لاکڈاؤن کا مقصد حکومت کی خفیہ سازش کے سوا کچھ نہیں
گلفشاں شعیب قاسمیہ
ان دنوں لاکڈاؤن کی خبریں عروج پر ہیں۔میرا ذہن ودماغ اس بات کو سوچنے پر مجبور ہے کیا وائرس صرف رمضان کے قریب ہی پھیلتا ہے ہولی میں وائرس نہیں پھیلا دیوالی میں وائرس نہیں پھیلا اور دیگر ہندو تیوہار میں وائرس نہیں پھیلا، کیا وائرس صرف مسلم تیوہار پر ہی اپنے رنگ دکھاتا ہے۔میں مذہب کی بات کرنا نہیں چاہتی لیکن یہ ظالم حکمران مجھے بار بار اس بات کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
*میں نے مذہب کی بات کی ہی نہیں*
*فالتو عقل مجھ میں ہے ہی نہیں*
ہم نے ہمیشہ بھائی چارگی کا اعلان کیا ہے جبکہ ہمیشہ ہمیں ہندو مسلم منافرت پھیلاکر دھتکارا گیا.
اگر لاکڈاؤن کا مقصد وائرس سے بچاکر انسانوں کی جان بچانا ہے تو ان غریبوں اور مزدوروں کا بھی خیال کرو جو روزانہ کی آمدنی سے اپنے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں کیا انکے گھر بیٹھنے سے ان کے بچےفاقہ کشی سے موت کا شکار نہیں ہونگے ہندوستان میں ۹۰فیصد لوگ ایسے ہیں۔صرف دس فیصد لوگ ہونگے جنکے پاس جمع پونجی ہوگی۔ لاکڈاؤن سے ہمارے ملک کی آدھے سے زیادہ آبادی تباہی وبربادی کا شکار ہوجائے گی۔آخر ہندوستان ترقی کرے بھی کیسے بار بار حکومت اسطرح کےگھناؤنے کارنامے انجام دیکر ملکی معیشت کو زمین کی تہہ سے ملادیتی ہے کچھ وقت پہلے *نوٹ بندی کے ذریعہ لوگ فاقہ کشی کے شکار ہوئے پھرN R C اور C A A جیسی گھناؤنی سازش کے تحت لوگوں کو مجبور کیا گیا۔ پھر وائرس کا شوشہ چھوڑکر لاکڈاؤن پھر کسان آندولن اب پھر دوبارہ لاکڈاؤں*اور یہ سارے فیصلے کسی بھی پیشگی تیاری کے بغیر، افسوس ہے ہم نے حکومت کیسے افراد کے سپرد کردی ہے.
*کیا نمو پائیگی اس ملّت میں اولاد غیور*
*جنکی گھٹّی میں ملا ہو کذب و مکرو زور*
۔دیکھئے آنکھیں کھولکر ان تصویروں کو عورتیں بچے کسطرح بل بلاکر کڑی دھوپ میں راستوں پر نکلے ہوئے ہیں آخر کہاں گیا تمہارا جذبہ ہمدردی۔میں آج بھی وہ بات نہیں بھولتی جب لوگوں نےدہلی سے بہار تک کا اور دیگر صوبوں کا سفر پیدل کیا تھا۔ان سب کو سوچکر میری آنکھیں آج بھی نم ہوجاتی ہیں آخر ان بچوں نے دنیا میں آکر کیا خطا کی تھی جنکو اتنی سخت سزائیں ملی کہ تین تین بلکہ اس سے بھی زیادہ دن تک فاقہ کی حالت میں پیدل سفر کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں. ۔آخر کیا گزرتی ہوگی اس ماں کے دل پر جو اپنے بچوں کوبھوک سے بلکتا دیکھتی ہوگی۔طاقت کے نشہ میں چور حکمرانوں ابھی بھی وقت ہے ملک کے غریب عوام کے حق میں سوچو ان سرمایہ داروں کی بھلائی کے فیصلے نا کرو جن کی تم کٹھ پتلی ہو بلکہ عوام کے لئے جو بہتر ہو وہ فیصلے کرو،۔
اگر خود بے اولاد ہو تو کم ازکم دوسروں کا تو خیال کرو۔
یہ بات ہم جان گئے کہ آپکا مقصد لوگوں کی جان بچانا نہیں بلکہ انکو موت کی گھاٹ اتارنا ہے۔اور مسلمانوں کو ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا کرنا ہے، اسی لیے رمضان جیسے مقدس مہینے کی ساعات اور ان میں اجتماعی عبادات سے ان کو محروم کرنا چاہتے ہو.
*اندر بلا کا خوف ہے باہر سازشوں کا خوف*
*کس خوف سے مروں میں ذرا رائے دیجئے*
Comments are closed.