تریاق
محمد عارف خان اکوڑہ خٹک، maarif443@yahoo.com
پریشانی کا عالم ہے۔ مزدور کار اپنی مزدوری، ہنر مند اپنے ہنر، والدین اپنے بچوں، اساتذہ اپنے شاگردوں، ملازم اپنی ملازمت اور کاروباری افراد کاروبار جبکہ تاجر اپنی تجارت کے بارے میں فکر مند اور پریشان نظر آتے ہیں۔ ہر بندہ اپنی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش میں مصروف ہے لیکن مسائل اور پریشانی ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہے اور معاشرہ بے چینی سے کسی رحمت اور معجزے کی تاک میں بیٹھی ہے۔
حکیم جب اپنے مریض کا علاج کرتا ہے تو عموماً اس کو جو پہلا نسخہ دیتا ہے وہ پیٹ اور نظام انہظام کی صفائی کا دیتا ہے تاکہ پیٹ میں موجود جراثیم اور نقصان دہ مادے کا خاتمہ ہو۔ ٹھیک اسی طرح انسان کو اپنے معاملات دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مسئلے کو دیکھ کر حل تلاش کیا جائے۔ مسئلہ مادیات کا ہو تو علاج کے لیے مادیات کا استعمال شروع کیا جائے لیکن روحانی مسائل میں مادیات کا استعمال بے جا ہے، لہٰذا روحانی مسائل اور دلی اطمینان کے لیے اپنے اعمال کا احتساب نا گزیر ہو جاتا ہے۔ احتساب کے مرحلے سے گزر کر اپنی برائیوں کو دیکھ کر اس کے مطابق صفائی اور بحالی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
موجودہ حالات میں بنی آدم بہت سی پریشانیوں کا شکار ہے نظر آتا ہے جن میں سے چند کا اوپر ذکر کیا گیا لیکن جو پریشانی بلکہ پریشانیوں کا سبب اور منبع ہے اس کو بعض لوگ دانستہ جبکہ اکثر لوگ نادانستہ طور پر نظر انداز کرتے ہیں وہ انسان کے اپنے اعمال ہیں. "اعمالکم عمالکم” کے مصداق انسان اپنے اعمال اور کردار کی وجہ سے پریشانیوں کا شکار ہے۔ برے اعمال کی نحوست انسان کو خطرناک موڑ پہ لے جاتی ہے جہاں وہ بند گلی میں داخل ہوجاتا ہے اور واپسی کے راستے مسدود نظر آتے ہیں۔
ان پریشانیوں کے حل کے لیے امداد اور تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ پریشانی انسانی اختیار میں ہوں تو انسانی مدد حاصل کی جاسکتی جس کو ماتحت الاسباب کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی پریشانیوں میں کسی کی مدد اور رہنمائی لینا ضروری ہو جاتا ہے جس کے بغیر کوشش کرنا اپنے آپ کو مشکلات میں دھکیل دینا ہے جو آدمی کو ایک تاریکی سے کئی تاریکیوں بلکہ نہر سے سمندر برد کر دیتا ہے۔جہاں انسان کا نام و نشان باقی نہیں رہ جاتا۔
پریشانی اگر اپنے اعمال اور گناہوں کی نحوست کی وجہ سے ہو تو اس میں کسی بندے کی مدد و تعاون کارگر نہیں ہوتی۔ اس قسم کے مسائل کا تعلق انسانی قوت اور طاقت و حیثیت سے ماوراء ہوتا ہے جو مافوق الاسباب کے درجے میں آتا ہے۔ ان قسم کے مسائل کا حل صرف اور صرف مافوق الاسباب مدد کی طرف متوجہ ہونے میں ہے۔ آج مادیات کے دور میں اکثر مسائل کا حل بھی اسی میں ہے لیکن ہم متبادل کی کوشش میں سعی ناکام میں پڑے ہوئے ہیں جو کہ ناممکنات میں سے ہیں کیونکہ روحانی اور تکوینی معاملات کا حل مادیات میں نہیں۔
عالم دنیا کی پریشانیوں، فکروں اور بے چینیوں کی وجہ انسانی اعمال ہیں جس کی نحوست اور آلودگی سے نہ صرف خود بلکہ ہر بندہ اور سارا معاشرہ پریشان اور بے چینی کی کیفیات سے گزر رہا ہے۔ اس نحوست، گندگی اور جراثیم کی تریاق کا ایک ہی علاج ہے اور وہ حکمت والی ذات، حکیم الحکماء اور لاعلاج مریضوں کی شفاء دینے والی ذات نے اپنی طرف متوجہ ہونے میں رکھی ہے۔ توبہ اور استغفار کے عمل سے ہم رجوع الی اللہ کے اس در میں داخل ہوں گے جہاں پریشانی اور مشکلات نہ صرف حل ہوں گے بلکہ اللہ تعالٰی کی قرب حاصل کرکے رحمتوں اور برکتوں میں پلیں گے بڑھیں گے۔
Comments are closed.