درد

 

از قلم: ملائکہ جعفر

لفظ۔درد ہی اتنا اذیت ناک ہے کہ انسان سنتے ہی گہری سوچ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ درد صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی بھی ہوتا ہے اور روحانی درد سب سے زیادہ خطرناک اور اذیت بھرا ہوتا ہے۔ جسم پر لگے زخم تو بھر جاتے ہیں مگر روح جب گھائل ہوتی ہے تو انسان ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور پھر اسکا سنبھلنا مشکل ہو جاتا ہے ۔کبھی کبھی انسان کے ارد گرد کا ماحول ہی ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ اکیلا رہ جاتا ہے اور کبھی کبھار انسان کے اندر کا ماحول اسے اکیلا کر دیتا ہے ۔ ہمارے ارد گرد کے لوگ ہی ہمارے درد کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ کبھی ا پنے تو کبھی غیر۔ غیروں کے دئے ہوئے زخم تو پھر وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں مگر اپنوں کے دئے ہوئے زخم بہت گہرے ہوتے ہیں اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ ناسور بن جاتے ہیں اور جب زخم ناسور بن جائے تو پھر کوئی بھی طبیب اس کا علاج نہیں کر سکتا۔ زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ زخم پر مرہم لگانے والا زخم دینے والے سے زیادہ عزیز اور زیادہ قریبی ہو ورنہ انسان کا سنبھلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ زندگی میں ایسے ہوتے ہیں جو سامنے سے وار کرتے ہیں اور ان کے وار سے بچنے کے لیے آگے والا کوشش بھی کر سکتا ہے مگر ایسے لوگوں کا کیا جائے جو پیچھے سے وار کرتے ہیں منافقت کا نقاب اوڑھ کر اپنا منافقت والا پیار جتا کر میٹھی میٹھی باتوں میں پھنسا کر اس طرح کا وار کرتے ہیں کہ پیچھے دیکھ کر مقابلہ کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے ایسے لوگ نہ کسی کے دوست ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اعتبار اور محبت کے قابل وہ کچھ دیر کے لیے اپنے منہ پر منافقت کا نقاب توچڑھا سکتے ہیں مگر جلد یا بدیر ان کا اصل روپ سامنے آ ہی جاتا ہے مگر افسوس تب تک انسان اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے۔ اس لیے زندگی میں انسان کو اتنی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ کس پر اعتبار کیا جائے اور کون اعتبار کے قابل نہیں ہے تاکہ درد جیسی اذیت سے بچا جا سکے۔

 

*اعتبار کی سیڑھی پر چڑھا کر*

*وہ اک شخص زندگی کی چھت سے گرا گیا*

Comments are closed.