کئی دماغوں کا ایک انساں:مولانا محمد ولی رحمانی
?احمد بن نذر
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ نے ایک زریں ، پیش قیمت اور وقیع جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ: ’’نسبت کا منتقل ہونا پڑھا اور سنا تھا ،دیکھا ہے ولی میاں میں!‘‘بلا شبہ حضرت مولاناؒ کا یہ قول حرف بہ حرف درست ،صادق اور حق بہ جانب ہے۔ یہ بے جا مبالغہ آرائی ہے نہ بے وجہ کی قصیدہ خوانی بلکہ حضرت مولانامحمد ولی رحمانی جہاں یقینا اعلی ترین نسبتوں کے حامل تھے وہیں علم و فضل کی دنیا میں بھی مسند علیا پر متمن ، آپکا حسب و نسب جہاں آپکے لئے باعث سعادت تھا وہیں آپکی زیرکی و دانائی وجہ ِ شہرت، آپ جہاں با وقار والد کے ہونہار فرزند تھے وہیں فقید المثال دادا کے با کمال پوتے بھی !
آپکا خانوادہ وہ عظیم خانوادہ ہے جسے تعارف کی حاجت نہیں بلکہ دنیا خود کو اس سے منسلک و منسوب کر کے اپنی شناخت کواستحکام اور شہرت کو دوام بخشتی ہے ۔ آپکا پورا گھرانا تقوی و للہیت، اخلاص و دیانت، پاکپازی و امانت ،راست بازی و صداقت ، دانشمندی و حکمت اوربے باکی و شجاعت کے ساتھ ساتھ سد ہا اوصاف امامت و سیادت کا حسین مرقع اور مستجمع ہے ۔ آپکا خانوادہ بلا ریب و تردد’’ ایں خانہ ہما آفتاب ست‘‘ ــکا حقیقی مصدا ق اور یقینی محمل ہے ۔ آپکا شجرۂ نسب ستائیسویں پشت پر پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ سے جا ملتا ہے۔آپ کے جد معظم حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کے لا تعداد کارہائے نمایاں میں سے اگر صرف ’’دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ‘‘ و’’ جامعہ رحمانی مونگیر‘‘ کی تاسیس ، بناء اور تعمیر کا ہی ذکر کیا جائے تو بہ جا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف ملت اسلامیہ ہندیہ ہی نہیں بلکہ پورا عالم اسلام انکے ان احسانات سے عہد برآ نہیں ہو سکتا ۔ آپکے والد مکرم مولانا منت اللہ رحمانی ؒنے آئین کی آڑ میں مسلمانوں کے تشخص و امتیاز پر لگائی جانے والی سیندھ کے سد باب کے لئے جہاں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کی صورت میں ملت اسلامیہ ہندیہ کو ایک متحدہ پلیٹ فارم عطا کیا وہیں مسلمانوں کے عائلی ، سماجی اور بعض اوقات سیاسی مسائل کے حل کے لئے امارت شرعیہ کے ذریعہ بھر پور تگ و دوکی تا آنکہ ان مسائل کاکوئی مناسب حل نہ نکل آیا۔
مولانا کی ذات مذکورہ اکابر کی روایات کی امین ،انکے مشرب کی محا فظ اور یقینی طور پر حقیقی جانشین ہونے اور کہلانے کا کلی استحقاق رکھتی تھی ۔ انکی شخصیت بلا شبہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھی۔ آپ کبھی سلسہ ٔ بیعت و ارادت کے’’ پیر مغاں‘‘ تھے توکبھی علم و فن کی دنیا کے شہہِ بے تاج، کبھی جامعات اور مدارس کے بیدار مغز منتظم تھے تو کبھی فقہ و فتای کی دنیا کے معتمد و معتبر مفتی ، کبھی میدان تقریر و خطابت کے فاتح تھےتو کبھی آئین و قانون کے پر پیچ وادیوں کے شہ سوار ، کبھی زبان و ادب پر گہری نگاہ رکھنے والے نقاد و ادیب تھے تو کبھی تالیف و تصنیف کے جہان میں اپنے مخصوص طرز ادا رکھنے والے مؤلف و مصنف ،کبھی آپکی گفتگو یاس و قنوطیت کے شکار نوجوانوں نے دم ِتازہ کی فراہمی و فراوانی کا ذریعہ تھی تو کبھی آپکے بیانات میں عوام و خواص کو مسحور کر دینے والی اثر آفرینی ________ گویا:
چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو
جس رخ سے بھی پڑھوگے اسے جان جاؤگے
آپ اپنے بلند حوصلہ عالی صفت اور اولوالعزم آبا ء و اجداد کی نہ صرف شکل و شباہت میں ’’نقل مطابق اصل‘‘ تھے بلکہ عادات و اطوار اورگفتار و کردار میں بھی ان ہی کے عکس جمیل !
آپ کی ہستی وہ تھی جس کا کسی منصب پر فائز ہونا بذات خود اس عہدے کے لئے باعث زینت و افتخار ہوا کرتا ہے ۔ اس وقت آپکے مضبوط کاندھوں پرجہاں بہار، جھارکھنڈ و اڈیشہ کے مسلمانوں کے مسائل کا بوجھ تھا وہیں ملت اسلامیہ ہندیہ کے قوانین اسلامی کے حفاظت کا بار گراں بھی، جامعہ رحمانی مونگیر کی تعلیمی سر گرمیوں کی بقاء جہاں آپ سے ہی تعبیر تھی وہیںحالات کی نبض شناسی کا بین ثبوت’’ رحمانی تھرٹی‘‘کی پیش قدمیاں اور کام یابیاں بھی آپ کی ہی مساعی کا دل کش ترین نتیجہ تھیں، جہاںندوے کی ارتقاء و عروج میں آپ کے مفید تر مشاورتوں کا حصہ تھا وہیں خانقاہ رحمانی کے تسبیح و مصلے کی تابانی بھی آپ ہی کے دم سے تھی ۔ آپ بیک وقت خانقاہ رحمانی کے مے نوشوں کے لئے ساقی، جامعہ ررحمانی کے تشنہ کامان دہن کے لئے نہر شیریں، مریضان ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے طبیب حاذق اور تنظیم مسلمین بہار، جھارکھنڈ و اڈیشہ کے سربراہ تھے۔
نیزخانوادۂ جیلانی و رحمانی سے صوبہ جھارکھنڈ کی قدیم ترین درس گاہ جامعہ رشید العلوم،چَترا،جھارکھنڈ(سن قیام:1925ء) کا ربط و تعلق کوئی چند دہائیوں پر منحصر نہیں بلکہ تقریباََ ایک صدی کے طویل عرصہ پر محیط ہے۔ بانیٔ جامعہ حضرت مولانا محمدرحمت ا للہ (نواراللہ مرقدہ)نے مولانا محمد علی مونگیری ؒ کے میخانے سے روابط استوار کئے اور تا حیات اسی کی جرعہ نوشی کو باعث سعادت و نجات تصور کیا ۔بانی ٔ جامعہ کے استاذ و مربی حضرت مولانا عبد الرشید رانی ساگری ؒ (جنکی جانب یہ جامعہ منسوب ہے ) بھی حضرت مونگیری ؒکے سلک ارادت کے سالک و راہی تھے۔ حضرت مونگیری ؒکے سانحۂ ارتحال کے بعد حضرت منت اللہ رحمانی ؒنے تا دم واپسیں اس ادارے کی سر پرستی فرمائی ۔پھر اس کے بعد حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کی بافیض قیادت و سرپرستی اس کے حصے میں آئی۔
موقع کی مناسبت سے سردست مولانا کی عظیم ترین دینی،مذہبی،ملی،سیاسی اور سماجی خدمات کے چیدہ چیدہ معدودے گوشوں کی ہی رونمائی ممکن ہے،جب کہ مولانا کی خدمات کا وسیع تر دائرہ زبانِ حال سے یہ کہتا ہوا نظرآتا ہے:
ہماری داستاں اوراقِ مختصر میں نہیں
سوزندگی نے موقع و فرصت کے لمحات بخشے تو اُس’’کئی دماغوں کے ایک انساں‘‘کے کارہائے نمایاں کا تذکرہ پھر
کبھی،پھر کہیں!
رحمہ اللہ رحمۃَ واسعۃَ،تغمدہ اللہ بغفرانہ
Comments are closed.