آہ۔۔۔! رحمن و رحیم کے ”ولی رحمانی“ مرحوم بھی چل بسے!!

 

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

 

تیرے جانے سے اس طرح چھا گئی ہے خزاں

ہر کلی ہے نوحہ گر ہر پھول کے آنسو رواں

 

زندگی کی بے ثباتی، اللہ تعالی کی قدرت، انسان کی بے بسی اور حوادث زمانہ کی تیز رو گردش سے بھلا کسے انکار ہوسکتا ہے؟ صبح و شام، سورج کی گرمی، چاند کی ٹھنڈک، بحر میں موجوں کی اٹھا پٹک، مد وجزر اور موسم کا آنا جانا، سردی، گرمی، بارش، بہار، پت جھڑ وغیرہ کی نیرنگی سے بھی کون واقف نہیں ہے؟ آئے دن ہماری آنکھیں یہ مشاہدہ کرتی ہیں کہ دنیا کا نظام اس خالق و مالک کے ہاتھوں میں ہے جو ہر پرزہ کو اپنے اعتبار اور ڈھنگ سے منظم کرتا رہتا ہے، اس گردش میں کسے آنا ہے اور کسے جانا ہے اس کا فیصلہ صرف اسی کے مطابق ہوتا ہے، جس میں اہل بصیرت کیلئے عبرت ہے: اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لاُولِی الْاَلْبَابِ – (آل عمران:١٩٠) ”بے شک آسمان و زمین کی بناوٹ اوررات دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔“

اللہ تعالی نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ: اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ ۘ لَوْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ – (نوح:٤) ”یقیناً جب اللہ کامقرر کیا ہوا وقت آپہنچے گا تو اس کو ٹالا نہیں جاسکتا، کاش، تمہاری سمجھ میں آجائے۔“

اور فرمایا: وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُہَا ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ – (منافقون:١١) ”اور جب کسی کی (موت) کا وقت آجائے تو اللہ ہرگز مہلت نہیں دیں گے اور اللہ تمہارے سب کاموں سے باخبر ہیں۔“

ابھی دیکھیے! امت مسلمہ کی امید، ہندوستان کی فسطائیت اور ہندو ازم کے تھپیڑوں میں مسلمانوں کی امتیازی شان کا قائد، فاشسٹ اور ہندو راشٹر، گرو گوالکر اور ہیڈگوار کی راہ پر گامزن حکومت کے سامنے امن و آشتی اور حق کی آواز، اپنے وجود، تشخص، اقلیت کیلئے عَلم اور انسانیت کیلئے رحم، بھائی چارگی اور مودت کا پیغام عام کرنے والا، علمی میدان کا شہہ سوار، متعدد انجمنوں، جمعیتوں اور این جی اوز کی نگرانی و سرپرستی کرنے والا، بالعموم پورے ہندوستان میں مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر پلیٹ فارم سے مسلمانوں کی زبوں حالی، بے چارگی اور بےیاوری کے دور میں ان کی ڈھارس اور شمع امید بلند کرنے والا؛ بالخصوص بہار کی سرزمین پر امارت شرعیہ کے ذریعے اور اس سے قبل جامعہ رحمانیہ مونگیر کے توسط سے علمی ماحول، شخصی ارتقاء اور قومی و معاشرتی محاذ پر عمدہ ترین کام کرنے والے رحمن و رحیم کا ولی رحمانی دفعتاً چَل بَسے۔ (إنا للہ وانا الیہ راجعون اللهم اغفر له ويجعل مثواه الفردوس)

کوئی سنتا تو اک کہرام برپا تھا ہواؤں میں

شجر سے ایک پتہ جب گرا آہستہ آہستہ

 

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک شخص جب ترقی یافتہ ہو، دنیا میں مقام عروج پر پہنچا ہوا ہو، قیادت وسیادت سے متعلق ہو، مسائل کا حل تلاش کرنے، قوم کو راہ دکھانے میں مگن ہو، خاص طور پر اقلیتی قوم کو اکثریت کے چنگل سے نکال کر اسے ایک نئے افق، نیا میدان، نئی اڑان اور نیا منصوبہ فراہم کرنا ہو تو بہت سے سالار قافلہ بھی غچّہ کھا جاتے ہیں، مگر یہ کون نہیں جانتا کہ چلنے والا ہی ٹھوکریں کھاتا ہے، سنبھلتا ہے اور پھر چلتا ہے، جو پیر توڑ کر بیٹھا ہو، اپنے آپ کو مفلوج اور معطل کرچکا ہو وہ ٹھوکر کھانے سے بھی محفوظ رہتا ہے؛ لیکن وہ اس قابل نہیں کہ اس کا تذکرہ کیا جائے، اور انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اپنی زنگ خوردہ زبان سے ان عظیم ہستیوں پر کیچڑ اچھالیں، اس سے کسی کی شخصیت مجروح نہیں کی جاسکتی، اور ناہی اکثری حکم کو کلی کے پیرائے رکھنا زیب دیتا ہے۔

حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی رحمہ اللہ (١٩٤٣- ٢٠٢١ء) اپنے آپ میں ایک انقلابی تحریک، مرد مجاہد شخصیت اور تبدبر و حکمت کے ساتھ قائدانہ میلان رکھتے تھے، کہتے ہیں کہ انسان اپنے خاندانی نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، خاندان کان کی طرح ہے، اگر اس میں ہیرے جواہرات ہوں تو کان ہیرے ہی فراہم کرے گا، مولانا جس خاندان سے تعلق رکھتے تھے وہ خود ایک ممتاز، ہندوستانی سرزمین پر نشان فخر، انسانیت اور علمی میدان کیلئے محسن ہے، آپ کے جد امجد حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری (١٨٥٦-١٩٢٧ء) کی شخصیت سے کون واقف نہیں ہے، جنہوں نے ندوہ کی فکر کی پیش کی، آزادی ہند کے بعد مسلمانوں کی نیّا کو متوازن کرنے اور بحر میں موجوں سے ٹکراتے ہوئے توازن برقرار رکھنے، اعتدال کے ساتھ قدیم صالح اور جدید نافع؛ نیز الی الاسلام من جدید کا نعرہ دینے والے وہی تو تھے، علمی دنیا بلکہ انسانیت پر آپ کا احسان عظیم بھلا کون بھول سکتا ہے، اور پھر آپ کے والد محترم حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی (١٩١٣-١٩٩١ء) جنہوں نے مسلم پرسنل لا کی تحریک، تاسیس اور مسلمانوں کی اجتماعی و سماجی اور معاشرتی زندگی میں کلیدی کردار ادا کیا، ایک طرف ہندوازم کی بخیہ ادھیڑی، اسے سر عام ننگا کیا، عوام کو بیدار کیا، تو وہیں مسلمانوں میں پرسنل لا کو لیکر ایک ایسی تحریک چھیڑ دی کہ اب تک مسلمان اسی سایہ میں اپنی زندگی، قومی تحریک اور اکثریت کے مابین کاروان کو بڑھائے جارہے ہیں، انہوں وہ بنیادی خد و خال فراہم کیے جن پر مسلمانوں کا مستقبل ٹِکا ہوا ہے، آپ صحیح معنوں میں مفکر اسلام اور مجدد کہلانے کا حق رکھتے ہیں؛ ایسے سپوتوں کے وارث مولانا سید محمد ولی رحمانی بھی اسم با مسمی تھے، اپنے آبائی ورثہ کو خوب سنبھالا تھا، وہی سوز دروں اور فکر پائی تھی، جو کبھی مونگیری اور منت اللہ رحمانی کے سینے کو بے قرار رکھتی تھی، امت کے حق میں دینی و دنیاوی دونوں پہلوؤں سے اسی نہج پر بلکہ عصری میدان میں کہیں زیادہ نمایاں انداز سے وہ یوں گامزن تھے کہ آباء رشک کریں، آپ خانقاہ مونگیری کے سجادہ نشین، بزرگ اور ولی اللہ تصور کئے جاتے تھے، اور علمی میدان میں امت مسلمہ کیلئے رحمت اور انسانیت کا سایہ بن کر ہر ایک پر فگن رہتے تھے، ملک میں جہاں کہیں مسلمانوں کے ساتھ کوئی زیادتی ہو ان کی آواز ضرور سنائی دیتی تھی؛ بلکہ اس کا دائرہ بسااوقات عالمی بھی ہوجاتا تھا، آپ نے فرانس میں گستاخی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت نوٹس لیا تھا، یا اس سے پہلے خلیجی ممالک کی بے راہ روی پر بھی دو ٹوک رویہ اختیار کیا تھا، گویا آپ کی شخصیت اس قدر جامع تھی کہ دنیا کا ہر خطہ اس سے مستفید تھا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

 

آپ کی سب سے بڑی خصوصیت حق گوئی و بے باکی تھی، آپ کی زبان سے جو بھی نکلتا وہ اگرچہ سننے والے کو کڑوا، کسیلا لگتا؛ لیکن وہ حق کی آواز ہوتی، اس وقت بی جے پی جس طرح حکومت کر رہی ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، عدالت عظمی سے لیکر ایوان تک، میڈیا سے لیکر انٹلیکچول افراد تک کوئی بھی علی الإعلان ان کی مخالفت کرنے والا نہیں ہے، جو لوگ کچھ بول جاتے ہیں وہ وہی ہیں جنہیں پالیٹکس کرنی ہے، یا پھر سوشل میڈیا Spit and run والی حرکت کرنی ہے، عموماً اسی قبیل کے لوگ کچھ بولتے ہیں اور پھر اپنے خاص ہیولے میں قید ہوجاتے ہیں، ایسا کوئی نہیں ہے اور اگر ہے تو شاذونادر ہی ہیں جو بی جے پی اور اس کے ہمنواؤں کو اس کے سامنے حق کا آئینہ دکھا سکتے ہوں؛ بالخصوص علماء کرام جو حق، جہد و جہاد سے کنایہ ہوا کرتے تھے وہ تو مصلحت کی دنیا بسا چکے ہیں؛ ایسے میں مولانا نے بی جے پی کے شاہنواز حسین کو سب کے سامنے ”سب کا ساتھ، سب وکاس اور سب کا ستَّیا ناش“ کہہ دیا تھا، مرحوم نے جس انداز جرأت مندانہ اور قلندرانہ میں یہ بات کہی تھی اس سے آپ کا نہ صرف خارجی اعتماد بلکہ اندرونی کیفیت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا تھا، چہرے پر کوئی بَل نہیں، انگلیاں اشارہ کر رہی ہیں اور باطل کو صاف صاف کہہ رہی ہیں کہ تو نے ظلم کیا ہے، تو تاویل کرلے یا جو بَن سکے وہ کرلے تو ظالم ہے بَس____ مولانا کا یہ کوئی پہلا موقع نہ تھا بلکہ متعدد محفلوں میں بھی یہ دیکھا اور سنا گیا ہے، ایک مرتبہ بی جے پی سے یارانہ رکھنے والے نتیش کمار کو بھری سبھا میں کھری کھوٹی سنائی تھی، بہر حال وہ غیروں ہی میں نہیں بلکہ اپنوں کو بھی سخت کڑوا گھونٹ پلاتے تھے، علماء طبقہ کو ان کی غلطیوں اور لغزشوں پر جب گرفت فرماتے تو آپ کی بے نیازی، تورع، تقوی اور توکل علی اللہ کا نظارہ آنکھوں کے سامنے مجسم پھرنے لگتا تھا، وہ بے باکی کے ساتھ حق کا علم تھامے گویا ہوتے، منکر پر نکیر کرتے، بدنظمی پر قدغن لگاتے، عوامی زبان، سطحیت اور لسان خفی پر روکتے؛ بلکہ سر محفل ٹوکتے تھے، بعضے یہ محسوس کرتے کہ آپ کی جرأت مندی گھمنڈ اور تکبر تک پہنچی ہوئی ہے؛ لیکن عاجزی و انکساری اور تذلل بھی آپ کا لازمہ تھا، بارہا دیکھا گیا کہ جب کبھی آپ کے اساتذہ ساتھ ہوتے یا کوئی بھی بزرگ ہستی آپ سے مخاطب ہوتی تو بہت انکساری کا معاملہ فرماتے، أستاد کو استاذ کہنے میں عار محسوس نہ کرتے، بلکہ بالفخر بیان کرتے تھے، جس سے پتہ چلتا تھا کہ آپ احسان شناس اور سپاس گزار بھی ہیں، دل میں دوسروں قدر ومنزلت کا مادہ بھرا ہوا ہے، اور وہ انانیت کی گھاٹیوں نہیں بلکہ محبت کی وادیوں کے باسی ہیں، آہ __ وہ میر کارواں کِن کِن خوبیوں کا مالک تھا کسے بیان کریں اور کسے قلم زد کریں!!

ہر نصیحت جان و دل افروز تھی

دوستوں کی فکر غم اندوز تھی

مولانا نے ملت اسلامیہ کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا، جامعہ رحمانی مونگیر کے روح رواں تھے، خانقاہ رحمانی کے فیض کو دور دراز تک پہنچانے اور منتسبین و مریدین کا حلقہ وسیع کرنے میں آپ کا بہت اہم کردار ہے، جس دور میں فحاشیت، عریانیت اور بنا پیے ہی بہک جانے کا رواج ہے، ان میں خانقاہ کی مبارک ساعتیں، فیض اور تربیت کو عام کرنا ایک بڑی خدمت تھی، آپ نے ”رحمانی 30“ کے ذریعے عصری روش پر جو کارنامے انجام دیے ہیں انہیں کوئی فراموش نہیں کرسکتا، دراصل آپ شخصیت ساز تھے، افراد گر تھے، لوہے کو گرم کر کے اسے نایاب بنا دینے کا ہنر جانتے تھے، ہیرے کو تراش کر نگینہ بنا دینا اور اسے مفید بنا کر لوگوں کی خدمت میں پہنچادینا بھی آپ کا مزاج خاص تھا، چنانچہ انہوں نے ایک ایسی نسل تیار کردی ہے جو حکومت کی جانب سے ریشہ دوانیوں پر نگاہ رکھے، ان کا تجزیہ کرے اور ملت کو صحیح رہنمائی بھی کرے، حضرت مولانا اگرچہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے؛ جس سے ہمارے دل و جان پر گہرا اثر پڑا ہے، فکر و اعصاب پر دھچکا لگا ہے؛ لیکن ساتھ ہی رب ذوالجلال کی شان دیکھیے کہ آپ کے ہاتھوں ایسے سینکڑوں افراد نے تربیت پائی ہے جو خانقاہوں کی صدا عام کریں، عصری میدانوں میں کارنامے انجام دیں، امت کی قیادت کریں اور رواں حکومت کے خلاف متحدہ محاذ قائم کریں، آپ کی علمی و عملی خدمات کی وراثت سنبھالیں، یقیناً آپ کی زندگی مبارک اور موت بھی مبارک ہے، آپ کی زندگی اور جہد مسلسل کی ہلکی جھلک سے بھی امید ہے کہ آپ سے کہا جارہا ہے: یٰۤاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ، ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً، فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ، وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ – (فجر:٢٧ تا ٣٠) ”اے اطمینان پانے والی روح! اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ جاکہ تو اس سے خوش رہے اور وہ تجھ سے، میرے ( کامیاب) بندوں میں شامل ہوجا، اور میری جنت میں داخل ہوجا۔“

آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

Comments are closed.