مجھے تکلیف ہوتی ہے میں کیا کہوں ؟
مفتی محمد ابوذر قاسمی صدر جمعیۃعلماء مدھوبنی
امارت شرعیہ سے محبت اسکی عظمت تھی اور ہے انشاء اللہ آ گے بھی رہے گی کچھ حضرات اپنی بات کہنے میں جب حد سے تجاوز کرگئے تو بہت تکلیف ہوئی
اسوقت پورے ملک میں ملت اسلامیہ کی آواز اٹھا نے والے محدود چند حضرات رہ گئے ہیں اگر یہ بھی محفوظ نہیں رہے تو ہم کو پوچھے گا کون؟
اگر ہم میں بہت قابلیت ہے تو ہم بھی حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف آ واز اٹھائیں، اچھی بات ہوگی ملت کے حق میں ہوگی لیکن صرف تنقید برائے تنقیص کو اپنا مشن بنالین تو اس سے کس کو نفع ہوگا ؟ ملت کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ مزید ہماری کمزوریاں دشمنان اسلام کی نگاہوں میں آجائیں گی کیا ہم نے یہ سونچ رکھا ہے کہ ہم دوسرے کو اچھال کر سرخرو ہو جائیں گے یہ سونچ ہماری بالکل غلط ہے انسان کی زبان اسکی تحریر ظاہر کردیتی ہے کہ اسکی صلاحیت کیا ہے ؟ کس انسان میں کمزوریاں نہیں ہیں کون کہ سکتاہے کہ میں بے عیب ہوں بے عیب تو صرف اللہ کی ذات ہے لیکن ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ؟دوسروں کی کمزوریوں کا پرچار کرنا اور شریعت کی تعلیمات کو بالائے طاق رکھ دینا ؟اختلاف رائے ہر دور میں ہواہے اور اسکو روکا نہیں جاسکتا لیکن ارادہ نیک ہو اور خیر خواہی کا جذبہ ہو تو اپنی بات اچھے انداز میں رکھنا برا نہیں ہے امارت شرعیہ کی عظمت کو باقی رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے امیر شریعت ہم سب کے امیر ہیں انکا فیصلہ جو شریعت کے مطابق ہو اسے قبول کرنا ہی اطاعت پے اگر کسی فیصلہ سے ہمارا اتفاق نہیں ہے تو شوشل میڈیا پربے قابو ہوجانا ہمارے مقام اوررتبے کے خلاف ہے اللہ ہمیں معاف فرمائیں ہماری تنظیمیں پہلے ہی کمزور ہوچکی ہیں مزید کمزور کرنے کا ذریعہ ہم نہ بنیں براہ راست ہم اپنی رائے سے قائدین کو آگاہ کریں ہم اپنی حد تک ذمہ داری ادا کر نے کے مکلف ہیں اس سے آ گےکی پوچھ ہم سے نہیں ہوگی
ہماری ہر حرکت سے اللہ تعالیٰ باخبر ہیں امید ہے ہماری گزارشات کو کسی قدر جگہ دی جاۓ گی،
اللہ رب العزت ہمارا ناصر و مددگار ہوگا
Comments are closed.