مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی
جویریہ امانت (سیالکوٹ)
سید شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ پاکستان کے اسلامی دینی اور سیاسی میدان میں ایک قد آور شخصیت تھے۔ قیام پاکستان کے وقت آپ متحدہ برطانوی ہند میں ایک طالب علم اور تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد پاکستان چلے آئے۔ بطلِ حریت، حق گو مجاہد علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی بن مبلغِ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی بن شاہ عبدالحکیم جوش صدیقی ۱۷؍رمضان المبارک ۱۳۴۴ھ/ ۳۱؍مارچ ۱۹۲۶ء میں میرٹھ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔ اسی نسبت سے آپ صدیقی کہلاتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی قادری (م۱۹۵۴ء) امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان بریلوی کے خلیفۂ مجاز تھے اور شاہ عبدالحکیم صدیقی برصغیر کے نامور صوفی، عالم دین اور شاعر تھے۔ آپ ۲؍اپریل ۱۸۹۲ھ بمطابق ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ میں بمقام میرٹھ (یو پی) پیدا ہوئے۔ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا تھا۔ حفظِ قرآن کے بعد ثانوی تعلیم کے لیے ایسے اسکول میں داخلہ لیا جہاں ذریعۂ تعلیم عربی تھی۔ سولہ برس کی عمر میں جامعہ اسلامیہ قومیہ میرٹھ سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔ ۱۹۱۷ میں بی اے پاس کیا۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان قدس سرہ العزیز سے بیعت کی اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔ آپ نے چالیس سال تک افریقہ، امریکہ، کینیڈا، انڈونیشیا، سنگاپور، ملایا وغیرہ کئی دوسرے ممالک میں اسلام کا پیغام پہنچایا جس کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زائد غیر مسلم حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ آپ نے دیگر علماء اہل سنت کے ساتھ مل کر دستور اسلامی آئین کا مسودہ تیار کیا۔ ۱۹۵۴ء میں آپ نے وصال فرمایا۔
علامہ شاہ احمد نورانی کے والد ماجد علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی قادری علیہ الرحمۃ نے دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا پیغامِ ہدایت پہنچایا اور ہزاروں؛ بلکہ لاکھوں لوگوں کو صراطِ مستقیم دکھایا۔ آپ کی وفات کے بعد یہ فریضہ آپ کے فرزند ارجمند علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے اپنے ذمہ لیا اور نہایت حسن و خوبی کے ساتھ سرانجام دیا۔ آپ کی تبلیغ سے سینکڑوں غیر مسلموں نے دولتِ اسلام سے خود کو مالا مال کیا ۔ قائدِ حزبِ اختلاف شاہ فریدالحق کی رفاقت میں امریکہ اور افریقہ کے مختلف ممالک کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورہ میں پبلک اجتماعات کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے ان ممالک کے عوام کو قادیانیوں کے مکروہ و گھناؤنے عزائم سے آگاہ کیا، نیز قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بارے میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلے سے آگاہ کیا جس کا ان ممالک میں خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا۔
پاکستان سے باہر بہت سے ممالک میں کئی تبلیغی و تعلیمی ادارے آپ کی سرپرستی میں شب و روز مصروفِ عمل ہیں۔ ۱۹۵۳ء سے ۱۹۶۴ء تک ورلڈ مسلم علماء آرگنائزیشن کے سکریٹری جنرل رہے۔
۱۹۶۹ء میں پاکستان آنے کے بعد آپ نےسب سے پہلا بیان قادیانیوں ہی کے بارے میں جاری کیا تھا۔ تحریکِ ختم نبوت (۱۹۷۴ء) میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی خاطر قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی طرف سے جو قرارداد ۳۰؍جون ۱۹۷۷ء کو پیش کی گئی، اس کا سہرا بھی علامہ شاہ احمد نورانی کے سر ہے۔ اس تحریک میں آپ کو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کا ممبر بھی منتخب کیا گیا اور آپ نے پوری ذمہ داری کے ساتھ دونوں کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کی۔ آپ نے قادیانیت سے متعلقہ ہر قسم کا لٹریچر اسمبلی کے ممبروں میں تقسیم کرنے کے علاوہ ممبروں سے ذاتی رابطہ بھی قائم کیا اور ختمِ نبوت کے مسئلہ سے انہیں آگاہ کیا۔ اگرچہ آپ ۱۹۴۹ءمیں پاکستان تشریف لاکر کراچی میں مقیم ہوگئے تھے؛ لیکن زیادہ وقت بیرونی ممالک میں تبلیغی دوروں پر رہنے کی وجہ سے آپ یہاں زیادہ متعارف نہیں تھے۔ قومی اسمبلی کے اندر علامہ شاہ احمد نورانی کی قادیانیت پر پہلی ضرب تھی جس نے بالآخر تحریک کی صورت اختیار کی اور قادیانی اپنے کیفرِ کردار کو پہنچے۔ اس کارروائی کے پیشِ نظر اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ تحریک ختمِ نبوت ۱۹۷۴ء کا سہرا جہاں پاکستان کے علماء، وکلاء، طلباء اور عوام کے سر ہے۔ اس کا اولین کریڈٹ علامہ شاہ احمد نورانی کو جاتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے ایم ایم احمد کی ملک دشمنی سے قوم اور وقت کے سربراہ کو بر وقت خبردار کیا اور قومی اسمبلی میں مسلمان کی تعریف پیش کرکے مرزائیوں کا چور دروازہ بند کردیا۔
اللہ تعالیٰ نے علامہ شاہ احمد نورانی کو جن گوناگوں صفات سے متصف کیاہے، ان میں ایک حق گوئی اور بےباکی ہے۔ چنانچہ آپ نے کبھی بھی صداقت و حق گوئی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ نورانی صاحب نے لا دینی عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ علامہ شاہ احمد نورانی کو بارگاہِ رب العزت سے محبِ رسول کا وافر حصہ عطا ہوا ہے، آپ کا لباس، اخلاق، حتی کہ گھریلو ماحول کا عربی ہونا حرمین طیبین میں بکثرت حاضری، کھانے میں عرب شریف کی کھجور مبارک ہونا اور بچوں سے عربی زبان میں گفتگو یہ تمام باتیں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ثبوت ہیں۔ علامہ شاہ احمد نورانی نے بارہا اپنی تقاریر میں فرمایا کہ ہمارا منشور لمبا چوڑا منشور نہیں ہے؛ بلکہ ہمارے منشور میں صرف دو باتیں ہیں مقامِ مصطفےٰ کا تحفظ اور نظامِ مصطفےٰ کا نفاذ۔ آپ نے تحفظ اسلام و تحفظ مقامِ مصطفےٰکی خاطر تحریری میدان میں بھی اپنی کوششیں بروئے کار لائے، چنانچہ آپ نے اسلام کی ابتدائی معلومات پر مشتمل پمفلٹ اردو، فرانسیسی، انگریزی اور دوسری زبانوں میں شائع کرکے پاکستان و بیرونِ پاکستان ان مقامات پر مفت تقسیم کرنے کے انتظامات کیے۔
16 شوال 1424ھ 11 دسمبر 2003ء کو دل کا دورہ پڑنے سے اسلام آباد میں آپ کا انتقال ہوا۔ نماز جنازہ آپ کے بیٹے انس نورانی نے پڑھائی۔ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار (کلفٹن) کے احاطے میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کو سپرد خاک کیا گیا۔
Comments are closed.