اور پھر وہ زمانہ شیروانی کا۔

 

 

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

جب قومیں عروج پر ہوتی ہیں تو ان کی نقل و حرکت بھی اسوہ کہلاتی ہیں، لوگوں میں ان کا ہی فیشن رائج ہوتا ہے، انہیں تقلید کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، آج یورپ کی تقلید کی جاتی ہے، انہوں نے ٹکنالوجی اور جدید سائنس میں انسانیت کی رہنمائی کی ہے، چنانچہ اب وہ امام و پیشوا بن گئے ہیں، پوری دنیا عموماً اور خصوصاً برصغیر ایشیا یا یوں کہیں کہ جو ملک استعماریت کے دور سے گزرا ہو وہ ان کی اتباع کو اپنا فخر جانتے ہیں، ان کے ایک ایک قدم پر قدم رکھنا واجبی سمجھتے ہیں، خواہ اس کے لئے گھر، خاندان، معاشرہ تباہ ہی کیوں نہ ہوجائے، کسی زمانے میں مسلمانوں کی ایک پہچان تھی، حکومت و سلطنت ان کے گھر کی لونڈی اور طاقت و قوت ان کی جاگیر تھی، وہ جہاں جاتے لوگ انہیں عالی مقام اور تقلید کی نگاہ سے دیکھتے تھے، ان کے ہر ایک فرد کی ایک شان ہوتی تھی، مسلمانوں کے الگ الگ خطے بھی اپنی اپنی تہذیب و طور کے لئے متعارف تھے؛ بالخصوص ان کے رہنما، قائدین، علم و عمل کے پیکر اور اصلاح و خیر کے داعی علما تو ان کی ہر ادا لوگوں کو بھاتی تھی، ان کے لباس، پہناؤ، کھان پان سے لیکر چلنے پھرنے تک ہر ایک کردار بطور مثال پیش کیا جاتا تھا، ان کی ٹوپی، جبے اور دستار عزت و وقار اور علم کی نشانی سمجھے جاتے تھے، لوگوں میں ان کی چرچا ہوتی تھی، شاید آپ کو یاد ہو کہ ہندوستان میں بھی برطانوی سامراج کے دور میں علما کی قدر ومنزلت یہ تھی کہ انہیں اعزاز کے نئے نئے تمغے انہیں کے ناموں پر دیے جاتے تھے، لوگ مسٹر اور جسٹس کہلانے کے بجائے مولوی اور قاضی کہلانا پسند کرتے تھے، پروفیسر اور اٹلیکچول کے بجائے علامہ اور مولانا کہلانا اعزاز جانتے تھے، عجب بات تو یہ ہے کہ ان کے پہناوے پر بھی رشک کی نگاہ رہتی تھی، اور جدید دور کے مسٹر بھی ان کی طرح بننا، دِکھنا اور انہیں فیشن سمجھ کر پیروی کرنا چاہتے تھے، انہیں میں ان کا ایک خاص لباس شیروانی بھی ہوا کرتا تھا، گلے سے لیکر گھٹنے، پوری آستین اور جسم پر چست (اتنی بھی نہیں کہ چستی تنگی بن جائے) اور خاص انداز کا ایک لباس جو علی گڑھ کا امتیاز اور ندویوں کے لئے بھی ایک نشان سمجھا گیا، یادش بخیر سیدی مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے اپنے متعلق کاروان زندگی کے اندر ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے؛ کہ ابتدائی دور میں آپ ایک دفعہ حیدرآباد گئے تھے، جب وہ اپنے آپ میں ایک ریاست تھی، غالباً ندوہ ہی کے کسی کام سے تشریف لے گئے تھے، اولاً جب محفل میں گئے تو بے توجہی کے شکار رہے، شاید اس لئے کہ آپ جسمانی اعتبار سے ”بسطۃً“ نہ تھے، اور اس لئے بھی کہ وہاں شیروانی مہمان خصوصی کا لازمہ تھی، ویسے بھی حیدرآباد شیروانی کےلئے جانا تھا، دوسرے دن آپ نے اپنے ایک شاگرد سے شیروانی ادھار لی اور پھر محفل تشریف لے گئے، ندوہ میں مخدوم و مکرم مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی (مہتمم صاحب دامت برکاتہم) اکثر درجہ میں کہا کرتے تھے کہ میرا تو دل کرتا ہے کہ تمام طلبہ درجہ میں شیروانی پہن کر آئیں۔

بہرحال مگر اب تو ”باہر شیروانی اندر پریشانی“ جیسی کہاوتیں ہیں، جو ہماری قدیم تہذیب کو داغدار کرنا چاہتی ہیں، ویسے بھی ملک میں مسلمانوں سے متعارف ہر شئی پر یا تو ڈاکہ مارا جارہا ہے یا پھر اسے گردآلود کیا جارہا ہے، ایک طوفان بپا ہے جس میں ہر چیز اڑی جاتی ہے، ان کا ایک ایک امتیاز نفرتوں کی بھینٹ چڑھتا جارہا ہے، شکر ہے کہ علی گڑھ اور کچھ حد تک ندویوں نے شیروانی کی لاج رکھی ہوئی ہے، علمی محفلوں اور سیمیناروں میں خصوصاً ندوی اور علیگ کے پروگراموں میں شیروانی کا جلوہ دیکھتے ہی بنتا ہے، اللہ انہیں سلامت رکھے۔ جناب کلیم عاجز صاحب نے اپنی کتابوں میں شیروانی کا اور شیروانی پہننے والوں کا خوب تذکرہ کیا ہے، جس میں ادبیت کا چٹخارہ اور قدیم تہذیب کا بہترین عکس ہے، خاص طور سے ماسٹر نظام الدین بلخی، شیر بنگال مسٹر ابوالقاسم فضل الحق، شوکت علی، محمد علی اور نواب صدر یار جنگ حبیب الرحمن خاں وغیرھم رحمہم اللہ کے شیروانی پہننے کا ذکر ادبی نوک و پلک میں کیا ہے، ایک اقتباس ملاحظہ ہو "___ پلیٹ فارم پر شیروانیوں میں اتنے لوگ تھے کہ اب عیدین کی نمازوں میں بھی نظر نہیں آتے۔ شیروانی ایک مخصوص تہذیب کی علامت اور معیار شرافت تھی۔ امیروں کو چھوڑیے۔ کالر پھٹا ہوا ہے، آستین نکلی ہوئی ہے، بٹن ٹوٹا ہوا ہے۔ دامن سکڑا ہوا ہے مگر شیروانی ہے۔ شیروانی کے بغیر اچھائی کا تصور کہاں؟ آپ کو شاید حیرت ہو۔۔۔۔۔ ” جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی” میں عید صبح تلہاڑہ کی عید گاہ کے دروازے کے سامنے پانکڑ کی جڑ پر بیٹھے ہوئے علی الصباح تہدو میاں کی شہنائی کا ذکر پڑھا ہوگا۔ میاں جی کے میاں جی، بجنیا کے بنجیا تھے۔۔۔۔ وہ پیشے کے اعتبار سے اس سے بھی نیچے تھے۔ ان کا خاندان پیشے کے اعتبار سے مہتر تھا، جس کا کام پاخانہ صاف کرنا ہے____ اور میں نے ایک دن حکیم سید شاہ بشیرالدین صاحب کو جب وہ میرے یہان آئے ہوئے تھے تہدو میاں سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ- ” تہدو میاں آپ حلال خور ہیں۔ بہت سے نام کے شریف حرام خوروں کے درمیان شرف امتیاز ہیں-” وہ بھی عید کے دن شیروانی پہنا کرتے تھے اور شہنائی بجایا کرتے تھے۔ ہائے رے وقت تجھے کیا ہوا؟ ابھی تو سامنے تھا۔ یکایک تجھے آسمان کھا گیا۔ زمین نگل گئی۔ ایسا لگتا یے کہ تو تھا ہی نہیں؛ حالانکہ تو تھا اور جس کے سامنے کہہ میں گواہی دینے کو تیار ہوں کہ بہت دن نہیں گذرے کہ تو شیروانی اور ٹوپی کے ساتھ موجود تھا”- ( ابھی سن لو مجھ سے! ۳۳)

Comments are closed.