کیا ہماری دینی شناخت کوئی اور سلب کررہا ہے؟

 

از ۔ مفتی محمد خالد نیموی قاسمی

کیا ہمیں ہماری دینی شناخت سے کوئی اور محروم کررہا ہے؟ ہماری ملی ودینی شعار کو کوئی اور سلب کررہا ہے؟ اگر ان سوالوں کے جواب پر سنجیدگی سے غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں جنھوں نے اپنی شناخت تحلیل کردی،، اپنی ہر پہچان کو مٹاتے چلے گئے… لیکن ہم سازش دوسروں کی تلاش کرتے رہے… ہمیں ہر عمل میں پتہ نہیں کیوں غیروں کی دسیسہ کاری اور دشمنوں کا مکر وفریب نظر آتا ہے !! لیکن بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ہر بدی کے پیچھے خود ہم ہوں گے، ہمارا نفس ہوگا، بدی کا دلدادہ ہمارا معاشرہ ہوگا..

ہم آپ اپنا گریبان چاک کرتے ہیں

ہمارا بس ہی تو سرکار پر نہیں چلتا

 

وحشت میں کیوں کسی کے گریباں کو دیکھتا

میرے لیے تو اپنا گریبان تھا بہت

 

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

 

خالص عبادات نماز روزہ حج زکوۃ، تلاوت قرآن ذکر واذکار کو چھوڑ دیں تو دین کے کسی اور شعبہ میں ہماری کوئی ملی شناخت نظر نہیں آتی ہے.

حسن اخلاق اور کردار کی بلندی ہماری سب سے بڑی قومی خوبی تھی. ہمارے رسول اخلاق کے سب سے بلند مقام پر فائز ہیں. انک لعلی خلق عظیم.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا.. ان من احاسنکم احاسنکم اخلاقاً…. کہ تم میں سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے بہتر ہوں… کسی زمانے میں ہمارے اخلاق و کردار کو دیکھ کر لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہوتے تھے، دنیا ہمارے اخلاق کی بلندی کی معترف تھی، لیکن بتدریج ہم اپنی اخلاقی بلندی سے پستی کی جانب گرتے چلے گئے… خالص پروفیشنل معاملات، تجارت صنعت وحرفت میں بھی ہم بد خلقی اور پھوہڑ پن کا مظاہرہ کرنے سے نہیں چوکتے… ہمارے پڑوس میں ہی ایک قوم وہ ہے جو اپنے گراہک کو خدا کا درجہ دے کر حدود کراس ❌ کرتی ہے اور افراط کا شکار ہے اور ہم اس قدر تفریط کے شکار ہیں کہ ہم میں سے بعض افراد اتنے بدخلق بن جاتے ہیں کہ گراہک کو انسان سمجھنے کو بھی تیار نہیں….. الا ماشاء اللہ

ہماری دوسری ملی خصوصیت ہماری سادگی پسندی اور بیجا نمود ونمائش سے دوری تھی، اپنی تمام تقریبات سادگی اور خوف خدا کے سایے میں انجام دیتے تھے؛ لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی ہماری نام نہاد شادی کی تقریب کو دیکھے؛ تو شاید ہی یہ اندازہ کرسکے کہ یہ خیر امت کے کسی فرد کی شادی ہے،، ڈی جے کے تال، میوزک کے جھنکار اور ڈھول و طبلہ کی تھاپ پر تھرکتے ہوئے، ناچتے ہوئے اور طوفان بد تمیزی برپا کر تے ہوئے اگر کوئی اس امت کے جوانوں کو دیکھے تو گواہی دے گا کہ یہ دیگر مشرک اقوام سے بھی دس قدم آگے بڑھ چکے ہیں.

وہ تو مجبوری ہے کہ نکاح کے وقت خاموشی سے خطبہ نکاح سننا پڑتا ہے؛ لیکن اس کا غصہ بھی قاضی نکاح پر فوری طور پر نکالا جاتا ہے اور ایسی آتش بازی بلکہ بمباری شروع ہوتی ہے کہ الاماں و الحفیظ.. قاضی صاحب بیچارے کسی طرح اپنی عزت آبرو کو بچاکر بمشکل نکل پاتے ہیں.. پتہ نہیں خطبہ نکاح کے وقت خاموشی کا بھرم کب تک باقی رہ پاتا ہے… کہیں سے نہیں لگتا کہ یہ اس قوم کے جیالے ہیں جنھیں سب سے جامع شریعت اور نظام معاشرت دیا گیا

ولیمہ ایک عبادت تھی، اس میں بسا اوقات اتنا اسراف اور فضول خرچی اور کھانے کا ضیاع ہونے لگا کہ شیطان بھی شرماجاءے… ہمیں کھانے پینے کی اجازت تھی لیکن اسراف وفضول خرچی کی نہیں… کلوا واشربوا ولاتسرفوا…..ڈاڑھی انبیاء اللہ ، صحابہ کرام اور سلف صالحین کی متفقق علیہ سنت اور فطرت سلیمہ کی شناخت ہے اس کو اس حد تک اپنی مرضی سے بلاکسی جبر کے اس طور پر ڈیمییج کیا گیا کہ غیروں کو بھی غلط فہمی ہونے لگی کہ شاید ڈارھی کی اسلام میں کوئی اہمیت نہیں ہے..

حیا وپاک دامنی ہمارا شعار تھا… ہمیں الحیاء شعبۃ من الایمان کا درس دیا گیا تھا… بے حیا باش ہرچہ خواہی کن پر ہم یقین رکھتے ہیں

لیکن ہمارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حیا کا جنازہ دھوم سے نکل رہا ہے

عدل اسلام کا شعار ہے ناانصافی کے خلاف اسلام نے ہمیشہ آواز بلند کی ہے.. اعدلوا ھو اقرب للتقوی.. لیکن ایسا ظالمانہ مزاج بن رہا ہے کہ بھائی کو اور پڑوسی کو بھی بخشنے کو تیار نہیں… بس ذرا پاور مل جائے تو طاقت کے نشہ میں ایسے مست ہوتے ہیں اور ظلم کی ایسی گرم بازاری ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ…

اس سلسلے میں اور بھی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں… حاصل یہ ہے کہ

تن ہمہ داغ داغ شد… پنبہ کجا کجا نہم

ہمیں یہ تسلیم ہے کہ ایسا ہرجگہ نہیں ہوتا اور سب نہیں کرتے.. اللہ کے نیک بندے ہر جگہ موجود ہیں اور ہر قیمت پر اپنی ملی شناخت کی حفاظت کے لیے پابند عہد ہیں لیکن ان کی تعداد بتدریج کم ہوتی چلی جا رہی ہے اور اکثریت ان کی ہوتی چلی جا رہی ہے ہے کہ وہ از خود اپنے ملی خصائص کو مٹانے پر تلے ہیں… آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی دینی شناخت، اسلامی شعائر اور ملی خصائص کی ہر حال میں حفاظت کریں گے اور اس کی تلقین وتبلیغ بھی کریں گے

اس پس منظر میں شادی کو آسان بنانے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے مرتب کردہ دس نکاتی اقرار نامہ ملی خصائص کے تحفظ کے لیے مضبوط پہل ہے… ہمیں اس تحریک کو گھر گھر تک پہچانے کی کوشش کرنے چاہیے… واللہ الموفق

#easynikah #muslimprsonallaw

Comments are closed.