اپریل فول
تحسین زارا
نارووال
” بیٹا تم کب آؤ گے؟ اب تو ایک سال ہونے کو ہے۔۔؟” عالیہ اپنے اکلوتے بیٹے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئی تھی۔ احسن ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور ایک مدت سے پردیس میں مقیم تھا۔ یوں تو وہ ہر سال ایک ماہ کے لیے آتا تھا لیکن ایک ماں کے لیے ایک سال ایک صدی سے کم نہ تھا۔
"امی جی بس چند دنوں میں آ جاؤں گا۔۔ اچھا امی جی اب پھر بات ہو گی ” احسن نے ماں کو خوشخبری دی۔۔ اور ساتھ ہی رابطہ منقطع کر دیا اور وہ خوشی سے نہال ہو گئی ۔ آخر کو اپنے بیٹے کو جو دیکھنا تھا۔۔شوہر کی وفات کے بعد انہوں نے ہی اسے پالا تھا اور ہر ممکن کوشش کی کہ وہ ہر تکلیف سے دور رہے، لیکن احسن نے اپنی منچلی طبیعت کے باعث ہر بار گھاٹے کا سودا ہی کیا اور پھر ایک دن دبئی کی رٹ لگا لی جبکہ عالیہ بیگم کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اپنی اکلوتی اولاد کی دوری برداشت کر سکیں یوں بھی وہ وہ دل کی مریضہ تھی تو اس کی دوری کا سوچ کر ہی کانپ جاتی ۔
لیکن احسن نے ان کی ایک نہ مانی اور انہیں اس کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اپنا سارا زیور بیچ کر اور رشتہ داروں سے ادھار لے کر انہوں نے اسے باہر بھیج دیا اور وہ مطمئن تھی کہ وہ باہر جا کر سدھر گیا ہے اور اس بار اس کے آنے پر وہ اس کی شادی کی خواہشمند تھی۔
*************************
*************************
اگلے چند دن یونہی اس کے آنے
کی خوشی میں گزر گئے۔۔ اور پھر وہ دن آ ہی گیا۔۔
” امی جان میں ائیر پورٹ پر ہوں، 2 گھنٹے میں آپ کے پاس ہوں گا” اس نے کال کر کے اپنی ماں کو بتایا تو وہ جلدی جلدی سے اس کے گھر آنے سے پہلے اس کی پسند کے تمام کھانے بنانا چاہتی تھی ۔۔ بیٹے کے آنے کی خوشی جو اتنی تھی۔۔
اس کے انتظار میں یونہی 2 گھنٹے گزر گئے لیکن وہ نہ آیا۔۔ پھر جیسے کی موبائل کی گھنٹی بجی، لپک کر موبائل اٹھایا۔۔
"بیٹا کہاں ہو؟ ابھی تک گھر نہیں آئے؟” انہوں نے موبائل اٹھاتے ہی اگلی آواز سنے بغیر بولنا شروع کر دیا تھا۔۔
” ماں جی ، ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کے بیٹے کا سڑک پار کرتے ہوئےایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ موقع پر ہی دم توڑ چکا ہے۔” یہ سنتے ہی عالیہ نے دل تھام لیا اور پاس پڑی کرسی پر بیٹھتی ہیں
” شکریہ علیم بھائی! ” احسن نے مسکراتے ہوئے ان کے ہاتھ سے فون لیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔۔
” لیکن احسن یہ غلط بات ہے وہ پریشان ہو رہیں ہوں گی ، جلدی جاؤ۔” علیم بھائی جو کہ ان کے گھر کے پاس ہی رہتے تھے۔۔ انہوں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
"ارے بھائی آج یکم اپریل ہے یعنی کہ اپریل فول، آج کے دن تو اتنا مزاق چلتا ہے” احسن نے ان کے گلے لگتے ہوئے کہا ۔۔
وہ ابھی ابھی ائیر پورٹ سے گھر آیا تھا اور سڑک پر ہی اسے علیم بھائی مل گئے اور اسکے شیطانی دماغ میں "اپریل فول ” منانے کا منصوبہ بنا اور اس نے مشکل سے ہی سہی لیکن علیم بھائی کو اپنے جھوٹ میں حصہ دار بنا لیا اور ان کو اپنی ماں کو جھوٹی اطلاع دینے کا بولا۔۔
” یہ سب مغربی رنگ یہاں نہ چڑھاؤ اور جلدی سے گھر جاؤ جانتے ہو نا آنٹی پہلے ہی دل کی مریضہ ہیں۔۔” علیم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو اس نے جلدی سے گھر کی راہ لی۔۔
"اپریل فول ڈے” گھر کا دروازے کھولتے ہی اس نے اونچی آواز میں کہا وہ جانتا تھا کہ آج دروازہ کھلا ہی ہو گا۔۔
” امی جی پلیز اب ناراض نہیں ہونا” اس نے سامنے ہی برآمدے میں کرسی پر بیٹھی اپنی ماں کو مخاطب کیا لیکن انہوں نے آگے سے کوئی جواب نہ دیا۔۔وہ جانتا تھا وہ ناراض ہیں اس لیے نہیں اٹھی۔۔ اور وہ ان کو منانا بھی جانتا تھا۔۔
” سوری امی جی، آئندہ ایسا مزاق نہیں کروں گا پلیز مان جائیں نا” اس نے بچوں کی طرح ان کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے کہا لیکن وہ خاموش رہیں۔۔
” اب مان بھی جائیں نا، آج اپریل فول تھا تو سوچا کیوں نا آپ کے ساتھ ہی یہ دن منایا جائے” لیکن اس بار بھی کوئی جواب نہ آیا۔۔ اس قدر خاموشی سے گھبرا کر وہ ان کے سامنے کی طرف آیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کے ہلایا اور اسی وقت ان کا ہاتھ ان کے پہلو میں گر گیا اور سر ایک طرف۔۔۔
وہ اندر تک دہل گیا اور بار بار آوازیں دینے لگا لیکن مخالف خاموشی تھی ایک ایسی خاموشی جو اب عمر بھر کی تھی۔۔ ایک جھوٹ کے بدلے میں وہ اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ کھو چکا تھا وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں کے دل کی دھڑکن اسی کی موت کی خبر نے روکی تھی۔۔ اور اب "اپریل فول ” کا یہ دن وہ کبھی نہیں بھولنے والا تھا کیونکہ یہ دن اس سے اس کا سب کچھ چھین چکا تھا۔۔
غیر قوم کی روایت کو اپناتے ہوئے وہ اپنوں کو کھو چکا تھا۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔
خدارا، ایسے دنوں کو منانے سے پرہیز کریں جس سے آپ کے اپنے تکلیف میں ہوں۔ اور ایسے جھوٹ انسان کی زندگی بھر کے لیے پچھتاوا چھوڑتے ہیں۔۔
ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ۔۔
” سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی ہمیں جنت لےجاتی ہے جبکہ جھوٹ گناہ ہے اور گناہ ہمیں آگ کی طرف لے جاتا ہے”(مسلم 2607)
خود کو اس آگ سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں اور مغرب کی تہذیب کو اپنا کر دنیا و آخرت کا پچھتاوا نہ خریدیں اللّٰہ ہم سب کو سچ بولنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
(آمین )
Comments are closed.