اپریل فول(جھوٹ کا عالمی دن)
ازقلم: طاہرہ لیاقت (خوشاب)
اسلام ایک مکمل ضابطہ ہے۔ اس میں تمام شعبہ ہائے حیات کی مکمل تفصیل موجود ہے۔ ذاتی زندگی سے لے کر سیاسی و سماجی، معاشی و معاشرتی غرض ہر پہلو کو بیان کیا گیا ہے اور ان کو اپنانے کے طریقے اور مختلف اصول و ضوابط وضع کیے گئے ہیں تاکہ ہم ان پر عمل کر کے اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بنا سکیں۔اتنا خوبصورت مذہب پاس ہونے کے باوجود غیر مسلموں کی تقلید کرنا انسانیت کے خلاف اور قابلِ افسوس ہے۔بہت سی برائیوں کے ساتھ ساتھ "اپریل فول” بھی ایک ایسی برائی ہے جس کا مسلمان مکمل طور پر شکار ہو چکے ہیں۔یہ دن ہر سال اپریل کی پہلی تاریخ کو بہت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ مناتے ہیں۔اس دن اپنے پیاروں اور دوست احباب کو بے وقوف بنایا جاتا ہے، دھوکے سے، جھوٹ سے اور مختلف قسم کی اوٹ پٹانک حرکات کی جاتی ہیں۔جو کہ اسلامی تعلیمات کے مکمل خلاف ہیں۔جو شخص صفائی سے جھوٹ بولتا ہے اور بہت ہی چالاکی سے دوسروں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوتا ہے اسے بہت ہی ذہین تصور کیا جاتا ہے اور اس کی تعریفوں کے ایسے پل باندھے جاتے ہیں کہ وہ خود پر فخر محسوس کرنے لگتا ہے۔اس سے برائی کو فروغ ملتا ہے۔اپریل فول درحقیت "*جھوٹ* کا عالمی دن” ہے۔ کیونکہ اس دن سب سے زیادہ جھوٹ ہی بولا جاتا ہے اور بغیرکسی ہچکچاہٹ کے۔
اپریل فول کی تاریخ کی بات کی جائے تو مختلف مورخین کے مختلف بیانات موجود ہیں۔اس کاآغاز فرانس سے ہوا جہاں سترھویں صدی کے آغاز میں سال کی ابتدا جنوری کی بجائے اپریل سے ہوتی تھی تو سال کے آغاز کی خوشی میں جشن منایا جاتا اور ہنس مذاق کیا جاتا جو کہ آہستہ آہستہ اپریل فول کی شکل اختیار کر گیا۔اس کے علاوہ سپین میں جب عیسائیوں کی حکومت تھی تو وہ اپنے ملک کو مسلمانوں سے پاک کرنا چاہتے تھے تو انھوں نے ان کا قتلِ عام شروع کر دیا، بعض جو رہ گئے تھے ان کو دھوکے اور فریب سے اپنے جھانسے میں پھنسایا اور کہا کہ ان کو بحفاظت افریقہ پہنچایا جائے گا مسلمان ان کے دھوکے میں آگئے۔ اور اپنا بوریا بستر اور دولت سب کچھ سمیٹ کہ پاس رکھ لیا۔انہوں نے بحری جہازوں کا انتظام کیا اور ان کو اپنی چال کے مطابق سمندر کے درمیان میں جا کہ ڈوبو دیا گیا۔اس طرح بہت سی قیمتی جانوں اور دولت کا ضیاع ہوا۔ سپین بھر میں مسلمانوں کو بے وقوف بنانے پر جشن منایا گیا۔یہ دن یکم اپریل کا تھا اس مناسبت سے یہ فول ڈے یعنی بےوقوفوں کے دن سے منسوب ہو گیا اور آہستہ آہستہ پورے یورپ میں ایسا پھیلا کہ مسلمان بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے۔حلانکہ یہ ان کے قتلِ عام کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔یہ تو اس کی تاریخ ہے لیکن اسلام میں بھی اس کی گنجائش نہیں،کیونکہ اسکا رشتہ کہیں نہ کہیں توہم پرستی اور جھوٹے عقائد و نظریات سے ملا ہوا ہے۔اپریل فول بہت سے گناہوں کی جڑ ہے۔
1۔ہندوؤں اور مشرکوں سے مشابہت
2۔جھوٹ اور ناحق مذاق
3۔دھوکہ
اور اس طرح کی بہت سی برائیاں ہیں اسمیں۔سب سے پہلے تو ہم مسلمان ہیں اور ہندوؤں سے مشابہت ہمیں بالکل زیب نہیں دیتی۔ اس طرح تو اسلام سے خارج ہونے کا خدشہ ہے۔دوسرا گناہ کبیرہ جو کہ جھوٹ ہے اس کی تو ہر گز اسلام میں اجازت نہیں۔ اس بات کی تصدیق قرآن و حدیث سے بخوبی عیاں ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
"لعنت اللہ علی الکذبین”
ترجمہ: "جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے”
حدیثِ پاک سے بھی ثابت ہے کہ جھوٹ کس قدر بڑا گناہ ہے۔حدیث میں ہے کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے؟ فرمایا بالکل۔ پھر عرض کیا گیا کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے؟ فرمایا جی ہاں۔تیسری بار عرض کیا گیا کیا جھوٹا ہو سکتا ہے؟ فرمایا ہرگز نہیں۔”
تو اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ جھوٹ کی کس قدر اسلام میں ممانعت ہے۔کسی مسلمان بھائی سے جھوٹا اور ناحق مذاق کرنے سے اور ڈرانے سے منع کیا گیا ہے۔تو پھر ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں سے جھوٹ بولیں، ان کو دھوکہ دیں اور ان کو ڈرائیں۔فول ڈے پے لوگوں کو مذاق میں اور جھوٹ بول کر ڈرایا جا تا ہے اور پھر بعد میں ان پر ہنسا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ یہ تو اپریل فول تھا۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کبھی ہم پر بھی یہ وقت آسکتا ہے۔ایسوں کے بارے میں عربی معقولہ ہے کہ: مَن ضَحِکَ ضُحِکَ
جو دسروں پر ہنستا ہے اس پر بھی ہنسا جاتا ہے۔
محض لوگوں کو ہنسانے کےلیے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا مگر اس بات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے کہ اس سے وہ نہ صرف دوسروں سے برا کر رہے ہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی گناہِ کبیرہ میں ملوث کر رہے ہیں۔کیونکہ اس طرح کے بہت سے افسوس ناک واقعات موجود ہیں جو کہ اس دن جھوٹ کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ جھوٹ برداشت نہیں کر پاتے اور وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، بہت سے ایکسیڈنٹ اور بہت سے ہارٹ آٹیک کا شکار ہو جاتے ہیں۔تو سوچیں اس دن کو منا کر ہم انسانیت کو کس قدر اذیت سے دوچار کرتے ہیں۔جس کی ہمارا اسلام ہمیں ہر گز اجازت نہیں دیتا۔تو خلافِ اسلام جانا منکر ہونے کے مترادف ہے۔
افسوس! اپریل فول کو اس قدر گناہوں کا مجموعہ ہونے کے باوجود مسلمان بغیر کس رکاوٹ کے خوشی سے مناتے ہیں۔حلانکہ یہ مسلمانوں کے قتلِ عام کی خوشی میں منایا جاتا ہے لیکن مسلمان اس چیز سے بے خبر ہو کر اس دن کو بخوشی مناتے ہیں۔ دوسروں کو مصیبت میں ڈال کر اسے تفریح کا نام دیا جاتا ہے۔خدارا مسلمان ہونے کا حق ادا کیجیئے، اپنے عزیزوں میں خوشیاں بانٹیئے اور دوسروں کی مصیبت کی وجہ مت بنیں۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اس برائی کا جشن نہیں منانا بلکہ اس کا بائیکاٹ کرنا ہے۔
اللہ پاک ہمیں ایسی برائیوں کا مرتکب ہونے سے محفوظ فرمائے اور عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ آمین
Comments are closed.