"اپریل فول”
آمنہ جبیں ( بہاولنگر)
ہر سال یکم اپریل کو ایک اپریل فول کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ اپریل تو مہینے کا نام لیکن فول مطلب "بیوقوف بنانا” یعنی اس دن لوگوں کو بیوقوف بنا کر مختلف جھوٹی خبریں سنا کر حیرانگی میں ڈالا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کے آغاز کی مختلف لوگوں نے مختلف رائے دی ہے۔ کچھ کا کہنا ہے فرانس میں سترہویں صدی سے پہلے، سال کا آغاز جنوری کی بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا۔ اس مہینے کو رومی اپنی دیوی ( وینس) کی طرف منسوب کر کے اسے مقدس سمجھا کرتے تھے۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ اکیس مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوتی ہیں۔ان تبدیلوں کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا کہ معاذ اللہ قدرت ہمارے ساتھ مذاق کر کے ہمیں بیوقوف بنا رہی ہے۔لہذا لوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کو بیوقوف بنانا شروع کیا۔ بعض مورخین کہتے ہیں۔ کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تمسخر اور استہزا کا نشانہ بنایا گیا۔ موجودہ نام نہاد انجیلوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اسلامی نقظہ نظر سے رسم جھوٹ بولنا ہے
ابتدا جو بھی ہو لیکن بات یہ ہے مسلمانوں میں اس دن کا کیا تصور ہے کوئی بھی نہیں۔اسلام میں کہیں بھی اس دن کو منانے کا کہا گیا؟ بالکل بھی نہیں؛ اسلام میں جھوٹ حرام ہے۔ اور اپریل فول منا کر ہم تمام مسلمان جھوٹ کو سر عام ترویج دیتے ہیں۔ دوسروں کے رسم و رواج کو پروان چڑھاتے ہیں۔ لوگوں سے اس دن بہت بھیانک مذاق کیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ لوگ صدمے میں آ کرجان سے بھی چلے جاتے ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں کالج کی طالبہ تھی تو ہماری ایک فیلو نے اس دن ہمارے ٹیچر اور ہمارے ساتھ اپریل فول پہ ایک بھیانک مذاق کیا تھا۔ ملک کی نامور شخصیت کی موت کاجھوٹ بول کر میں اس شخصیت کانام نہیں لوں گی لیکن ہم سن کر ہواس باختہ ہو گئے۔ ہکے بکے رہ گئے۔ رنگ فق ہوگیا۔ جب ہم سب اندر تک جھلس گئے تو اسں نے فوراً سے کہاکہ میں کامیاب ہو گئی آپ کو پاگل بنانے میں آج اپریل فول تھا۔ دیکھیں جس چیز کاوجودہی نہیں ہم اسے منا رہے ہیں۔ دوسروں کو بیوقوف بنا کر اور اسلام کے منہ پر دھبا لگاکر خوش ہو رہے ہیں۔ کتنے بدبخت ہیں ہم کہ اپنے اسلام کی راہ میں خود روڑے اٹکا رہےہیں۔ دوسروں کے کندھے پہ تھپکی دے کر ان کے غلط اعمال اور رسم و رواج کا حصہ بن رہے ہیں۔
اسلام میں ہر جگہ جھوٹ بولنے اور دوسروں کو ایذا اور تکیلف پہنچانے والے عمل کی ممانت کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے
” اے ایمان والو!دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہےکہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو ایمان کے بعد فسق برا نام ہے۔اورجو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں”(الحجرات 11)
رسول اللہ صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
” مومن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں”( صحیح بخاری)
ارشاد باری تعالیٰ ہے
” بڑی خرابی ہے۔ ہر طعنے دینے والے، غیبت کرنے والے کی۔”(الھمزہ:1)
اس کے علاؤہ ایک اور جگہ رسول اللہ صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"جو اپنے بھائی کی عزت وآبرو کی حمایت کرے گا۔ اس کی غیبت کو رد کرے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جہنم سے دور رکھے گا۔( ترمذی)
لحاظ یہ بات بالکل واضح اور صاف ہے کہ اپریل فول جھوٹوں کا دن ہے۔ ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ہمیں خود کو اس کے شکنجے میں پھنسنے سے بچانا ہے۔ ہم نے کسی کو پریشان نہیں کرنا کسی کے پاؤں کے نیچے سے زمین نہیں نکالنی ہم نے کسی کو بھی بیوقوف نہیں بنانا ہے۔ یہ مسلمانیت اور اسلام کے منافی ہے۔ ہمیں سچ بولنا اور پروان چڑھانا ہے۔ لوگوں کو چھوٹے موٹے نہیں بڑے بڑے جھوٹ بول کر ان کا پرائز بانڈ نکلا ہے۔ ویزا لگا ہے۔ کسی پیارے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ماں یا باپ کی موت کا جھوٹ بولا جاتا ہے۔ یہ کیا ہے صرف اور صرف مزہ اور اپنے نفس کی تسکین ہے ۔ جو نقصان پریشانی سامنے والے کو اٹھانی پڑتی ہے وہ کدھر جائے گی۔اسکا خمیازہ کون بھگتے گا۔ کیا آپ کے نفس کی تسکین اس زخم ،دکھ اورتکیلف درد کو کم کر سکتی ہے۔ کبھی بھی نہیں؛ اس لیے دوسروں کی خواہشات اور روایت میں بند سوچ کو نکال کر باہر پھینکیں اپنی اقدار اپنے مذہب کو پہچانیں۔ جھوٹ کو پرموٹ کر کے دوسروں کی زندگی کو اجیرن مت کریں۔ مثبت چیزیں پھیلانے کو دنیا بھری پڑی ہے پھر ہم کیوں منفیت کو پسند بھی کرتے ہیں۔ پروان بھی چڑھاتے ہیں۔ کیونکہ ہم اپنی خوشی اور تفریح کے لیے کسی کو روندنا بھی پڑے تو روند دینا چاہتے ہیں۔ جبکہ یہ اپنے ہونے کی توہین ہے۔ اس لیے کوشش کریں ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں اپنی روایت سے تہذیب سے جڑے رہیں۔ دوسروں کی تقلید کرنے کی بجائے دوسروں کو اپنے پیچھے لگائیں۔ تاکہ اس اور اُس جہاں میں بھی آپ کامیاب ہو سکیں۔ اور اسلام کا جھنڈا بلند کر سکیں۔
Comments are closed.