کامیابی کے اصول

 

بقلم:محمدانتخاب ندوی

1۔مقصد متعین ہو

2۔جہدمسلسل اور سعی پیہم نیز عزم مصمم ہم رکاب ہوں

واقعہ: ١٩٨٩میں جب سرزمین ارمینیا میں زبردست زلزلہ بپاہوا،پورا کا پوراشہر ملبوں کے ڈھیڑ میں تبدیل ہوگیا،تقریبا پچیس ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے،انھیں زخم خوردہ لوگوں میں ایک کسان بھی تھا،جسکا بیٹا ایک مدرسہ میں زیر تعلیم تھا،وہ دوڑتا ہوا مدرسہ کی طرف آیا،منظر کو دیکھ پیروں تلے زمین کھسک گئ،آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا،کیونکہ مدرسہ کی پوری عمارت ملبوں میں تبدیل ہوچکی تھی،باپ تو باپ ہوتا ہے،اس نے ایک ایک کرکے ملبوں کو ہٹانا شروع کردیا،یہ سوچ کر کے اس کے نیچے اسکا بیٹا دبا ہوگا،وہاں موجود لوگوں نے منع کیاکہ ملبوں کو ہٹانے سے اب کوئ فائدہ نہیں،مگر اس بندہ نے کسی کی نہیں سنی اور ہرایک کو یہی جواب دیا کہ اگر آپ لوگوں کو ہاتھ بٹانا ہو تو بٹائیں ورنہ چلے جائیں اور کوئ مجھے منع کرنے کی کوشش نہ کریں،وہ بیچارہ بھوک،پیاس سے بے پرواہ ہوکر باپ کی شفقت لیے مسلسل اور جرات وعزم مصمم کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر سیتنیس 37 گھنٹے تنہا ملبوں کو ہٹانے میں مشغول رہا آخر کار منزل تو مل ہی گئ،اسکی نظر ایک جگہ پڑی جہاں اسکے لخت جگر کے علاوہ اور بھی کئ طلبہ زخموں سے چورچور تھے اور کسی معاون ومددگار کے منتظر تھے،کسان نے تمام طلبہ کو وہاں سے نکالا،ہرطرف سے خوشیوں سے بھرے تحفے کسان کے پاس آنے لگے،مباکبادی کے نغمے فضا میں باز گشت کرنے لگے،

خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم بھی کامیابی کی منزل پانا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنا ہدف طے کرنا پڑے گا اور پھر اسکے حصول کے لیے شب وروز وصل کرنا پڑے گا،اس راہ میں بڑے بڑے روڑے بھی اٹکاۓ جائیں گے،لوگوں کے جملے بھی سننے پڑیں گے،مگر ہمیں ان تمام نشیب وفراز وادیوں کو عبور کرتے ہوۓ اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے

Comments are closed.