دہر میں جس کے نام سے اجالا ہے۔
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
شیطانوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ انسانیت کو تاریکی میں ڈبودیں، محبت و مودت کو عمیق غار میں دفن کردیں، سعادت و نیک بختی اور انسانیت سے محروم کردیں،کرہ ارض پر کوئی جگہ ایسی نہ ہو جہاں پر عزت، وقار اور عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داستان لکھی جائے، سینوں سے مشعل حب رسول کو نکال پھینکیں، دلوں میں جمی والہانہ لگاؤ پر ضرب لگائیں، شیطان کی مجلس شوری تو پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا؛ کہ انسانوں کو ان کے محسنین اور رب کریم سے دور کر دینا ہے، یہی ان کا مشن ہے، یہی منصوبہ حیات ہے؛ جس کی تکمیل اس کے حواریین کئے جارہے ہیں، اللہ تعالی سے بغاوت اور سرکشی کرنے والے اس کے محبوب نبی، سردار دو عالم، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں، یہودیت، عصبیت، فسطائیت اور شیطانیت کے سینے سے دودھ پی کر پروان چڑھنے والی، نفرتوں، شرانگیزیوں کی گود میں پرداخت پانے والی ہندو قوم ان دنوں سرکشی کی تمام حدیں پار کر رہی ہے، مسلمانوں کو نشانہ بناتے بناتے، انہیں موت کے گھاٹ اتارتے اتارتے اب وہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات، الزام تراشی اور بہتان بازی سے کام لے رہے ہیں، وہ مسلسل یہ جتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نبی امی کا انسانیت پر (نعوذ باللہ) کوئی احسان نہیں؛ بلکہ وہ اس سے آگے بڑھ کر وہ سب کچھ کہتے ہیں جس کے بیان سے قلم قاصر، زبان گنگ اور دل متحیر ہے؛ بالخصوص ہندوؤں کی سب سے بڑی ذات، اپنے آپ کو سردار اور سب کا مالک سمجھنے والے پنڈتوں کا ایک ٹولہ اور سرکشوں کی ایک جماعت لگاتار اپنی کم علمی، ہندواحیائیت اور مسلم دشمنی میں انسانیت کو داغدار کر رہی ہے، بعضوں نے اپنا یہ مشغلہ بنا لیا ہے کہ وہ پریس کانفرنس اور نام نہاد لیکچروں کے ذریعہ صرف اور صرف حضور کی زندگی پر طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں، سیرت کے مختلف واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، برادران وطن کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں اور اس سے بڑج مسلمانوں کے سینے میں درد کی کان بنانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بھی عجیب بات ہے کہ وہ کبھی بھی مسلم اسکالرز اور سیرت و تاریخ کے ماہرین سے بات تک نہیں کرتے، انہیں اس کی قطعاً توفیق نہیں ہوتی کہ اولوالعلم، اصحاب دانش وبینش اور محققین کے سامنے اپنی بات رکھیں اور دو/دو چار کی طرح مسائل حل کریں، جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ سب ہندوازم اور ہندو راشٹر کی تعمیر اور مسلمانوں کو ورغلانے، ان کے خلاف نفرت پھیلانے اور ملک میں اکثریت کا رعب بٹھانے کا حربہ ہے؛ کیونکہ ابلیس کی زبانی:
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اُس اُمّت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضُو
سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت ملک ہندو راشٹر کی طرف گامزن ہے، اس کی طرف سب سے بڑی رکاوٹ مسلم قوم ہے، جو ایک زندہ و جاوید اور متحرک (خواہ اس پر وقتی غنودگی ہے) ملت ہے، ہر ایک کو معلوم ہے کہ اگر مسلمانوں نے ہندوستان کی زمام اپنے ہاتھ میں لی اور انہوں نے اسلامی نور سے اسے منور کرنا شروع کیا، سربکف ہو کر ان کی پالیسیوں اور فسطائی حربوں پر قدغن لگانا شروع کیا تو یہ کہیں کے نہ رہیں گے، انہیں ہزار سالہ تاریخ ستاتی ہے کہ وہ کس طرح الگ الگ وقتوں میں مسلم حکمرانوں کے زیر سایہ رہے ہیں، وہ ان کی تلوار کی نوک اور سطوت کے زور پر زندگی کی سانسیں ان سے ادھار لیکر جیتے رہے، جس کا خوف انہیں خواب گاہوں میں پیچھا نہیں چھوڑتا، یقیناً یہ ہندوؤں کا تعصب، گھناؤناپن اور گھٹیاپن ہی ہے؛ کہ آج سیاسی زور پالینے، تعداد میں بڑھ جانے اور زمام اقتدار وقتی طور پر تھام لینے کے بعد الٹے پاؤں لوٹنے کی راہ پر ہیں، وہ مسلمانوں سے دشمنی اور نفرت کی پاداش میں ساری حدیں پار کرنے کو بے تاب ہیں، اس سلسلہ میں انہیں اس کی بھی پرواہ نہیں کہ محسن انسانیت کی قدر کریں، وہ تاریخ انسان کی سب سے عظیم ہستی کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ دنیا کی کوئی بھی قوم نبی مصطفی کے ساتھ زبان درازی اور بدکلامی کر کے ترقی نہ کر سکی ہے، اگر ظاہراً اس نے تعمیری و تخلیقی دنیا میں کچھ کارنامہ بھی کیا ہے تو وہ ایک مکڑی کے جالے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، وہ پوری ترقی ایک قوم کیلئے قبر ہے جس میں ایک نہ ایک دن انہیں دفن ہونا ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کو پھاڑنے کی سزا سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بَج جانا ہے، لیکن یہ تو گستاخیوں کا انبار لگا رہے ہیں، دل دہل جاتا ہے اور آنکھوں کے سامنے غشی چھا جاتی ہے؛ کہ ان کا انجام بھی وہی نہ ہوجائے! وہ پھر پانی پانی کو ترسیں گے، ایک ایک سانس ان پر بوجھ بن جائے گی، تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی شان میں گستاخی معاف کردی ہے، بدتمیزوں سے درگزر کیا ہے؛ لیکن محبوب خدا حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دست درازی کرنے والے روئے زمین پر باقی نہ رہے، زمین تنگ ہوگئی، اور وہ تمام تر وسعتوں کے باوجود محروم رہے، وہ ملعون و مطعون اور انسانی تاریخ پر ایک بدنما داغ بنکر رہ گئے، آج اگرچہ مسلمان کمزور ہیں، وہ اقلتی حیثیت میں ہیں، جمہوریت کے پاسداروں نے ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے؛ لیکن ہمارے دل مغموم ہیں، ہم شرمندہ ہیں، نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں معافی کے طلبگار ہیں، اے خاصہ خاصان رُسل ہم شرمندہ ہیں – – مگر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ آپ کی سیرت ایک ایک فرد تک پہنچائیں گے، اور ان دلوں کے اندھوں کو شمع نبوت سے روشن کریں گے، غلط فہمیاں دور کر کے ردائے رحمت کی طرف بلائیں گے، تاکہ وہ سمجھ جائیں "بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر”-
Comments are closed.