امت مسلمہ کا ایک بے باک رہنما چلاگیا

 

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی
ناگپاڑہ،ممبئی

8080697348

امت مسلمہ کےایک مخلص رہنما، عظیم قائد،بلندحوصلہ، عالی ہمت،صاف گو،بے باک خطیب،شستہ زبان، اور خوبصورت قلم کے مالک، جرات مند،مشہورعالم دین، پیرطریقت،سجاہ نشیں خانقاہ رحمانی وناظم اعلیٰ جامعہ رحمانی مونگیر، امیرشریعت (سابع) امارت شرعیہ پھُلواری شریف پٹنہ ،اور جنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ حضرت اقدس مولاناسید محمد ولی رحمانی نوراللہ مرقدہ کی وفات امت مسلمہ کا ایک عظیم اورحقیقی خسارہ ہے، بظاہر جس کا پُرہونا بہت مشکل نظر آتاہے۔
آپ نے موجودہ حالات میں جس طرح حکومت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر جو جراتمندانہ کرداراداکیا،وہ انھیں کا حق تھا،انھیں کےبس میں تھا، بابری مسجدکاقضیہ ہو یاطلاق کا مسئلہ،سپریم کورٹ اور حکومت کے ایوانوں تک امت مسلمہ کی مکمل اورحقیقی ترجمانی کی۔آپ آ ل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کے جنرل سکریٹری، امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ ، جھارکھنڈ کےامیرشریعت ، خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں، جامعہ رحمانی مونگیر کے ناظم اعلیٰ، رحمانی تھرٹی،رحمانی فاؤنڈیشن اوردیگر کئی بڑے اوراہم اداروں کے سرپرست، ناظم اورروح رواں تھے۔بیک وقت اتنے سارے اداروں کوبحسن وخوبی چلانا ، ان کی کڑی نگرانی کرنا،اساتذہ کرام، طلبہ عظام،مریدوں اورعام لوگوں کاخاص خیال رکھنا آپ کا امتیازی وصف تھا۔نوجوانوں سے کام لینا، انھیں ہر میدان میں آگے بڑھنےکا موقعہ دینا؛بلکہ خود آگے بڑھ کر انھیں بڑھاناآپ کی عادت تھی، یہی وجہ ہے آپ نے اکثرنوجوانوں کو ایسے عہدےاورذمہ داری عطافرمائی جو عام طورپرساٹھ ستر سال کی عمر کے بعد ملاکرتی ہے۔جب دارالقضاء اورتفہیم شریعت کے کاموں کی تنظیم کے لئےبورڈ کے آفس میں احقر کاتقررہوا، تو پہلی ملاقات میں کسی نے کہاکہ حضرت ان سے تقریرکرواکرامتحان لیاجائے، تو حضرت نے فوراًجواب دیاکہ ان کی تقرری امتحان لینے کے لئے نہیں، بلکہ کام لینے کے لئے ہوئی ہے۔احقر کے لئے سعادت کی بات ہے کہ آپ نے حضرت صدر محترم مولاناسید محمد رابع صاحب زید مجدہ کی طرف سے احقر کوناگپاڑہ ممبئی کاقاضی مقررفرمایااور سند تقررقضاء عطافرمائی۔
حضرت والاکے مزاج میں حق گوئی اوربے باکی اس قدر تھی کہ مخاطب کوئی بھی ہوحق بات اورصحیح بات کہنے سے کسی بھی طرح کی جھجک، خوف، ملامت کرنے والوں کی ملامت، طعن تشنیع وغیرہ آڑے نہیں آتی تھیں۔آپ اپنی بے باکی اورحق گوئی سے اچھے اچھوں کے دل ودماغ کو جھنجوڑ دیتے تھے، آپ بے باکی میں مشہورومعروف تھے۔
سابق امیر شریعت حضرت مولاناسید نظام الدین رحمہ اللہ اورجنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈکی وفات کے بعددونوں عظیم عہدوں پر آپ فائز ہوئے۔عہدہ سنبھالتے ہی آپ نے دونوں اداروں کے دائرہ کارکو وسیع کیا، خدمات کو مضبوط کیا،ذمہ داروں کو ان کی ذمہ داریوں کااحساس دلایا،اس طرح آپ نے ان اداروں میں نئی جان ڈالی۔
انتظامی امورسے متعلق جس تدبر اوردوراندیشی کی مثال آپ نے پیش کی وہ لائق تحسین بھی ہےاورلائق تقلید بھی، ایسالگتاہے کہ آپ نے وفات سے قبل جانے کی مکمل تیاری کرلی تھی، امارت شرعیہ کے قاضی حضرت مولانا عبدالجلیل قاسمی رحمہ اللہ کی وفات تو کچھ عرصہ پہلے ہی ہوگئی تھی، لیکن آپ نے اپنی علالت کےزمانے میں حضرت مولاناشمشاد رحمانی مدظلہ العالی کو نائب امیر شریعت اورحضرت مولانا قاضی انظارعالم قاسمی مدظلہ العالی کو قاضی شریعت مقررفرمایا؛ تاکہ آپ کی وفات کے بعد کسی قسم کااختلاف نہ ہو۔
بہرحال تقدیرکافیصلہ مانے بغیرکوئی چارہ نہیں۔ آپ کی وفات پر ہم آ پ کے اہل خانہ، محبین، متوسلین، بورڈ ، امارت شرعیہ ،اوردیگر اداروں کے کارکنان کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں۔دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، اورسارے متعلقین کو صبر وہمت دے، اورامت مسلمہ کو ان کانعم البدل عطافرمائے۔ آمین ثم آمین
محمد فیاض عالم قاسمی
خادم دارالقضاء ناگپاڑہ ممبئی۔۸
8080697348
تاریخ:٣/اپریل ٢۰٢١ء

Comments are closed.