اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل

 

(نائب امیرشریعت حضرت اقدس مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب قاسمی دامت برکاتہم:

حیات وخدمات اور افکار ونقوش کی چند جھلکیاں )

 

از قلم: *عبدالمنان قاسمی (8791934168)*

 

مخدوم مکرم، استاذ محترم، علوم وفنون کے بحر بے کراں کے غوطہ زن وغواص، بین الاقوامی شہرت یافتہ عالم دین، نباض وقت، ادیب دوراں، مفسر باکمال حضرت اقدس مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ (استاذ حدیث وتفسیر دارالعلوم وقف دیوبند) کو ’’نائب امیر شریعت‘‘ جیسے عظیم منصب کی تفویض پر نہاخانۂ دل سے تہنیت وتبریک کی سوغات اور نیک خواہشات کا ہدیہ پیش ہے۔

اس مبارک ومسعود موقع کی مناسبت سے نہایت موزوں اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت والا کی حیات وخدمات اور افکار ونقوش کی چند جھلکیاں پیش کردی جائیں، تاکہ یہ معلوم ہوکہ جس ہیرے وجوہر نایاب کا اس عظیم منصب کے لیے انتخاب عمل میں آیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے اور اپنی ذات میں ایک انجمن ہے۔

میدان علم وفن کے عظیم شہسوار، صلاح وتقوی کے آفتاب اور تقریر وخطابت کے ماہتاب، مفسر قرآن حضرت الاستاذ حضرت اقدس مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت؛ عہدآفریں، مردم ساز، دل آویز اور عبقری ہے، جن کے کمالات وامتیازات، خصوصیات وممیزات، اوصاف وخصائص، سیرت وشمائل اور خوبیوں کو قلمی تحدیدات میں محدود کرنا اور قیدِ تحریر میں مقید کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے اور اسلامی علوم وفنون میں کامل دسترس کے ساتھ ساتھ ، ایمانِ کامل سے پرنور سراپا خشوع وخضوع والا قلب سلیم بخشا گیا ہے۔ افکار ونظریات میں تصلب وپختگی کے اعتبار سے اکابر علمائے دیوبند نگینہ ہیں۔ آپ کی شخصیت علمِ کتاب وسنت میں بے مثال، زندگی کے ہر جز وکل میں متبعِ سنت، علم وقیع میں مرادِ حق شناس، تصنیف وتالیف میں اطمینان آفریں نکتہ سنج، دست وقلم کو حرکت دیں، تو موتی بکھیریں، زبان وبیان کی محفل آرائی ہو، تو میرِ کارواں، داستانِ مہر ووفا چھڑ جائے، تو لالہ وگل اور بادِ نسیم کی صرصراہٹ محسوس ہو، درس وتدریس کی مسند آرائی ہو، تو علمی سوتے پھوٹنے لگیں؛ کیوںکہ آپ کی شخصیت کے تصور ہی سے علم وعمل، فضل وکمال، حکمت ومعرفت، فہم وفراست، استقامت واولو العزمی، لطافت ونفاست، طہارت وپاکیزگی، جود وسخا، کرم وعطا، خُرد نوازی وخُرد پروری، فنائیت وخود داری اورجسم وجاں کا ایک گلشن ِصد رنگ، قلب وروح کی ایک نفیس و لطیف اور حسین ودل ربا فردوس بریں، ہزاروں دلوں کی طمانیت اور بے چین روحوں کی تسکین وتازگی کا سامان لیے ہوئے، معصومیت کے پیکر میں جلوہ گر ایک دیدہ زیب اور جاذب نظر تصویر ابھر آتی ہے۔ آپ کی شخصیت بیان وخطابت کے شیشے میں شراب طہور، الفاظ کو خاتم کلام پر نگینہ بنا کر جڑ دینے کی ہنر مند، اور قوس قزاحی ومرنجاں مرنج مزاج ومذاق کی حامل ہے۔ حضرت والا کی شخصیت ایک شفاف ابلتے ہوئے چشمے کی مانند ہے، جس سے کتنی شفاف نہریںنکل کر سینکڑوں کشت زاروں اور چمنستانوں کی سرسبزی وشادابی اور شبابی ورعنائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔

حضرت رحمانی صاحب کے برادر اصغر اور راقم الحروف کے رفیق محترم مفتی عبدالماجد رحمانی قاسمی صاحب اپنی کتاب ’’حیات عیسیؒ‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ: ’’جناب مولانا محمدشمشا ررحمانی صاحب ملک کے معروف ومرکزی ادارہ دارالعلوم وقف دیوبند میں استاذ تفسیر وحدیث ہیں اور امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے نائب امیرشریعت بھی۔ آپ بلند پایہ اور باکمال خطیب اور صاحب طرز ادیب ہونے کے ساتھ فن تدریس کے نامورشہسوار بھی ہیں۔ آپ کی ولادت ۲؍ فروری ۱۹۸۳ ء میں ہوئی، نوعمری میں ہی مدرسہ فیض العلوم رحمانی سے تعلیم کا آغاز کیا، شیخ الاسلام حضرت مولاناحسین احمد مدنی ؒ کے تلمیذ رشید جناب مولانا قاری ظہیر احمد قاسمی صاحب ؒ نے قرآن مجید کا آغاز کروایا ،ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم جناب مولانا اشفاق صاحب مظاہری سے حاصل کی، پھر حافظ انعام الحق و حافظ محرم علی زید مجدہم سے پڑھتے ہوے ۱۹۹۱ء میں حفظ قرآن کریم کی تکمیل ہوئی، بعد ازاں۱۹۹۲ء دارالعلوم بہادر گنج کا رخ کیا اور اسی ادارے میں ایک سال جناب حافظ محمد افتخار صاحب کی نگرانی میں قرآ ن کے کئی دور کرنے کے بعد درجہ فارسی ، عربی اول اور عربی دوم تک کی تعلیم حاصل کی۔

۱۹۹۶ء میں مزید تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہوے علاقے کی قدیم ومعروف درسگاہ جامعہ رحمانی مونگیر تشریف لائے اور دورہ ٔ حدیث تک کی تعلیم یہاں سے حاصل کی اور عربی چہارم کے سال پٹنہ میں منعقد ہونے والے ’’آل انڈیا مسابقۃ القرآن الکریم‘‘میں حصہ لیا اور اول پوزیشن سے کامیاب ہوئے، سن ۲۰۰۰ء میں جامعہ رحمانی سے فراغت کے بعد مرکز علوم اسلامیہ دیوبند کی جانب عازم سفر ہوے اور ۲۰۰۱ء میں دارالعلوم وقف دیوبند میں دورۂ حدیث شریف میں داخل ہوکر نسبت قاسمیت اور اکابر علمائے دیوبند کے فیضان علوم ومعرفت سے کسب فیض کیا، ۲۰۰۲ء میں قسم الادب العربی سے تکمیل ادب عربی کرکے عربی زبان و ادب میں مہارت اور ملکہ حاصل کیا۔

حق تعالیٰ نے ذہانت وفطانت کے ساتھ زیرکی ودانائی اور حصول مقاصد میں جدوجہد کا جذبہ بھی بھر پور عطا کیا ہے ، جس کے نمایاں اثرات زمانہ طالب علمی سے ظاہر و باہر ہیں، تعلیمی سلسلہ کے آغاز سے رسمی انتہا تک ہمیشہ اپنے ہم جماعت وہم عصروں میں فائق اور ممتا ز رہے، اپنے آپ کو مختلف خوبیوں اور صلاحیتوں سے آراستہ کیا، قوت گویائی اور زبان و بیان میں درک کے ساتھ اسلامی علوم و فنون میں مہارت تامہ حاصل کی اور ۲۰۰۳ء میں مرکزی ادارہ دارالعلوم وقف دیوبند میں بحیثیت معین المدرسین منتحب ہوئے، دو سال شاندارو قابل قدر تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد ۲۰۰۵ء میں استقلال ہوگیااور جب سے دارالعلوم وقف دیوبند کا مسند درس و تدریس آپ کی عظمتوں ، خوبیوں، صلاحیتوں اور کمالات کا شاہد اور مظہر ہے، اس دوران ملک وبیرون ملک کے متعدد دورے اور تبلیغی اسفار کئے اور ایک عالم آپ کی خطابت، قادرالکلامی اور سحراللسانی کا معترف ہے۔

قلمی میدان میں بھی آپ نے متعدد قابل قدر تصنیفی خدمات انجام دیکر معتبر ومستند قلمکاروں کی فہرست میں ایک نام کا اضافہ کیا ہے اور اپنی تحریری صلاحیتوں کے ذریعہ کئی اہم علمی ضرورتوں کی تکمیل کی ہے، آپ کی تحریر کردہ کتابیں حسب ذیل ہیں۔

(۱) کیف تدیر الحفلۃ با للغۃ العربیۃ

(۲) الخطب القاسمیۃ با للغۃ العربیۃ

(۳) علم تفسیر تاریخ و تعارف

(۴) اسماء القرآن

(۵) فضائل درود و دعاء

(۶) الامام محمد قاسم النانوتوی ؒ : حیات وتحریکات (محاضرہ)

(۷)الامام محمد قاسم النانوتوی ؒ کی علمی خدمات (محاضرہ)

(۸)الامام محمد قاسم النانوتوی ؒکے تجدیدی کارنامے (محاضرہ)

حضرت والا کی خدمات کا دائرہ نہایت ہی و سیع تر اور برگ وبار لیے ہوئے ہے۔ آپ جہاں مسند درس وتدریس کے بے تاج بادشاہ ہیں، وہیں میدان خطابت کے شہنشاہ اور چمکتا ہوا ستارہ بھی ہیں اور میدان تصنیف وتالیف کے بے تاج بادشاہ بھی ہیں۔ جہاں آپ کی ملی خدمات کے دائرۂ کار کی اثرآفرینی جگ آشکارا ہے، وہیں آپ کی تقریر وخطابت اور اشاعتِ دین کی خدمات کا دامن نہایت وسیع ترین ہے؛ حتی کہ ملک کے چپے چپے سے نکلتا ہوا بیرون ممالک تک کو شامل ہے۔ اس بین الاقوامی قبولیت ومقبولیت اور محبوبیت ومرغوبیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بلا خوفِ تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آپ کی شخصیت عالمی، آفاقی اور بین الاقوامی ہے؛ کیوںکہ آپ کے علوم وفنون، کمالات وامتیازات اس نوعیت کی ہیں کہ آپ کو اپنے معاصرین میں ممتاز ومنفرد کرتی ہیں۔

آپ کی انھیں امتیازات وتفوقات اور کمالات وخصائل کو دیکھتے ہوے نباض وقت، مفکر اسلام حضرت مولانا سیدولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ( امیرشریعت: امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ، سجادہ نشیں خانقاہ مونگیر وجنرل سیکریٹری مسلم پرسنل لابورڈ) نے ’’نائب امیرشریعت‘‘ جیسے عہدۂ جلیلہ پر آپ کو فائز کرکے آپ کی خدمات کا جہاں اعتراف کیا ہے، وہیں آپ کی خدمات وکارناموں کو سراہا بھی ہے۔ اور یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ انتخاب ’’حسنِ انتخاب‘‘ کا عنوان ہے۔ حضرت امیرشریعت دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی دور بینی اور جوہر شناسی سے ایک نوجوان عالم دین کو ان کی صلاحیت وصالحیت کی بنا پر اس عظیم عہدہ پر فائز کرکے یہ اعتراض بھی ختم کردیا ہے کہ ہمارے اکابر علمائے عظام نوجوان علما کو آگے نہیں بڑھاتے۔ چوںکہ حضرت مولانا شمشادرحمانی صاحب دامت برکاتہم کئی سالوں سے امات شرعیہ کے معزز رکن اور مجلس عاملہ کے رکن رکین ہیں، امارت شرعیہ کے جملہ خدمات وکارناموں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنی رائے سے کئی اہم پہلوئوں کو بھی اجاگر کرتے رہے ہیں؛ اس لیے بھی آپ اس عہدہ کے لیے نہایت موزوں ومناسب اور لائق وفائق تھے۔

اخیر میںایک بار پھر راقم السطور حضرت مخدومی ومکرمی کی خدمت اقدس میں ہدیۂ تہنیت وتبریک پیش کرتا ہے اور دعاگو ہے کہ اللہ تعالی حضرت والا کا حامی وناصر ہو، آپ کی خدمات کو مزید چارچاند لگائے، دائرۂ کار کو وسیع سے وسیع تر فرمائے، امارت شرعیہ جیسے عظیم ادارہ کی شایان شان قدردانی اور اس کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اسباب وعوامل کی فراوانی کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ سے بدعات وخرافات اور ناخواندگی کی اندھیری کو مٹانے کے لیے آپ کو قبول فرمائے۔ صحت وتندرستی کے ساتھ عمرخضر نصیب فرمائے اور نظربد سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین!

Comments are closed.