امید اور بھروسہ صرف اللہ تعالی پر رکھو
تحریر:
"محمد حذیفہ معاویہ تونسوی”
آج سے چودہ سو سال پہلے عرب کی سنگلاخ اور تپتی ہوئی سرزمین "مکہ مکرمہ”میں آفتاب نبوت نمودار ہوا۔ یہ وہ آفتاب نبوت تھا جس کی بے انتہا روشنی سے مشرق و مغرب ظلمت اور اندھیرے سے نکل کر رشدو ھدایت کے نور سے منور ہونے والے تھے۔ جن کی ولادت پر قیصر و کسری کے محلات میں زلزلہ برباہ ہو گیا، ان کی عزت اور بلندی کی علامت سمجھےجانےوالےمحلات لرز کر گرنےلگے۔ وہ آتش کدہ ایران جس کی آگ صدیوں سی مسلسل روشن تھی ایک ہی لمحے میں بجھ کر فنا ہوگی۔
یہ آفتاب بنوت حضرت آمنہ کا لخت جگر،حضرت عبدالمطلب کا یتم پوتا، ” محمد رسول اللہ” (صلی اللہ علیہ وسلم)تھا۔ ظاہری اسباب کے درجے میں کوئی وسائل ایسے نہ تھا جنہیں دیکھ کر کہا جا سکتا کہ یہ یتم بچہ اپنی نبوت سے تمام ادیان اور مذاہب کو منسوخ کرنے والا ہے۔ ولات سے بھی چندہ ماہ قبل شفیق باپ کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا۔ ابھی ولات کو چند برس ہی گزرے تھے کہ ماں نے بھی داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے سفر آخری کا آغاز کر دیا۔ پھر وہ آمنہ کا لال اپنے داد "عبدالمطلب” کی پرورش میں رہنے لگا لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا،ان کا یہ سہارا بھی چھوٹ گیا اور وہ اپنے چچا ابو طالب کی آغوش میں رہنے لگے۔
پھر زمانے نے دیکھا ایک وقت ایسا بھی تھا جب آمنہ کے لال، یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین پوری میں پھیل گیا، تمام ادیان باطلہ اور مذاہب مغلوب ہو کر رہ گئے۔
اب حالات یہ کہتے ہیں کہ بچہ یتم ہو جائے تو بگڑ جاتا ہے، کچھ پڑھ نہیں سکتا،بےسمجھ اور بےوقوف سا رہتا ہے۔ ساری زندگی در بہ در کی ٹھوکریں کھانےمیں گزار دیتا ہے۔ اسی طرح اگر ماں کے سائے سے بھی محروم ہوتو بے یار و مددگار رہ جاتا ہے، تربیت اچھی نہیں ہوتی۔۔۔۔ لیکن اللہ رب العزت نے بتلادیا جس کا سہارا خود خدا ہو اس کو پوری دنیا مل کر بھی بے سہارا نہیں کر سکتی۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی سے ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ اگر دنیا اور آخر میں کامیابی چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔مقام ،مرتبہ اور عزت کے خواہش مند ہو، دین اسلام کی سربلندی کے لیےکام کرنا چاہتے ہو تو دنیا اور دنیا والوں سے تمام تر امیدیں ختم کر دو ، تمام ظاہری سہاروں سے بے نیاز ہو کر مکمل طور پر خالق حقیقی کی طرف متوجہ جاءو۔ یقینا زندگی کا سکون و راحت تو میسر ہو گی ہی سہی، پر آخری میں خالق کائنات کی نعمتیں بھی تمہاری منتظر ہوں گی۔
یہ بات حقیت کہ ظاہری امیدیں اور لوگوں کے سہارے پر جینا انسان کی زندگی کو پریشانیوں کے سمندر میں دھکیل دیتا ہے۔ راحتیں، بے چینی اور بےقراری سے بدل جاتی ہیں۔ انسان کے ہاتھ غم اور اداسی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ایک حدیث مبارکہ مفہوم یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے اللہ تعالی اس سے محبت کرتے ہیں اور جو دنیا والوں اور ان کی چیزوں( یعنی مال و دولت اور جائداد) سے بے نیاز ہو جاتا ہے دنیا والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں”۔
اس لیے وہ لوگ جو دنیا اور دنیا والوں سے بے رغبت ہو کر اللہ تعالی کے بھروسے پر زندگی گزارتے ہیں ہمیشہ کامیاب و کامران ہوتے ہیں۔
ایک واقعہ نظر سے گزرا کہ:
"ایک بادشاہ کسی سفر سے واپسی آ رہا تھا،سخت سردی کا موسم تھا، یخ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جسم میں لرزاں طاری کر رہے تھے۔ بادشاہ کی حالت بھی دوسروں سے مختلف نہ تھی۔ وہ جلد از جلد اپنے محل میں پہنچ جانا چاہتا تھا۔ بالآخر اس کا محل قریب آ گیا۔ اپنے محل میں داخل ہوتے ہوئے اس کی نظر ایک کمزور سے چوکیدار پر پڑی جو عام سے لباس میں ملبوس سردی سے کانپ رہا تھا۔ شاہی لباس کے باوجود سردی بادشاہ کی برداشت سے باہر تھی،اب ایک شخص کا عام سے لباس میں یخ ہوا کے مقابل کھڑے ہو کر پہرہ داری دینا کتنا مشکل کام ہے؟ بادشاہ کو اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا۔ بادشاہ اس چوکیدار کی طرف متوجہ ہو اور کہنے لگاکہ:
” میں ابھی اندر جاکر آپ کے لیے گرم،نرم لباس کا انتظام کرتا ہوں؛ تاکہ تم بھی اس بے رحم سردی میں کچھ راحت حاصل کر سکو”۔
یہ کہ کر بادشاہ اپنے محل میں داخل گیا جبکہ چوکیدار لحاف اور لباس کی انتظار میں بے چینی کے عالم میں ٹہلنے لگا۔
بادشاہ جونہی اپنے محل میں داخل ہوا حرات کی پرسکون لہریں اس کی بدن میں داخل ہوتی چلی گئی، وہ بھول گیا کہ اس نے کوئی کام بھی کرنا ہے۔ اگلے لمحے وہ اپنے نرم اور گرم بستر پر نیند کی "سیاہ وادی” میں پہنچ چکا تھا۔ اگلی صبح بادشاہ کی آنکھ کھلی تو اسے یاد آیا کہ چوکیدار کے لیے لباس کا انتظام کرنا تو بھول ہی گیا تھا۔ وہ اٹھا اور بھاگتا ہوا محل کے داخلی دروازے کی طرف لپکا، اگلا لمحہ اس کے لیے حیران کن تھا وہاں مردہ چوکیدار کی لاش پڑھی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ کا مڑا تڑا سا ٹکڑا تھا۔ بادشاہ نے آگے بڑھ کر جلدی سے اسے اٹھایا اور پھر پڑھنا شروع کر دیا۔
اس کی عبارت کچھ یوں تھی:
* "بادشاہ سلامت میں دس سال سے یہاں چوکیدار ہوں، کئی عرصے سے اسی لباس کے ساتھ اسی بے انتہا سردی میں گزارا کررہا ہوں، لیکن اس کے باوجود یخ سردی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکی، مگر آج آپ سے لگائی ہوئی ایک امید نے مجھے مار ڈالا ہے” *
امید،کسی سے بڑی چیزیوں کے حصول کی تمنا کا نام نہیں، یہ بھی ایک امید ہےکہ
آپ کسی کے ساتھ اچھا معاملہ کریں اور یہ سوچیں کہ یہ میرے ساتھ بھی اب اچھا معاملہ کرے گا۔
کسی کو خوش کرنا اور بدلے میں اس سے خوشی کی تمنا رکھا،کسی کی مدد کرنا اور مدد کی تمنا کا دل میں پیدا ہونا، کسی کی عزت کرنا پھر بدلے میں یہ سوچنا کہ اب یہ میری بھی عزت کرے گا ۔۔۔۔۔یہ تمام تر امیدیں ہیں جو انسان کی زندگی کو پریشانیوں کا مرکز بنا دیتی ہیں۔ انسان سے خود اعتمادی اور بے نیازی کو چھین کر کامیابی کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دیتی ہیں۔
کسی "دانش ور” نےکیا خوب کہا تھا کہ:
"اے دوست اگر جینا ہے تو اپنے سہارے پر جینا سیکھو، دوسروں کے سہارے پر تو جنازے اٹھا کرتے ہیں۔ "
Comments are closed.