جہیز مرد کی ”قوَّامیت“ کے بھی خلاف ہے۔
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
ایک مرد جو اپنی خلقت، طاقت، قوت اور فکری استقامت و صلابت اور جد وجہد کے لئے جانا جاتا ہے، جوش، جذبات، جنون اور کچھ کر گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اپنی سوچ، فکر اور درست رویہ، منصوبہ بندی اور پلاننگ سے دنیا کو بدل دینے کا ہنر رکھتا ہے، جس کا امتیازی شان یہ ہوتا ہے کہ وہ زمانے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتا ہے، چہار جانب سے موسلادھار بارش کی طرح گرنے والے مصائبِ زندگی اور مشکلات کے سمندر میں غوطہ کھا کر، ڈوب کر اور پھر سمتِ مخالف لہروں کو چیرتا ہوا، تیز بہاؤ، ٹھہراؤ اور گہرائی کو پاٹتا ہوا، بجلی و بادل کی گرج اور ہواؤں کے طوفان سے جوجھتا ہوا باہر نکلتا ہے، وہ سب کچھ پیچھے چھوڑتا جاتا ہے، اور نئے نقوش، نئے رنگ و ڈھنگ قائم کرتا جاتا ہے، اپنے دونوں بازوؤں سے اڑان بھرتا ہے، فضاؤں کو اسیر کرتا ہے، ستاروں پر کمندے ڈالتا ہے، عیر معمولی مخلوقات کا بھی مقابلہ کرتا ہے، جس کو کوئی قابو نہ کرسکے اسے بھی سدھا لیتا ہے؛ بالخصوص اپنی ذہانت اور متانت سے دنیا سر کرجاتا ہے، وہ سنکدر اعظم بنتا ہے، لنگ کے باوجود دنیا پر فتح کا جھنڈا لہراتا ہے، اور اعلان کرتا ہے کہ خالق و مالک نے اسے دنیا کا خلیفہ بنایا ہے، حقیقی معنوں میں وہی دنیا کا مستحق ہے اور اس کے وسائل پر قبضہ کرنے کا امیدوار ہے، روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز اسی کے لئے ہے اور وہ اس رب کے لئے ہے، مگر جب کوئی ایسا نوجوان اور مرد جب عورت کے پَلُّو میں چھپتا ہوا دکھائی دے، اس کی طفیل میں رزق کا بندوبست کرتا ہوا نظر آئے، صنف نازک کو آڑ بنا کر گھر کو سجاتا ہوا اور اپنی دولت میں اضافہ کرتا ہوا ملے تو اسے مرد اور مردانگی کے خلاف ہی کہنا چاہیے، اللہ تعالی نے بھی ایک مرد کے لئے لفظ قوّام کا تذکرہ کیا ہے، یہ اس کی اولوالعزمی، بلند ہمتی اور بلند حوصلگی پر دال ہے؛ جو ایک گھر، خاندان، معاشرہ اور ملک کی باگ ڈور سنبھالتا ہے، اور سب کچھ درست ناحیے پر لے کر چلتا ہے؛ بالخصوص وہ اپنے اہل و عیال اور شریکِ حیات کا ذمہ دار ہوتا ہے، ایک مرتبہ جب کوئی مرد کسی خاتون کو بطور زوجہ قبول کرلے تو اس کی ذمہ داری ہے؛ کہ وہ بہرکیف اس کے لئے ہر چیز کا بندوبست کرے، یہ اس کی مردانگی اور اس کے شایان شان بھی ہے؛ لیکن اب اپنی قوّامیت کو بھی مردوں نے بہانے بازیوں، حیلہ سازیوں کے ذریعے پس پشت ڈال دیا ہے، وہ خود قوام کے بجائے صنف نازک کو یہ مقام دینا چاہتے ہیں، وہ عملی طور پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی صنف نازک پر منحصر ہوچکی ہے، وہ ان سے جہیز لیں گے اور جائز کر کے لیں گے پھر ان پر قوامیت کا رعب ڈالنے کی ناکام کوشش کریں گے، یاد رکھو اگر مرد بننا چاہتے ہو، حقیقی قوامیت کے خواہاں ہو تو جہیز سے ہر صورت توبہ کرو، سماج کو اس لعنت سے بچاؤ، اپنے وجود سے معاشرے کے لئے بوجھ نہ بنو، اللہ تعالی کے عطا کردہ نعمت سے گریز اور مرد مخالف کام نہ کرو، اور یہ موقع نہ دو کہ کسی باپ کی بیٹی کو کہنا پڑے:
قسمت کی سیاہی کا ازالہ نہ ہوا
تعمیر محبت کا شوالہ نہ ہوا
گھرپھونک دیابیٹی کی خوشیوں کےلئے
داماد کی آنکھوں میں اجالہ نہ ہوا
(رئیس الشاکری)
استاد محترم حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ کے ایک مضمون کا اہم اقتباس پیش خدمت ہے جو مردوں کو اسی مردانگی پر ابھارتی ہے، اور بہت سے حیلوں پر قدغن لگاتی ہے، آپ رقم طراز ہیں: "اسلامی نقطۂ نظر اس سلسلے میں بالکل واضح ہے، اسلام نے نکاح میں تمام مالی ذمہ داریاں مردوں پر رکھی ہیں، مہر اس کے ذمہ ہے، ولیمہ اسے کرنا ہے، بیوی کے نفقہ کی ذمہ داری اس پر ہے، بچوں کی پرورش کا بوجھ اسے برداشت کرنا ہے، خود کمانا ہے اور پورے گھر کی ضروریات پوری کرنا ہے، اسی باعث تو اللہ تعالیٰ نے مرد کو ’’قوام‘‘ یعنی سربراہِ خاندان بنایا ہے، اس لئے مرد کا عورت سے نکاح کے موقع پر یا نکاح کے بعد کچھ لینا در حقیقت ننگ و عار کی بات ہے، رسول اللہ انے خود ایک سے زیادہ نکاح فرمائے، اپنی صاحبزادیوں کا نکاح کیا اورآپ کے جاں نثار رُفقا کے بہت سے نکاح آپ کے سامنے ہوئے؛ لیکن نہ جہیز اور نہ مردوں کی طرف سے کوئی مطالبہ، حضرت خدیجہؓ کا حضرت زینبؓ کو سونے کا ہار دینے کا ذکر ملتا ہے؛ لیکن ایک تو یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے، دوسرے اس کی صراحت نہیں کہ نکاح کے وقت ہی ہار دیا ہو، رسول اللہ انے حضرت فاطمہؓ کے لئے کچھ گھریلو اشیاء بستر، تکیے، مشکیزہ وغیرہ بنوائے؛ لیکن حدیث و سیرت کی کتابوں میں یہ صراحت موجود ہے، کہ یہ سب کچھ خود حضرت علیؓ کی زرہ فروخت کر کے اسی سے مہیا کیا گیا تھا، ( دیکھیے: شرح مواہب: ۲؍ ۴-۳)
مشہور ہے کہ اردو زبان میں سیرت کی پہلی کتاب مفتی عنایت احمد کا کوریؒ کی ’’تواریخ حبیب اللہ‘‘ ہے، انہوں نے بھی یہی لکھاہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زرہ کی قیمت میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیا کہ خوشبو خرید کر لائیں اور باقی حضرت اُم سلمہؓ اور حضرت فاطمہؓ کے لئے گھر کی ضروریات خرید کی جائیں،( تواریخ حبیب اللہ: ۴۴) فقہاء کے یہاں قریب قریب صراحت ملتی ہے کہ نکاح کے موقع پر عورت سے کوئی مال حاصل کرنا ’’رشوت ‘‘ کے حکم میں ہے اور رشوت کا گناہ اور حکم ظاہر ہے کہ اس کا لینا بھی حرام ہے اور ضرورت شدیدہ کے بغیر اس کا دینا بھی اور لے لیا ہو تو واپس کرنا واجب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے، تو کس قدر محرومی کی بات ہے کہ ایک سنت نبوی کو انجام دیتے ہوئے انسان اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی لعنت کا طوق بھی اپنے گلے میں ڈال لے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہیز اور گھوڑے جوڑے کا مسئلہ نہ صرف اسلامی بلکہ انسانی نقطۂ نظر سے بھی نہایت سنگین مسئلہ ہے، اور سنگین تر بنتا جارہا ہے ، کم سے کم مسلمانوں کو دین عدل اور شریعت عادلہ کے حامل ہونے کی حیثیت سے اس کے مقابلے کے لئے آگے بڑھنا چاہیے، اور سماج کو اس سے نجات دلانے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ یہ کہ وہ خودظلم و جور کے اس سمندر میں کود پڑیں اور دوسری قوموں کی اس ظالمانہ رسم کو اپنے سماج میں لے آئیں، جیسے ایک زمانہ میں بعض بزرگوں نے نکاح بیوگان کی تحریک چلائی تھی؛ کیوں کہ مسلمان دوسرے سماج سے متاثر ہوکر بیوہ عورتوں کے نکاح سے گریز کرنے لگے تھے، اسی طرح آج بھی ایک ایسی مہم کی ضرورت ہے ، جو رسم جہیز کو مٹانے کے لئے برپا کی جائے اور نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ انسانی بنیادوں پر تمام اقوام میں اس پیغام کو لے کر پہنچا جائے۔“ (جہیز کی ظالمانہ رسم اور ہماری ذمہ داریاں-شمع فروزاں:١٦/٠٣/٢١٢١)
Comments are closed.