا مؤید کی بنیاد پر ایک وجہ کا انتخاب فرما کر ایک قرأت ترتیب دیتے، پھر اپنے تلامذہ کو خاصۃ اپنی اختیار کردہ قرأت کو پڑھاتے، مگر ساتھ ہی ساتھ کوئی شاگرد دیگر وجوہ کی ان سے درخواست کرتا تو وہ بھی پڑھاتے تھے، اس طرح جس قرأت کو ان سے اختیار کیا وہ ان کی قرأت کہلائی، اب امام حفصؒ نے امام عاصمؒ کی اختیار کردہ وجوہ کو ان سے حاصل کیا اور اس کو اختیار بھی کیا، سوائے ایک مقام کے کہ جس کی انہوں نے خود وضاحت فرمائی چنانچہ علامہ دانیؒ نقل کرتے ہیں: ”انه لم يخالف عاصما في شيء من قراءته الا حرفا واحدا في الروم“ یوں خزینۃ القراءات سے کچھ کو اختیار کرنے اور اپنانے کا دور جاری ہی تھا تو امام حفصؒ نے بھی ضمہ کی قرأت کو اختیار فرمایا جیسا کہ امام ابو محمد مکی القیسی اپنی کتاب ”الابانة“ میں امام نافعؒ کا ملفوظ نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ستر تابعین سے متعدد قراءات حاصل کیں؛ لیکن ان میں سے ہر استاذ کے ذخیرہ اختلاف سے کچھ کا انتخاب کر کے اسے ترتیب دیتے ہوئے منتخب وجوہ قراءات کا ایک سیٹ بنا لیا اور آپ اپنے اکثر تلامذہ کو یہی قرأت پڑھاتے، چنانچہ قالون نے اسی سیٹ کو پڑھا اسی وجہ سے قالون اور ورش کے مابین تقریباً تین ہزار سے زائد حروف میں اختلاف ہے، دوسری مثال امام کسائی نے امام حمزہ سے قرأت پڑھی ہے مگر دیگر مشائخ سے بھی قرأت حاصل کی ہے پھر اپنی منتخب قرأت کا ایک سیٹ تیار فرمایا جس میں امام حمزہ سے تین سو مواقع میں اختلاف ہے۔

یوں وہ دور انتخابات و اختیارات کا دور تھا، تو امام حفص نے ”ضعف“ کے ضاد کا ضمہ مختلف وجوہ کے تحت امام عاصم کے خلاف اختیار فرمایا، ہاں یہ بات الگ ہے کہ حفص نے ضمہ کن سے پڑھا اس کی تعیین و وضاحت دانی رحمہ اللہ کی ”تیسیر“، جزری رحمہ اللہ کی ”النشر“ میں بھی نہیں ہے۔ البتہ اختیارِ ضمہ کے لئے حدیث عبد اللہؓ بن عمرؓ کا ضرور دخل رہا ہے۔

اختلف عن حفص فروي عنه عبيد وعمر وانه اختار فيها أي في الروم فقط الضم خلافا لعاصم للحديث الذي رواه حفص عن الفضيل بن مرزوق عن عطية العوفي عن ابن عمر مرفوعاً… الخ

اب ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب حفص نے امام عاصم سے ضعف کا فتحہ پڑھا ہے تو پھر ضمہ کیوں اختیار فرمایا بألفاظ دیگر حفص نے کیوں عاصم کی مخالفت کی؟ وہ کیا وجوہِ ترجیح ہیں؟

تو اس کا جواب ملاحظہ ہو امام حفص کے اختیار ضمہ کے لئے چند وجوہ یہ ہیں:

(١) فتحہ کی بنسبت ضمہ کے رُواۃ و ناقلين کی تعداد زیادہ ہیں، چنانچہ ائمہ عشرہ میں سے سات ائمہ ”ضمہ“ جب کہ تین فتحہ نقل کرتے ہیں۔

(٢) دوسری وجہ وہ حدیثِ عبداللہؓ بن عمرؓ ہے جس میں عبد اللہ بن عمرؓ نے خدمت بابرکت میں جب ”الله الذي خلقكم من ضعف“ کو تینوں جگہ فتحہ ضاد سے پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فتحہ کی جگہ ضمہ پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔

(٣) معناً ضمہ کا قوی ہونا جیسا کہ امام خلیل فراہدیؒ کے حوالہ سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے کہ ضاد کے ضمہ کے ساتھ ضُعف جسمانی ضعف کے معنی میں اور فتحۂ ضاد عقلی ضعف کے معنی میں ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسمانی اعتبار سے گو ضعیف پیدا فرمایا ہے مگر عقل کے اعتبار سے قوی پیدا فرمایا، جس کی وجہ سے اونٹ، ہاتھی جیسے جانوروں پر قابو پا لیتا ہے۔

رہی بات یہ کہ پڑھنے والا کیا پڑھے ضمہ یا فتحہ ؟ تو بات واضح ہے کہ ضاد کا فتحہ تو قرأت بسند متصل و منقول ہے باقی رہا ضاد کا ضمہ تو اگرچہ حفص کا اختیار کیا ہوا ہے اور بعد کے لوگ مثلا آپ کے طرق و تلامذہ میں عمرو بن صباح و عبید بن صباح دونوں ضاد کے ضمہ کے مختار عند حفص ہونا بیان بھی کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ضاد کے ضمہ والی قرأت کی سند کا اتصال ابھی بھی محتاج تحقیق و تتبع ہے۔

چنانچہ بروایت حفص ضمہ پڑھتے ہوئے خیال رہے کہ سنداً اور روایۃً فتحہ ہی قوی ہے؛ لہذا جب روایۃً و سنداً پڑھا جائے فتحہ کے ساتھ ہی پڑھنا چاہیے تاکہ سند کا اتصال باقی رہے اور علی حسب التلاوت پڑھا جائے تو ضمہ ہی پڑھیں مگر اس وقت بھی خیال رہے کہ بروایت حفص اگرچہ عقلاً ضمہ ہی قوی ہے مگر روایتا و سنداً فتحہ ہی قوی ہے اس وجہ سے عرب سے چھپنے والے مصاحف میں صرف فتحہ ہی چھپتا ہے؛ لہذا صرف ضمہ پر اکتفا نہ ہونا چاہیے جیسا کہ ہمارے یہاں فتحہ غیر مقروؤ جیسا ہوگیا ہے نیز مصاحف کے حاشیہ میں ”الضم أولی“ جو لکھا جاتا ہے یہ اولویت عقلاً و درایۃ ہے نہ کہ سنداً اور روایۃً۔

خلاصہ یہ ہوا کہ امام عاصمؒ سے فتحہ و ضمہ دونوں منقول ہیں مگر سنداً حفص عن عاصم فتحہ ہی ہے جب کہ ضمہ مفضل عن عاصم منقول ہے نیز امام حفص اپنے تلامذہ کو دونوں پڑھاتے تھے مگر فتحہ سنداً اور ضمہ اختیاراً پڑھاتے تھے۔

 

 

مفضل کا مختصر تعارف

 

مفضل بن محمد بن یعلی کوفی بڑے درجہ کے نحوی ہیں دوسری صدی کے اکابرِ نحو و افاضل قرأت میں سے ہیں، نیز امام عاصم کے ممتاز تلامذہ میں آپ کا بھی نام ہے، علامہ دانی علیہ الرحمہ نے امام عاصم کے جو تین معتمد راوی بیان کیے ہیں ان میں شعبہ و حفص کے بعد تیسرے یہ مفضل ہیں، یہ مفضل امام عاصم سے تلمذ کے بارے میں خود فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ امام عاصم کی خدمت میں حاضر ہو کر قرأت سیکھتا تھا مگر کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ میں کسی عذر کی بِنا پر درس میں حاضری نہیں دے سکتا تو امام صاحب بنفس نفیس میرے گھر تشریف لاتے اور میں آپ سے سبق پڑھتا اسی لئے آپ نے اول سے آخر تک پورا قرآن مجید امام عاصم رحمہ اللہ سے ہی پڑھا ہے۔ مفضل نے تمام مواقع ضعف کو امام عاصم رحمہ اللہ سے ضاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔

Comments are closed.