خلیجی ممالک پر چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ –
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
خلیجی ممالک، جزیرۃ العرب قدرتی خزانہ ہے، دنیا کا cream ہے، اگرچہ اسلام سے قبل اسے لائق التفات نہیں سمجھا جاتا تھا؛ لیکن اسلام کے بعد ان علاقوں کو سونے سے زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی، حکومت و سطوت کی ندیاں، اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کے تمام تر وسائل کی بحالی اسی خطے سے ہوئی ہے، اگر کوئی صرف اور صرف مادیت ہی کا طلبگار ہو اور دنیا پر جدید دور، ٹکنالوجی کی سلطنت قائم کرنا چاہتا ہو تو بھی اسے وہیں سے توانائی حاصل کرنی پڑے گی، بالخصوص معدنی خزانے، پٹرول، ڈیژل، گیس، پلوٹونیم وغیرہ کی دستیابی نے اسے دنیا کا سب قیمتی کان بنا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے خلاف انہیں بغاوت پر ابھارا گیا، پھر دنیا کی سپر پاورز نے ان پر تسلط جمایا اور اب امریکہ اس کا قبلہ و کعبہ بنا ہوا ہے؛ لیکن ایک عرصے سے خود امریکہ کی گرتی معیشت، کرونا وائرس کا قہر اور سیاسی اتھل پتھل نے اسے کمزور و لاغر کردیا ہے، امریکہ اندرونی محاذ پر ناکام ہوتا جارہا ہے، اس کی بیرونی پالیسیوں پر ممالک کان نہیں دھرتے، جو ممالک کمزور ہیں انہیں اگرچہ دبا دیا جاتا ہے؛ لیکن اکثر و بیشتر ممالک اس کی ہیکڑی اور چودھراہٹ پر لگام کَسنے میں لگے ہوئے ہیں، دوسری طرف چین پیش قدمی کئے جارہا ہے، کرونا وائرس کے دوران بھی اس کی معیشت تباہ نہیں ہوئی؛ بلکہ اس نے نئے نئے محاذ کھولنے شروع کردیئے ہیں، سرحدی تنازعات، بندرگاہوں پر قبضے اور دوسرے ممالک کی معیشت پر اثر انداز ہوئے جارہا ہے، کچھ دنوں پہلے اس نے امریکہ کے ساتھ مشاورتی نشست طے کی جس میں پوری دنیا کے سامنے دونوں ممالک کے نمائندوں نے ایک دوسرے کو لعن و طعن کیا، ٹرمپ ہوں کہ بائیڈن دونوں کیلئے چین کا وجود خطرہ ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا کے ساتھ ملکر ایک ہالہ بھی بنانے کی کوشش کی ہے؛ تاکہ چین کو روکا جاسکے، مگر چین ہے کہ وہ لگاتار امریکہ کیلئے چیلینج بنتا جارہا ہے، امریکہ کی معاشی، فوجی، اسلحاتی اور دیگر ممالک پر قابض ہونے کی پالیسیوں پر زَک پہنچا رہا ہے؛ بالخصوص عالمی صحتی ادارے کے تنازعے پر کیا کچھ ہوا اسے دنیا نے دیکھا، نیز امریکہ کا سب سے پرانا علاقہ خلیجی ممالک جو اسی کے ہاتھوں کا غلام تھا؛ اب ان کی اس بادشاہت اور خلیجی ممالک کے آقاؤں میں ایک نام اور جڑنے والا ہے، چین لگاتار نئے دروازے کھولنے کی کوشش کر رہا ہے، نئے نئے معیارات تلاش کر رہا ہے، اب تک چین کو اس طرف جانے کی ضرورت نہ تھی؛ مگر حالیہ دنوں میں کرونا وائرس اور معاشی بحران، ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے تشدد اور خود چین کیلئے ٹکنالوجی کے نئے میادین تلاش کرنے کیلئے اسے خلیجی ممالک کا رخ کرنا پڑا ہے، بی بی سی نے اس سلسلہ میں ایک جامع رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق چین خلیجی ممالک سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے لئے مجلس تعاون برائے خلیجی عرب ممالک (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل نائف بن فلاح الحجرف اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ہے۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں اس ملاقات کے بعد جی سی سی نے چین کو ایک اچھا دوست قرار دیا اور چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین علاقائی سکیورٹی میں مثبت کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔
جی سی سی چھ ممالک کے درمیان تعاون کا اتحاد ہے جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور عمان شامل ہیں۔ یہ ریاض میں واقع ہے اور باہمی رابطے کیلئے اس کی بنیادی زبان عربی ہے. سنہ ١٩٨١ء میں اسے سیاسی، معاشی، سماجی اور علاقائی تنظیم کے طور پر بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد ان چھ خلیجی ممالک کے درمیان روابط، اتحاد اور تعاون قائم کرنا تھا تاکہ مشترکہ فوج اور مشینری کا قیام ہو سکے۔ان تمام ملکوں میں تیل کی پیداوار سب سے زیادہ ہے اور چین یا انڈیا جیسے ممالک کیلئے یہ توانائی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ایک طویل عرصے سے خلیجی ممالک پر امریکہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ یہ ملک فوجی سکیورٹی کیلئے امریکہ پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں خلیجی ممالک میں چین کی دلچسپی کافی سوال کھڑے کر سکتی ہے؛ دراصل چین اور خلیجی ممالک کے تعلقات میں توانائی، انفراسٹرکچر، تجارت اور سرمایہ کاری نمایاں موضوع رہے ہیں۔ چین اپنی ٣٥/ فیصد خام تیل کی ضروریات خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے اور اس دہائی کے آخر تک امکان ہے؛ کہ یہ تعداد ٦٠/ فیصد تک جا سکتی ہے۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں جنوبی ایشین مطالعے کے پروفیسر سنجے کے بھردواج کہتے ہیں کہ خلیجی ممالک میں چین کی دلچسپی کی دو وجوہات ہیں۔ توانائی کی ضروریات کے علاوہ چین امریکہ کے اثر و رسوخ کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔ ’چین تیز ابھرتی اور بڑی معیشت ہے۔ وہ اپنی معاشی ترقی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے ان کی توانائی کی کچھ ضروریات ہیں۔ خلیجی ممالک توانائی سے بھرپور ہیں، اس صورتحال میں چین کی ان میں دلچسپی قدرتی عمل ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ بھی اس کی ایک کڑی ہے جسے خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اس میں دو طرح سے کاروبار ہو سکتا ہے۔ چینی کمپنیوں کی مصنوعات پوری دنیا میں پہنچ سکیں گی اور چین کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی۔‘ بہرحال اسے چین کے حق میں یقیناً خوش آئند قدم کہا جاسکتا ہے؛ لیکن خلیجی ممالک کیلئے سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں ہے، جن کے پاس دنیا پر حکومت کرنے کی صلاحیت اور ضروریات بھی ہیں، جن کے پاس دنیا کے عظیم ممالک اپنے اپنے ملکوں کو ترقی دینے اور دنیا پر تسلط جمانے کیلئے چلے آتے ہیں، وہ خلیجی ممالک اپنے آپ کی مدد کرنے، اسلامی پرچم بلند کرنے، دنیا پر حکمرانی کرنے اور صحیح معنوں میں اسلام کی برتری ثابت کرنے سے قاصر ہیں؛ بلکہ غلامی کی زنجیریں یکے بعد دیگرے بدلتے رہتے ہیں۔
Comments are closed.