”سادہ اور آسان نکاح مہم“ وقت کی اہم ضرورت

 

 

تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی(بھوپال، ایم پی)

رابطہ: 9826268925

 

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اصلاح معاشرہ کمیٹی کی دس روزہ آسان اور مسنون نکاح کی ملک گیر مہم جاری ہے۔ الحمدللہ اس مہم کے حوصلہ افزا نتائج و اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ نکاح کو آسان اور سادہ بنانے کے سلسلے میں بورڈ کی جانب سے اقرار نامہ مرتب کیا گیا ہے جس پر تمام مسالک اور مکاتب فکر کے ذمہ دار حضرات کے دستخط ہیں اس اقرارنامہ کو آنے والے جمعہ کو ہر مسجد میں بھیجا جائے گا ان سے سادہ اور آسان نکاح کے سلسلے میں اقرار کروایا جائے گا اسی طرح اس اقرارنامے کو ہر مسجد میں آویزاں کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

وقت آگیا ہے کہ ہم نکاح میں پائی جانے والی خرابیوں اور رسم و رواج کے خلاف طاقتور آواز بلند کریں اور ہر قسم کے مفاسد اور بری باتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ بیجا رسومات جوڑے گھوڑے اور جہیز کی لعنت سے بچتے ہوئے نکاح کو آسان بنائیں، کیوں کہ کم خرچ، ہلکی پھلکی اور آسان شادیوں کے سلسلے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”وہ نکاح بہت ہی بابرکت ہے جس کا بوجھ کم سے کم ہو“۔(بیہقی)

لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ہماری شادیاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بالکل برعکس ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں ہم نت نئے خانگی الجھنوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

ازدواجی زندگی کو خوشگوار، خوش حال اور کامیاب بنانے کے لیے اسلام نے جن باتوں کا ہمیں حکم دیا ہے، آج ہم انہی باتوں کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جس کے سبب ہم فساد وبگاڑ کی طرف نہایت تیزی سے رواں دواں ہیں۔ شادی کے شرعی معیار کو نظر انداز کر دینے کے سبب ہم مصیبت عظمی میں گرفتار ہو گئے ہیں۔

اسلامی شادیاں جو کبھی سنت نبوی کے مطابق انجام پانے کی وجہ سے مبارک تھیں آج رسومات مروجہ کے مطابق ہونے کی وجہ سے نامبارک ہو گئی ہیں، ہماری شادیاں جو خانہ آبادی اور مسرت و شادمانی کا ذریعہ و وسیلہ تھیں آج شرعی معیار کو نظر انداز کر دینے کی وجہ سے خانہ بربادی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ آج شادی کے بعد دو خاندانوں کے درمیان محبت کے بجائے عداوتیں وجود میں آ رہی ہیں۔

عورتیں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں اپنے اعلیٰ و ارفع فرائض کو بھول کر مردوں کی برابری کے چکر میں اپنی بربادی کی طرف رواں دواں ہیں جبکہ اس پر عائد کی گئی ذمہ داریاں کافی تھیں، لیکن نادان عورتوں نے باہر کی دنیا میں قدم رکھ کر اپنے بوجھ کو مزید بڑھا لیا ہے۔ مرد کے شانہ بشانہ چلنے کے چکر میں مردوں کی ہوس بھری نظروں کا نشانہ بن کر اپنے آپ کو ذلیل کر رہی ہے۔ گھر میں پوری عزت و وقار اور سکون کے ساتھ رانی بن کر بیٹھنے کے بجائے سوسائٹی کی تتلی بن گئی ہے۔

آج کی عورتوں نے مردوں کی ذمہ داریوں کا آدھا بوجھ اپنے سر لے لیا ہے آج کی کماؤ عورت کی حالت دن بدن بد تر ہوتی جا رہی ہے نند، دیورانی، جیٹھانی کی طرف سے شکایات، ساس سسر کی طرف سے ظلم و زیادتی، شوہر کی طرف سے بدگمانی و سخت رویہ لیکن افسوس اسے پھر بھی ہوش نہیں، اس کی کمائی سے معیار زندگی ضرور بڑھ گیا ہے لیکن ازدواجی زندگی منتشر ہوکر رہ گئ ہے، بچے نوکروں اور پالنہ گھروں کے حوالے ہو رہے ہیں‌ اور ماؤں کی محبت، لاڈ پیار اور لوریوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ جب بیوی اپنے شوہر کے جائز حقوق پورے نہیں کر پا رہی ہے تو شوہر شا کی اور اپنی ازدواجی زندگی سے غیر مطمئن رہنے لگا ہے اور وہ بھی بدلے میں اپنی بیوی کے حقوق کا پاس و لحاظ نہیں رکھتا جس کی وجہ سے دونوں کی زندگی میں تلخیاں بڑھنے لگی ہیں، میاں بیوی ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے لگے ہیں۔ عورت انا پرستی کے چکر میں جھکنے کو تیار نہیں ہے جس کے نتیجے میں وقوع طلاق و خلع اور فسخ نکاح کی شرحیں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہم اپنی فرسودہ رسومات ومزعومات فاسدہ کو چھوڑنے کو تیار نہیں، حالانکہ مسلم معاشرے کا بگاڑ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ہر جگہ بے راہروی دیکھنے میں آ رہی ہے، لوگ افراط و تفریط کے شکار ہیں۔ میاں بیوی کی زندگی کی گاڑی کے پہیے چلنے کے بجائے گھسٹ رہے ہیں۔

اسلام میں نکاح ایک با مقصد اور پر وقار عمل ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو پیغمبروں کی سنت قرار دیا ہے ہے ”عن ابی ایوب رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اربع من سنن المرسلین: الحیاء والتعطر والسواک والنکاح۔“ (سنن ترمذی١/٦٠٢ رقم:٠٨٠١)

اور نکاح کو سادہ اورآسان رکھا گیا ہے اور اس میں تکلفات اور لوازمات کو ناپسند قرار دیا گیاہے۔ نکاح میں نکاح کا قیام مسجد میں کرنا،مہر کی ادائیگی اور رخصتی کے بعد ولیمہ کرنایہ چیزیں شریعت سے ثابت ہیں، اس کے علاوہ جو رسومات اور تکلفات ہمارے ہاں اختیار کیے جاتے ہیں، ان سے نکاح کی سنت مشکل ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے خاندانوں میں میں شادیاں انہیں رسومات کے پورا نہ کر سکنے کی وجہ سے اس قدر متاخر ہو جاتی ہیں’ جس کی وجہ سے ہزاروں بیٹیاں بن بیاہی گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں اورکتنی مسلم لڑکیاں مرتد ہوچکی ہیں۔

ایسے پر آشوب اورپرفتن ماحول میں ”آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے نکاح کو آسان اورمسنون بنانے کی مہم قابل تحسین اور وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ الحمدللہ اس مہم کے ذریعے لوگوں میں بیداری آرہی ہےاورہرمسلک ومشرب کےلوگ پورےملک سے آسان اور مسنون نکاح کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔

آج امت مسلمہ کا مایو،مہندی، ابٹن،شادی ہال،شادی کارڈ،جوڑےگھوڑے،اورجہیز جیسے رسوم رواج میں کس قدر بےدریغ مال خرچ ہو رہا ہے کہ الامان و الحفیظ جبکہ قرآن کریم میں اسراف وتبذیر اور فضول خرچی کی صراحتاً ممانعت آئی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”ولا تبذر تبذیرا ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین وکان ا لشیطین لربہ کفورا“ (بنی اسرائیل: آیت 26 27)

اور (اپنے مال کو بے موقع) مت اڑاؤ یقینا بے جا اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔

اسی بنا پر پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ”ان اعظم النکاح برکۃ ایسرہ مؤنۃ“ (مشکوٰۃ ٢/٢٦٨)

یعنی سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم مشقت (کم خرچہ اور تکلف نہ) ہو ۔

جب شریعت کا حکم اسراف و تبذیر سے بچنے کا اور نکاح کو آسان بنانے کا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارےہاں نکاح کی تقریبات میں کھل کر فضول خرچیاں ہوتی ہیں اور احکام شریعت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، ایسے میں پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کی خوشی اور رضا کیسے نصیب ہو سکتی ہے؟

اور جس تقریب سے اللہ اور رسول راضی نہ ہوں، تو اگر اس سے پوری دنیا بھی خوش ہو جائے، اس تقریب میں برکت کبھی نہیں آسکتی، اس کے بر عکس جس تقریب سے اللہ اور اس کے پیغمبر خوش ہوں تو وہی تقریب بابرکت اور باعث سکون و اطمینان ہوگی اگرچہ پوری دنیا ناراض ہو جائے۔

Comments are closed.